• صارفین کی تعداد :
  • 2327
  • 6/7/2011
  • تاريخ :

غزوہ ذات الرقاع  و غزوہ دومة الجندل

غزوہ ذات الرقاع  و غزوہ دومة الجندل

 بتاریخ چہار شنبہ دسویں محرم سنہ ۵ ہجری کو

غزوہ بنی نضیر کے بعد رسول خدا کو یہ خبر ملی کہ قبیلہ غطفان یعنی بنی ثعلبة اور بنی محارب نے مسلمانوں سے جنگ کے لیے کچھ لشکر جمع کر رکھا ہے۔ رسول خدا نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے مدینہ میں جناب ابوذر کو اپنا جانشین بنایا اور خود چار سو کا لشکر لے کر نجد کی طرف روانہ ہوئے، آپ دشمن کے عظیم لشکر کے روبرو ہوئے مگر دشمن کو خوف و دہشت نے گھیر لیا اور کسی طرح کے ٹکراؤ سے پہلے ہی متفرق ہوگئے۔

اس سفر میں اس اضطراری حالت میں چونکہ دشمن کے حملہ کا خوف تھا اس لیے رسول خدا نے لشکر اسلام کے ساتھ نماز خوف ادا کی۔ پیغمبر کے سفر کی کل مدت ۱۵ روز تھی۔ (سیرت ہشام ج۲ ص۲۱۳)

غزوہٴ دومة الجندل

روانگی یکشنبہ ۲۵ ربیع الاول سنہ ۵ ہجری

مدینہ میں واپسی ۲۰ ربیع الثانی

مخبروں نے رسول خدا کو خبر دی کہ دومتہ الجندل میں بہت سے لوگ جمع ہوگئے ہیں اور مسافروں کا راستہ روکنے کے علاوہ ان پر ظلم و ستم بھی ڈھا رہے ہیں ان کا قصد یہ ہے کہ مدینہ پر حملہ کر دیں، رسول خدا نے سباع بن عرفطہ غفاری کو مدینہ میں اپنا جانشین معین فرمایا اور ہزار آدمیوں کے لشکر کے ساتھ دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوگئے۔

آنحضرت کے سپاہی راتوں کو راستہ طے کرتے اور دن کو دروں میں چھپ کر آرام کرتے تھے، دشمن کو لشکر اسلام کی روانگی کا پتہ چل گیا۔ اور ان پر ایسا رعب طاری ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور اس علاقہ سے دشمن تیزی سے بھاگ گئے۔

رسول خدا اس علاقہ میں قیام پذیر رہے اور آپ نے مختلف دستوں کو اطراف و جوانب میں بھیجا تاکہ خبر ملنے پر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ آپ ۲۵ روز کے بعد مدینہ پلٹ آئے۔ لوٹتے وقت فراز نامی شخص سے جس کا قبیلہ قحط سے متاثر ہوا تھا آپ نے معاہدہ کیا اور ان کو اجازت دی کہ وہ مدینہ کے اطراف کی چراگاہوں سے استفادہ کریں۔

اس غزوہ کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ سے دور دراز کے علاقوں تک جادہ پیمائی اور خشک و ہولناک صحراؤں سے بعور کرنے میں مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ ہوا اور دوسری طرف اسلام مشرقی روم کی سرحدوں تک نفوذ کرگیا اور یہ فوجی تحریک رومیوں کی تحقیر کا موجب بنی۔ مسعودی کی تحریر کے مطابق، تاریخ اسلام میں روم کی بڑی طاقت کے ہاتھوں کی کھلونا حکومت کے ساتھ فوجی مقابلہ کے لیے یہ پہلا قدم تھا۔

(النبیہ والاشراف۲۱۵۲)

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

بئر معونہ کا واقعہ

رجيع کا واقعہ

پنجشنبہ يکم محرم سنہ ? ہجري قمري ميں

ابو عزہ شاعر کي گرفتاري

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں (حصّہ سوّم )