• صارفین کی تعداد :
  • 2314
  • 6/11/2011
  • تاريخ :

غزوہ بني مصطلق يا مريسيع

غزوہ بني مصطلق يا مريسيع

شعبان سنہ ۶ ہجری

رسول خدا کو خبر ملی کہ بنی مصطلق، سپاہ اسلام سے جنگ کرنے کی غرض سے اسلحے اور طاقتیں جمع کرنے کی فکر میں ہیں۔ رسول خدا نے اس رپورٹ کی صحت کی تحقیق کے لیے ”بریدة بن حصیدہ اسلمی“ کو اس علاقہ میں بھیجا، بریدہ، بنی مصطلق کی طرف روانہ ہوئے اور انجان بن کے قبیلہ کے سردار سے رابطہ قائم کیا اور واپسی پر ایک رپورٹ میں اس خبر کے صحیح ہونے کی تائید کی۔

رسول خدا نے ابوذرغفاری کو مدیہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور ہزار جاں بازوں کے ساتھ دو شنبہ کے دن دوسری شعبان کو دشمن کی طرف چل پڑے اور چاہ مریسیع کے پاس خیمہ زن ہوئے اس غزوہ میں کچھ وہ منافقین بھی مالِ غنیمت کی لالچ میں لشکر اسلام کے ساتھ ہوگئے۔ جو کسی جنگ میں حضرت کے ساتھ نہیں تھے۔

مقام مریسیع میں دونوں لشکروں کی صفیں آراستہ ہوئیں۔ فرمان رسول خدا کے بموجب تھوڑی دیر تک تیر اندازی کے نتیجہ میں بنی مصطلق ہار گئے اور ان میں ایک آدمی بھی فرار نہ کرسکا۔ ان کے دس آدمی مقتول اور بقیہ اسیر ہوئے۔ اور اس حملہ میں ایک مسلمان بھی شہید نہیں ہوا۔ اس جنگ میں دو ہزار اونٹ پانچ ہزار گوسفند ہاتھ آئے اور دو سو خاندان اسیر ہوئے۔

حادثہ

جنگ ختم ہونے کے بعد لوٹتے وقت ایک چھوٹا سا حادثہ پیش آگیا۔ اگر رسول خدا اس پر مخصوص مہارت کے ساتھ قابو نہ پاگئے ہوتے تو اسلام کے لیے ایک نیا خطرہ بن جاتا۔

پانی کے بارے میں جھجاہ غفاری غلامِ عمر بن خطاب جو مہاجرین میں سے تھے اور سنان جھنی سے رخت سفر باندھ کر نکل جائیں۔

کوچ کا حکم ہونے کے بعد لشکر اسلام ایک رات دن مسلسل چلتا رہا۔ یہاں تک کہ آفتاب ان کے سر پر پہنچ گیا۔ اس وقت ٹھہرنے کا حکم دیا گیا۔ جاں باز اسلام تھکن کی وجہ سے خاک پر پڑ رہے اور گہری نیند سو گئے۔ اس اطمینان اور خوشی کے ساتھ جو ایک لمبی اور غیر معمولی تھکن کے بعد روح و اعصاب کو حاصل ہوتی ہے۔ کدورتیں دلوں سے نکل گئیں اور کینہ کی آگ خودبخود بجھ گئی۔

باپ اور بیٹے میں فرق

عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے سمجھا کہ رسول خدا اس کے باپ کے قتل کا فرمان صادر کریں گے۔ تو فوراً رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے رسول اللہ! سب لوگ جانگے ہیں کہ کوئی بھی میری طرح باپ سے نیک برتاؤ نہیں کرتا لیکن اگر آپ کا فرمان یہ ہے کہ وہ قتل کیا جائے تو آپ حکم دیں میں خود قتل کروں گا۔

رسول خدا نے جواب دیا نہیں تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ پیغمبر کے بزرگانہ سلوک نے ابن ابی کے دوستوں کے درمیان اس کی حیثیت و شخصیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ کھلم کھلا اس کی سرزنش کرنے لگے۔

رسول خدا نے عفو و درگزر کے حربہ سے خطرناک داخلی دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ایک دن جناب عمر سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ جس دن تم اس کو قتل کرنے کے لیے کہہ رہے تھے اگر میں اس کو قتل کر دیتا تو اس کے دفاع میں بجلیاں کوندتیں۔ لیکن اگر آج ہم اس کے قتل کا حکم دے دیں تو لوگ اس کی جان کو آجائیں گے۔(تاریخ طبری ج۲ ص ۶۰۸)

جو انصار میں سے آپس میں الجھ گئے، سنان نے مدد کے لیے آواز دی اے انصار! اور جھجاہ نے مدد کے لیے پکارا۔ اے مہاجرین! نزدیک تھا کہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہو جائے۔ منافقین کے سربدار عبداللہ بن ابی نے موقع کو غنیمت جانا اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے بولا:

خدا کی قسم! ہمارا اور ان جلابیب کا معاملہ اس مثل جیسا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا کرو تاکہ وہ تمہیں کو کاٹ کھائے۔ لیکن خدا کی قسم! جب ہم مدینہ پلٹ کے جائیں گے تو چونکہ ہم مدینہ کے باعزت لوگ ہیں اس لیے ان زبوں حال اور بے چارہ مہاجرین کو باہر نکال دیں گے۔(طبقات ج۲ ص ۶۰۴، منافقون:۸)

