• صارفین کی تعداد :
  • 1893
  • 6/11/2011
  • تاريخ :

مخالفين صلح

مخالفين صلح

پيمان صلح کچھ مسلمانوں خصوصاً مہاجرين کي ناراضگي کا باعث ہوا ہر چيز سے زيادہ صلح نامہ کي دوسري شرط سے مسلمانوں کو تکليف ہوئي کہ جس ميں مسلمانوں کے پاس پناہ لينے والوں کو واپس کر دينے کو لازم قرار ديا گيا ہے۔ مخالفين صلح ميں سب سے آگے عمر بن خطاب تھے واقدي کي روايت کے مطابق عمر اور ان کے ہمنوا افراد رسول خدا کي خدمت ميں پہنچے اور کہا کہ اے اللہ کے رسول کيا آپ نے نہيں کہا تھا کہ جلد ہي آپ مکہ ميں وارد ہوں گے اور کعبہ کي کنجي لے ليں گے اور دوسروں کے ساتھ عرفات ميں وقوف کريں گے؟ اور اب حالت يہ ہے کہ نہ ہماري قرباني خانہ خدا تک پہنچي اور نہ ہم خود پہنچے۔  رسول خدا نے عمر کو جواب ديا کہ کيا ميں اسي سفر ميں خانہ خدا تک پہنچنے کے ليے کہا تھا؟ عمر نے کہا: ”نہيں“ پھر رسول مقبول نے عمر کي طرف رخ کيا اور فرمايا کہ ”آيا احد کا دن بھول گئے جس دن تم بھاگ رہے تھے اپنے پيچھے مڑ کر نہيں ديکھتے تھے اور ميں تمہيں پکا رہا تھا؟ کيا تم احزاب کا دن بھول گئے؟ کيا تم فلاں دن بھول گئے؟“

”مسلمانوں نے کہا اے اللہ کے رسول جو آپ نے سوچا ہے وہ ہم نے نہيں سوچا ہے۔ آپ خدا اور اس کے حکم کو ہم سے بہتر جانتے ہيں۔“

اسي طرح جب صلح نامہ لکھا گيا تو عمر اپني جگہ سے اٹھ کر رسول خدا کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رطسول کيا ہم مسلمان نہيں ہيں؟“ آپ نے فرمايا: ”بے شک ہم مسلمان ہيں۔“ عمر نے کہا کہ ”پھر دين خدا ميں ہم کيوں ذلت اور پستي برداشت کريں؟ آپ نے فرمايا کہ ميں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اس کے حکم کي مخالفت ہرگز نہيں کروں گا۔ اور وہ بھي ہم کو تباہ نہيں کرے گا۔

عمر بن خطاب نقل کرتے ہيں کہ ميں نے کبھي بھي حديبيہ کے دن کي طرح اسلام کے بارے ميں شک نہيں کيا۔

ابو بصير کي داستان اور شرط دوم کا ختم ہو جانا

ابوبصير نامي ايک مسلمان جو مدت سے مشرکين کي قيد ميں زندگي گزار رہے تھے مدينہ بھاگ آئے قريش نے پيغمبر کے پاس خط لکھا اور ياد دلايا کہ صلح حديبيہ کي شرط دوم کے مطابق ابوبصير کو آپ واپس کر ديں خط کو بني عامر کے ايک شخص کے حوالہ کيا اور اپنے غلام کو اس کے ساتھ کر ديا۔ رسول خدا نے جو معاہدہ کيا تھا اس کے مطابق ابوبصير سے کہا تمہيں مکہ لوٹ جانا چاہيے۔ کيونکہ ان کے ساتھ حيلہ بازي سے کام لينا کسي طرح بھي صحيح نہيں ہے، ميں مطمئن ہوں کہ خدا تمہاري اور دوسروں کي آزادي کا وسيلہ فراہم کرے گا۔

