• صارفین کی تعداد :
  • 3164
  • 4/11/2011
  • تاريخ :

فلسفہٴ قربانی (حصّہ دوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

عام طور پر ہمارے ہاں جو قربانیاں ہوتی ہیں، وہ مستحب ہیں مگر وہاں وہ جزوِ حج ہیں کیونکہ اصل قربانی کا مرکز وہی سرزمین منیٰ کی تھی۔ تو وہ تمام مقامات سرزمین مکہ میں ہے۔ ملک شام میں نہیں ہیں۔ پھر یہ کہ اس سے متعلق جو دن ہیں، وہ اسلامی روایات میں ہیں۔ اگر ان کے ہاں کا یہ واقعہ ہے تو انہوں نے اس کی یادگار قائم کیوں نہ کی؟ ہمارے ہاں عید ِقرباں ہے تو وہ اس کی یادگار ہے۔ پورے حج کے جو مراسم ہیں، وہ اس کی یادگار ہیں۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی کیا ہے؟ یہ بھی اسی واقعہ کے متعلق یادگار ہے اور سالِ گزشتہ غالباً انہی مجالس میں:

"وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّھَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب"۔

یہ سرنامہ کلام تھا تو اس میں اس کو عرض کرچکا ہوں کہ یہ تمام چیزیں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ سے نسبت رکھتی ہیں۔سب اس واقعہ قربانی سے متعلق ہیں۔ اب یہ توفیصلہ ان کے مقابلہ میں ہوگیا۔ یہ جو چند پرانے علمائے اسلام ہیں، وہ بھی اس کے قائل ہیں۔ تو اب ان کیلئے قرآن مجید پیش کردوں کہ یہ "بشرناہ بغلام حلیم"، یہ پورا سلسلہ چلا اور قربانی کا ذکر ہوگیا اور اس قربانی کے ذکر کے بعد ہے"و بشرناہ باسحٰق"، پھر ہم نے ان کو اسحاق کی بھی بشارت دی۔ تو اب تو پتہ چل گیا کہ وہ پہلی بشارت کسی اور فرزند کی تھی۔

مگر جناب! یہود و نصاریٰ کے اس اختلاف سے میری نظر میں ایک بڑا نتیجہ حاصل ہوا اور وہ یہ کہ یہ قربانی ایسی عظیم شے ہے کہ اسے ہر ایک اپنانا چاہتا ہے۔ آخر یہ شوق کیوں ہے؟ اگر قربانی کوئی عظیم چیز نہیں ہے تو دوسری جماعت کیوں کہہ رہی ہے کہ ہمارے ہاں ہے، ہمارے مورثِ اعلیٰ کا واقعہ ہے؟ معلوم ہوا کہ قربانی اتنی عظیم شے ہے کہ جہاں نہیں ہے، وہ بھی اسے اپنانا چاہتے ہیں۔ ا س کے بعد کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک قوم کے پاس عظیم قربانی ہو اور وہ اس کے ذکر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

یہ تو پہلی آیت میں مَیں نے پیش کر دیا "بشرناہ بغلام حلیم"۔ یہ اختلاف اور اس کا فیصلہ ۔ اب یہ تو تمہید تھی کہ ہم نے بشارت دی ایک متحمل فرزند کی۔ اب یہاں سے قربانی کا تذکرہ شروع ہوتا ہے ۔بشارت یوں دی۔ اب ظاہر ہے کہ درمیان کی کتنی کڑیاں کہ وہ متولد ہوئے۔ اسے سننے والے کے ذہن پر چھوڑا:

"فَلَمَّابَلَغَ مَعَہ السَعْیَ"۔

اب نشو و نما ہوئی اور بڑے ہوئے اور اب وہ لڑکا جو پیدا ہوا، اس عمر کو پہنچ گیا کہ دوڑ دھوپ کرسکے۔ سعی کے معنی دوڑنا۔ تو "لَمَّابَلَغَ مَعَہ السَعْیَ"۔ جب وہ اس حد تک پہنچ گیا کہ باپ کے ساتھ ذرا دوڑ دھوپ کر سکے۔ اس میں دو چیزیں مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ابھی جوانی کی منزل تک نہیں پہنچا ہے۔ بس اتنا ہی اور ایک یہ کہ بہت کم سن بھی نہیں کہ جو باپ کی کوئی مدد نہ کر سکے۔ درمیانی عمر ہے۔ بچپن اور شباب کے درمیان کی۔ بس اتنی کہ ابھی تھوڑا سا وہ چل پھر کر باپ کی خدمت کرسکتا ہے۔ تو جب یہ ہوا تو اب ہمارے علم میں کیا ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا۔ اب بنظر اختصار قرآن مجید خواب کا ذکر نہیں کرتا کہ انہوں خواب دیکھا اور وہ کیا دیکھا۔ نہیں، بلکہ جب وہ سعی کی منزل تک پہنچا تو باپ نے بیٹے سے کہا کہ میں یہ خواب دیکھ رہا ہوں ۔ اب اسی سی سمجھ لیجئے کہ خواب دیکھا اور یہ بھی روایتیں بتاتی ہیں کہ تین روز مسلسل دیکھا۔یہ قرآن کے الفاظ سے نمایاں ہے۔ صیغہ ماضی نہیں ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ اس کیلئے ہوتا:

