• صارفین کی تعداد :
  • 883
  • 4/11/2011
  • تاريخ :

بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کے سنگين نتائج برآمد ہونگے

علی اکبر صالحی


اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے مستقبل میں سنگین نتائج برآمد ہونگے سعودی عرب کو اپنی فوج بحرین کے بجائے غزہ بھیجنی چاہیے تھی ۔


مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اروگوئہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے مستقبل میں سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے اشاروں پر سعودی عرب نے اپنی فوج بحرین میں مسلمانوں کو کچلنے کے لئے بھیجی ہے صالحی نے کہا کہ امریکی وزير دفاع کے بحرین اور سعودی عرب کے دورے کے ایک دو دن بعد سعودی عرب نے اپنی فوج بحرین کے نہتے اور مظلوم عوام کو کچلنے کے لئے روانہ کردی۔ انھوں نے کہا کہ سپر دفاعی معاہدے کی روشنی میں خلیجی ممالک اسی صورت میں اپنی فوج دوسرے ملی میں روانہ کرسکتے ہیں جب کسی خلیجی ملک پر کوئی بیرونی ملک حملہ کرے انھوں نے کہا کہ خلیجی عرب عوام کو کچلنے کے لئے سپر دفاعی معاہدہ نہیں ہوا ہے انھوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی وسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کی لیکن ایران نے ہمیشہ عوام پر ظلم و تشدد کی مذمت کی ہے اور یہ ہمارا اخلاقی اور اسلامی فریضہ ہے انھوں نے کہا کہ بحرینی اور سعودی حکومتیں ملکر بحرین کے عوام کا قتل عام کررہی ہیں اور انھوںنےبحرینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے بحرینی عوام جمہوریت کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے صالحی نے کہا کہ عرب ممالک میں موساد کے ایجنٹ دھندھناتے گھوم پھر رہے ہیں فلسطینی تنظیم حماس کے اعلی کمانڈروں کو خلیجی ممالک میں اسرائیلی موساد کے ایجنٹوں نے بے رحمی کے ساتھ شہید کیا لیکن کسی بھی عربی مالک نے اسرائیل کے خلاف زبان نہیں کھولی اور نہیں کہا کہ اسرائیل عرب ممالک میں مداخلت کررہا ہے لیکن ایران مداخلت بھی نہیں کرتا پھر بھی ایران کے خلاف جاسوسی اور مداخلت کے نت نئے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں انھوں نے کہا کہ بعض عرب ممالک کے الزامات کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کی خوشنوی و مرضی کارفرما ہے انھوں نے کہا کہ ایران بحرین کے مظلوم اور نہتے عوام کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ایران نے سعودی عرب کے ساتھ اچھے روابط کا آغاز کیا لیکن سعودیوں نے غیر عقلی اور غیر منطقی جواب دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب علاقہ میں امریکہ اور اسرائیلی کی اجارہ داری قائم رکھنے کی تلاش و کوشش کر رہا ہے انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تباہی میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کا بھی بہت بڑا تعاون شامل ہے اور تاریخ کبھی بھی سعودیوں کو معاف نہیں کرے گی، صالحی نے کہا کہ سعودی عرب کو فوری طور پر اپنی فوج بحرین سے نکال لینی چاہیے اور مسائل کو مزيد پیچیدہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے سعودیوں کو اپنی فوج بحرین میں بھیجنے کے بجائے غزہ بھیجنی چاہیے تھی اور حمد بن عیسی آل خلیفہ  کے اقتدار کو بچآنے کے بجائے فلسطین میں عربوں کی لٹتی ہوئی آبرو کو بچانا چاہیے لیکن سعودیوں کے اعمال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں اور وہ امریکہ کے حکم کے پابند ہیں۔