زید بن ارقم نے حضور کو خبر دی

زید بن ارقم نے جب عبداللہ بن ابی کی باتیں سنیں تو رسول خدا کے پاس گئے اور اس کی سازش آمیز اور منافقانہ باتوں کو پیغمبر کے سامنے نقل کر دیا۔ رسول خدا نے زید کی خبر کے بارے میں وحی کے ذریعہ اطمینان حاصل کرلینے کے بعد زید کے کان کو پکڑ کر کہا کہ یہ اس شخص کے کان ہیں جس نے اپنے کانوں کے ذریعہ خدا سے وفا کی ہے۔

عبداللہ بن ابی نے جب زید کی رپورٹ کی خبر سنی تو رسول اللہ کے پاس پہنچا اور حضرت کے سامنے جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں ایسی بات نہیں کہی ہے اور چونکہ وہ اپنے قبیلہ کے درمیان بزرگوں اور صاحب احترام شخصیتوں میں شمار کیا جاتا تھا اس لیے انصار میں سے کچھ لوگ پیغمبر کے حضور میں پہنچے، ابی کے فرزند کی حمایت میں انہوں نے کہا کہ شاید زید نے ایسی بات کا وہم کیا ہو یا ان کے کانوں نے غلط سنا ہو۔ یہاں تک کہ سورہ منافقون کے نازل ہونے کے بعد اس پاک دل نوجوان کو اطمینان حاصل ہوا اور عبداللہ بن ابی ذلیل ہوا۔(تاریخ طبری ج۲ ص ۶۰۶)

عمر بن خطاب نے اس واقعہ کو سننے کے بعد رسول خدا سے خواہش ظاہر کی کہ عبداللہ بن ابی کو قتل کر دیا جائے۔ لیکن آنحضرت نے فرمایا کہ ایسی صورت میں دشمن کہیں گے کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں مصلحت یہ ہے کہ ہم جلد سے جلد نکل چلیں تاکہ باطل اندیشے دلوں ۔

بنی مصطلق، اسلامی تحریک میں شامل

جب رسول خدا نے مالِ غنیمت اور اسیروں کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا تو اس وقت رئیس قبیلہ ”حارث بن ضرار“ کی بیٹی ”جویریة“ ایک مسلمان کے حصہ میں آئیں انہوں نے اپنے آقا سے قرارداد کرلی کہ میں اتنی رقم لے کر آزاد ہو جاؤں گی لیکن ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ان کی صرف ایک امید تھی، پیغمبر کا لطف و مہربانی، پیغمبر کے پاس آئیں اور کہا:

”میں حارث کی بیٹی ہوں اور اسیر ہو کر آئی ہوں۔ اور اس وقت میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ کچھ پیسے ادا کرکے میں آزاد ہو جاؤں، اے اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اس پیسے کو ادا کرنے میں آپ میری مدد فرمائیں۔ رسول خدا نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ میں تمہارے لیے اس سے بہتر کام انجام دوں؟ جن پیسوں کی تم قرض دار ہو اس کو میں ادا کر دوں پھر تم سے شادی کرلوں۔ جویریة اس پیشکش سے مسرور ہوگئیں۔

جویریہ سے رسول خدا کی شادی کی خبر اصحا میں پھیل گئی لوگوں نے بنی مصطلق کے پیغمبر کے رشتہ دار بن جانے کے احترام میں اپنے اسیروں کو آزاد کر دیا۔ جب بنی مصطلق نے لشکر اسلام کا یہ بڑا پن اور درگزر دیکھا تو وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور ایک بابرکت شادی کی بنا پر سب کے سب اسلامی تحریک میں شامل ہوگئے۔

(تاریخ ج۲ ص۶۲)

ایک فاسق کی رسوائی

بنی مصطلق کے مسلمان ہو جانے کے بعد رسول خدا نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو ان کی طرف زکوٰة وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ بنی مصطلق نے جب یہ سنا کہ پیغمبر کا نمائندہ ان کی طرف آرہا ہے تو وہ ان کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے لیکن ولید ڈر گیا اور اس نے خیال کیا کہ وہ لوگ جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ لہٰذا اس نے مدینہ واپس آکر رسول خدا سے کہا کہ وہ لوگ مجھے قتل کر ڈالنا چاہتے تھے اور انہوں نے زکوٰة ادا کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

بنی مصطلق کے ساتھ دوبارہ جنگ کی باتیں لوگوں کی زبان پر چڑھ گئیں اس واقعہ کے بعد بنی مصطلق کا ایک وفد مدینہ آیا اور اس نے حقیقت بیان کی۔ اس واقعہ کے بارے میں آیت اتری۔

”اے ایمان لانے والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی کی بنا پر لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچا دو پھر جب معلوم ہو کہ فاسق نے جھوٹ بولا تھا جو کچھ کیا ہے اس پر تم کو پشیمانی ہو۔“

(حجرات:۶)

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

غزوہ خندق (احزاب)

غزوہ ذات الرقاع  و غزوہ? دومة الجندل

غزوہ بدر موعد

غزوہ بني نضير

سريہ عمرو بن اميہ