ابوبصير ن کہا کہ کيا آپ مجھ کو مشرکين کے سپرد کر رہے ہيں تاکہ وہ مجھ کو دين خدا سے بہکا ديں؟ رسول خدا نے پھر وہي بات دہرائي اور ان کو قريش کے نمائندہ کے سپرد کر ديا۔ جب وہ لوگ مقام ذوالحليفہ ميں پہنچے تو ابوبصير نے ان محافظين ميں سے ايک کو قتل کر ديا اور اس کي تلوار اور گھوڑے کو غنيمت کے طور پر لے ليا اور مدينہ لوٹ آئے? جب رسول خدا کي خدمت ميں پہنچے تو کہا: ”اے اللہ کے سرول آپ نے اپنے عہد کو پورا کيا اور مجھے اس قوم کے سپرد کر ديا ميں نے اپنے دين کا دفاع کيا تاکہ ميرا دين برباد نہ ہو۔“

ابوبصير چونکہ مدينہ ميں نہيں رہ سکے اس ليے آپ صحرا کي طرف چلے گئے اور دريائے سرخ کے ساحل پر مکہ سے شام کي طرف جانے والے قافلوں کے راستہ ميں چھپ گئے اور دريائے سرخ کے ساحل پر مکہ سے شام کي طرف جانے والے قافلوں کے راستہ ميں چھپ گئے جو لوگ مکہ ميں مسلمان ہوئے تھے اور قرارداد کے مطابق مدينہ نہيں آسکتے تھے وہ ابوبصير کے پاس چلے جاتے تھے رفتہ رفتہ ان کي تعداد زيادہ ہوگئي۔ گروہ قريش کے تجارتي قافلوں پر حملہ کرکے ان کو نقصان پہنچانے لگے۔ قريش نے اس آفت سے بچنے کے ليے پيغمبر کو خط لکھا اور ان سے عاجزانہ طور پر يہ خواہش کي کہ ابوبصير اور ان کے ساتھيوں کو مدينہ بلاليں اور پناہ گزينوں کو واپس کرنے والي شرط صلح نامہ کے متن سے حذف ہو جائے۔

صلح حديبيہ کے نتائج کا تجزيہ

پے درپے جنگ ايک دوسرے سے براہ راست ملاقات سے رکاوٹ بني ہوئي تھي ليکن اس صلح نے فکروں کے آزادانہ ارتباط اور اعتقادي بحث و مباحثہ کا راستہ کھول ديا۔ يہ عرب معاشرہ ميں اسلام کي نئي منطق اور دلوں ميں اسلام کے نفوذ کي وسعت کا ذريعہ بني اور وہ اس طرح کہ صلح حديبيہ والے سال پيغمبر کے ساتھ مسلمانوں کي تعداد چودہ سو تھي اور فتح مکہ والے سال دس ہزار افراد رسول خدا کے ساتھ تھے۔

صلح کے ذريعہ داخلي امن و امان قائم ہو جانے کے بعد اسلام کي عالمي تحريک کو سرحدوں کے پار لے جانے اور عالمي پيغام کو نشر کرنے کے ليے رسول خدا کو موقع مل گيا۔

يہ صلح درحقيقت تحريک اسلامي کو مٹانے کے ليے وجود ميں آنے والے ہر طرح کے نئے جنگي اتحاد کے ليے مانع بن گئي۔ لہذا لشکر اسلام کے ليے ايک ايسا موقع ہاتھ آگيا کہ وہ اپنے بڑے دشمنوں جيسے خيبر کے يہودي کو اپنے راستہ سے ہٹا سکيں۔ خاص کر صلح کے فوائد کے بارے ميں امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں کہ ”پيغمبر کي زندگي ميں کوئي واقعہ صلح حديبيہ سے زيادہ فائدہ مند نہيں تھا۔“

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

تبليغ اسلام کے سلسلے ميں چند پيچيدگياں اور اُن کے حل

مدينہ لشکر کفار کے محاصرے ميں

لشکر کي روانگي سے رسول خدا کي آگاہي

غزوہ خندق (احزاب)

غزوہ ذات الرقاع  و غزوہ دومة الجندل