• صارفین کی تعداد :
  • 1973
  • 4/18/2011
  • تاريخ :

فلسفہٴ قربانی (حصّہ سوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

مگر ایک حقیقت کی طرف توجہ دلاؤں کہ کہہ رہے ہیں: "اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے"۔ یعنی اتنے عظیم امتحان میں کامیابی کے بعد منفرد صابر ہونے کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ کہتے ہیں کہ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جماعت صابرین کی سامنے ہے جس سے ملحق ہوجانا اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اب عزم کی منزل میں بات طے ہوگئی کہ باپ بھی تیار، بیٹا بھی تیار۔ اب جب عمل کی منزل آئی تو اسے قرآن مجید نے کس طرح ادا کیا، کتنی تفصیل سے تذکرہ کیا مگر یہاں انتہائی اختصار سے"فَلَمَّا اَسْلَمَا"، یہ اس عظیم امتحان کی کامیابی کیلئے جب آئے ہیں باپ اور بیٹے دونوں، "اسلما" تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اگر الف نہ ہوتا تو واحد کا صیغہ ہوتا اور جب "اَسْلَمَا" ہوگیا تو دو کا صیغہ ہوگیا۔

مطلب یہ ہے کہ دونوں حکم کی تعمیل کیلئے آگئے۔ مگر اسے کس لفظ سے قرآن مجید نے ادا کیا ہے، وہ قیامت تک کے ہر مسلمان کیلئے قابل لحاظ ہے۔ کتنا عظیم امتحان اور اس کی تیاری کیلئے آنا اور اس کی تعمیل کیلئے آنا اور اس کو ایک لفظ میں "فَلَمَّا اَسْلَمَا"، جب وہ دونوں عملاً مسلم ہوکر آگئے، اس کے معنی یہ ہیں کہ قربانی اتنی اہم ہے کہ جزوِ اسلام ہے کہ ایسی عظیم قربانی کیلئے قرآن مجید لفظ ِ اسلام کو منتخب کرتا ہے۔

"لَمَّا اَسْلَمَا"، جبکہ بالکل مسلم ہوکر وہ آگئے۔ پھر اس کے بعد "وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ"، اس نے یعنی باپ نے اس کو یعنی بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹایا۔ خواب میں آپ سن ہی چکے ہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے تھے؟ "اِنِّیْ اَذْبَحُکَ"، میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ اب یہاں قرآن مجید گویا سننے والوں کے آبگینہٴ خاطرات نے نازک دیکھ رہا ہے کہ اس منظر کا تذکرہ وہ لفظوں میں بھی نہیں سن سکتے، لہٰذا بس یہاں پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ"تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ"، پیشانی کے بل لٹایا۔ گویا خلاق یہ کہہ رہا ہے کہ اب ہم سے نہ سنو کہ کیا کیا؟ وہی کیا جو حکم ہوا تھا۔ اب اس کا کوئی ذکر نہیں۔ بس تمہید اس کی جو ہے کہ پیشانی کے بل لٹایا، اسی کا ذکر ہے۔

"تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَااِبْرَاہِیْمُ"۔

اور بس جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کی اور ہم نے آواز دی کہ بس! اے ابراہیم ۔ کیا؟

"قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء"۔

"تم نے خواب سچ کردکھایا"۔

بس بس۔ اب یہاں عام طور پر اکثر مقررین ممکن ہے کہ بعض واعظین سے بھی آپ نے سنا ہو ، یہ کہہ دیتے ہیں کہ خالق نے اپنا حکم اٹھا لیا یعنی منسوخ کردیا۔ حکم میں تبدیلی پیدا کردی۔ مگر مجھے اس سے قطعاً تعلق نہیں ہے۔ یہ تصور غلط ہے، اس کو از روئے عقل بھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اور قبل میں جو خطاب ہوا تھا، اس کی بناء پر بھی عقل و قرآن کی شرکت سے بھی پیش کروں گا اور پھر تنہا قرآن سے بھی اس کو پیش کروں گا۔ عقلی بات تو یہ ہے، ذرا غور کیجئے کہ اکثر نتائج غیر اختیاری ہوتے ہیں کیونکہ اسباب کی آخری کڑی اپنے ارادہ سے ہوتی ہے۔ لہٰذا آخر تک نتیجہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کی مثال دینے میں مَیں نے دوسرے کی جان لینے میں آسانی سمجھی تھی جدید طریقے سے کیونکہ وہاں فاصلہ میں دکھا سکتا تھا کہ گولی بندوق سے رہا ہوگئی اور ابھی وہاں تک پہنچی نہیں۔ اب بیچ میں جتنا فاصلہ ہے، ابھی وہ شخص قتل نہیں ہوا مگر بے بس ہے۔

میں نے یہ طریقہ کیوں پسند کیا؟ اس لئے کہ چھری و غیرہ یا تلوار کے طریقہ میں فاصلہ میں نہیں دکھا سکتا تھا۔ وہاں خود کشی میں دریا والا طریقہ اپنے مطلب کا سمجھا کہ وہاں پل سے لے کر دریا تک ایک مسافت ہے اور یہاں میں نے یہ طریقہ اپنے مقصد کیلئے زیادہ مناسب سمجھا ہے ۔ مگر اب یہاں مجھے اس مشکل کو آسان کرنا ہے کہ میں ذبح کی منزل میں دکھاؤں کہ اختیار کہاں سلب ہوتا ہے اور بے اختیاری کی صورت میں نتیجہ کیون مرتب ہوتا ہے؟ وہاں میں اس مشکل میں نہیں پڑا مگر یہاں مجبوراً اس مشکل میں پڑنا ہے۔

تو اب میں آپ سے فیصلہ چاہتا ہوں۔ مگر ایک عقلی بات کہ ہمیشہ تکلیف ِشرع اختیاری فعل سے متعلق ہوتی ہے جو انسان کے ارادے سے متعلق ہو۔ تو دیکھئے کہ ذبح کی منزل میں جو افعال ارادے سے ہوں، وہ کیا کیا ہیں؟ جسے ذبح کرنا ہے، اُسے سامنے لٹائیے، ایک یہ کام۔ وہ کوئی دھار دار چیز ہاتھ میں لے جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوں، یہ دوسرا کام جو ارادے سے متعلق ہے۔ تیسرا کام ہاتھ کو وہ جنبش دینا جس رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اب ہر صاحب ِعقل جائزہ لے کہ ان میں سے کونسی بات جنابِ ابراہیم نے نہیں کی۔ کیا بیٹے کو سامنے نہیں لٹایا؟ کسی اور کو لٹایا؟ تو قرآن کہہ رہا ہے کہ اسی کو "تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ"، اسی کو سامنے لٹایا۔ کیا چھری ہاتھ میں نہیں لی؟ کوئی نمائشی چیز ہاتھ میں لی؟ نہیںِ یہ غلط۔ پھر چھری ہاتھ میں لی۔ اب زیادہ نازک مرحلہ تیسرا ہے۔ کیا ہاتھ کو وہ جنبش نہیں د ی جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں؟ اگر ہاتھ کو وہ جنبش نہیں دی تو وہ گوسفند بھی کیونکر ذبح ہوا جو فدیہ میں آیا تھا؟ اس لئے کہ اس گوسفند کے ذبح کی نیت تھی۔ اسی سے وہ گوسفند ذبح ہوا ہے۔

مصنف: علامہ سید علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ


متعلقہ تحریریں:

 اسلام نے خمس کا حکم کیوں دیا ھے ؟

فلسفہ خمس دلایل مذھب شیعہ

خمس اھل سنت کی نظر میں

خمس مذھب شیعہ کی نظر میں

ترویج اذان؛ اھل سنت كی نظر میں