• صارفین کی تعداد :
  • 2874
  • 5/18/2011
  • تاريخ :

کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ہیں؟

قرآن حکیم

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں متشابہ آیات کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ قرآن مجید نور، روشنی، کلام حق اور واضح ہے نیزلوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے تو پھر قرآن مجید میں اس طرح کی متشابہ آیات کیوں ہیں اور قرآن مجید کی بعض آیات کا مفہوم پیچیدہ کیوں ہے کہ بعض اوقات شرپسندوں کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا مو قع مل جاتا ہے ؟

یہ موضوع در حقیقت بہت اہم ہے جس پر بھر پورتوجہ کرنے کی ضرورت ہے، کلی طور پر درج ذیل چیزیں قرآن میں متشابہ آیات کا راز اور وجہ ہو سکتی ہیں :

۱۔ انسان جو الفاظ اور جملے استعمال کرتا ہے وہ صرف روز مرّہ کی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں ، اسی وجہ سے جب ہم انسان کی مادی حدود سے باہر نکلتے ہیں مثلاً خداوندعالم جو ہر لحاظ سے نامحدود ہے، اگر اس کے بارے میں گفتگو کر تے ہیں تو ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے الفاظ ان معانی کے لئے کما حقہ پورے نہیں اترتے، لیکن مجبوراً ان کو استعمال کرتے ہیں ، کہ الفاظ کی یہی نارسائی قرآن مجید کی بہت سی متشابہ آیات کا سرچشمہ ہیں ، <یَدُ اللهِ فَوقَ اٴیدِیہم>(سورہ فتح/۱۰) یا <الرَّحمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ استَویٰ>(سورہ طٰہ/۵) یا <إلیٰ رَبِّہَا نَاظِرَةِ>(سورہ قیامت/۲۳) یہ آیات اس چیز کا نمونہ ہیں نیز ”سمیع“ اور ”بَصِیرٌ“ جیسے الفاظ بھی اسی طرح ہیں کہ آیات محکمات پر رجوع کرنے سے ان الفاظ اور آیات متشابہات کے معنی بخوبی واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔

۲۔ بہت سے حقائق دوسرے عالم یا ماورائے طبیعت سے متعلق ہوتے ہیں جن کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں، چونکہ ہم زمان و مکان میں مقید ہیں لہٰذا ان کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اورہمارے افکار کی نارسائی اور ان معانی کا بلند و بالا ہونا ان آیات کے تشابہ کا باعث ہے جیسا کہ قیامت وغیرہ سے متعلق بعض آیات موجود ہیں۔

یہ بالکل اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص شکم مادر میں موجود بچہ کو اس دنیا کے مسائل کی تفصیل بتانا چاہے، تو بہت ہی اختصار اور مجمل طریقہ سے بیان کرنے ہوں گے کیونکہ اس میں صلاحیت اور استعداد نہیں ہے۔

۳۔ قرآن مجید میں متشابہ آیات کا ایک راز یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کا کلام اس لئے پیش کیا گیا تاکہ لوگوں کی فکر و نظر میں اضافہ ہو ، اور یہ دقیق علمی اور پیچیدہ مسائل کی طرح ہیں تاکہ دانشوروں کے سامنے بیان کئے جائیں اور ان کے افکار پختہ ہوں اور مسائل کی مزید تحقیق کریں ۔

۴۔ قرآن کریم میں متشابہ آیات کے سلسلہ میں ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جس کی تائید اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے بھی ہو تی ہے: قرآن مجید میں اس طرح کی آیات کا موجود ہونا انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی ضرورت کو واضح کرتا ہے تاکہ عوام الناس مشکل مسائل سمجھنے کے لئے ان حضرات کے پاس آئیں، اور ا ن کی رہبری و قیادت کو رسمی طور پر پہچانیں، اور ان کے تعلیم دئے ہوئے دوسرے احکام اور ان کی رہنمائی پر بھی عمل کریں ، اور یہ بالکل اس طرح ہے کہ تعلیمی کتابوں میں بعض مسائل کی وضاحت استاد کے اوپر چھوڑدی جا تی ہے تاکہ شاگرد استاد سے تعلق ختم نہ کرے اور اس ضرورت کے تحت دوسری چیزوں میں استاد کے افکار سے الہام حاصل کرے ، خلاصہ یہ کہ قرآن کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور وصیت کے مصداق پر عمل کریں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

”إنِّي َتارکٌ فِیکُمُ الثَّقلین کتابَ اللهِ وَ اٴہلَ َبیتي وَ إنّہما لن یَفترقا حتّٰی یَرِدَا عَلیَّ الْحَوضِ“۔

” یقینا میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسرے میرے اہل بیت، اور (دیکھو!) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں“ (1) (2)

حوالہ جات :

(1) مستدرک حاکم ، جلد ۳، صفحہ ۱۴۸

(2)تفسیر نمو نہ ، جلد ۲،صفحہ

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

افلاک و زمیں

اختتاميہ كلمات

ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردے

كتاب آسمانی سے  مراد کیا ہے؟

عدم تحريف پر عقلى اور نقلى دليليں