"رَأیِتُ فِی الْمَنَامْ"۔

اس کے معنی ہوتے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ یہاں مضارع کا صیغہ ہے:

"اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ"۔

میں خواب میں دیکھ رہا ہوں۔

دیکھ رہا ہوں کے معنی یہ ہیں کہ کئی دفعہ یہ دیکھا ہے۔ بس اب سمجھ لیجئے کہ خلیل کہہ رہے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا اور دیکھ رہا ہوں ۔ تو اس واقعہ کو جو نہیں بیان ہوا، تو سمجھ لیجئے کہ انہوں نے خواب دیکھا، جبھی تو بیان کیا کہ"یَابُنَیَّ"، اے میرے بچے،"اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ"، میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ"اِنِّیْ اَذْبَحُکَ"، کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ "فَانْظُرْمَاذَاتریٰ"، ذرا تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟

میں بارگاہِ جنابِ ابراہیم میں عرض کروں گا کہ اے خلیل اللہ! خواب دیکھا ہے آپ نے، حکم ہوا ہے آپ کو۔ اس کی تعمیل فرمائیے۔ یہ بیٹے سے رائے لینے کے کیا معنی کہ تم دیکھو کہ تمہاری رائے کیا ہے؟

مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اگر بیٹے سے یوں ذکر نہ کرتے تو قربانی فقط کارنامہ ابراہیم ہوتی، کارنامہ اسماعیل نہ ہوتی اور جب بیٹے سے اس طرح ذکر کر لیا تو بیٹے نے وہ جواب دیا جو ابھی بیان ہوگا اور پھر قربانی ہوئی۔تو اب وہ دونوں کا کارنامہ ہے۔ باپ کا بھی کارنامہ ے اور بیٹے کا بھی کارنامہ ہے۔

اب جناب! ایک دوسرا سوال میرے ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ حکم اتنا شدید کہ طبیعت ِ انسانی پر گراں ہے کہ اپنے بچے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔ تو حکم اتنا شدید اور ذریعہ حکم اتنا خفیف یعنی خواب۔ ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح احکام آتے ہیں، فرشتہ آتا، پیغامِ الٰہی پہنچاتا۔ یہ عام طریقہ ہے۔ خواب بھی ایک وحی کی قسم ہے۔ مگر عام طریقہ تو یہ ہے حکمِ الٰہی پہنچانے کا۔ جی نہیں، اتنا عظیم حکم اور وہ صرف خواب کے ذریعہ؟ تو یہی میرے موضوعِ کلام کا ایک اہم رکن ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ امتحان جب ہے تو اُسے ذریعہ ایسا رکھنا ہے جسے ناقص نفوس خواب کہہ کر ٹال سکتے ہوں۔ اب دنیا دیکھے کہ خلیلِ حق اس خواب کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اچھا! اس نے خواب دکھلایا ، کیا ابراہیم نہیں جانتے کہ یہ حکم ہے۔ مگر وہ بھی بیٹے سے خواب ہی کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ مجھے حکم ہو رہا ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اگر کہہ دیتے کہ حکم ہو رہا ہے تو یہ ٹکڑا بے جوڑ ہوا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ جب حکم ہوگیا تو رائے کا کیا سوال؟

پھر یہ کہ یہاں پر بڑا چھوٹے کا امتحان لیتا ہے۔ خالق اپنے خلیل کا امتحان لے رہا ہے اور اب خلیل اپنے فرزند اسماعیل کا امتحان لے رہے ہیں۔ یاد رکھئے کہ امتحان میں ایک پرچہ سوال کا ہوتا ہے۔ وہ پرچہ درسگاہ کے جو کرتا دھرتا ہیں، ان کے پاس آتا ہے اور وہ طالب علموں میں بانٹا جاتا ہے۔ یہ ہوتا ہے سوال کا پرچہ۔ اس کے بعد طالب علم جواب کی کاپی لکھتا ہے۔ وہ جواب کی کاپی طالب علم کے پاس سے جاتی ہے پہلے درسگاہ کے سربراہان کے پاس۔ وہاں سے ممتحن کے پاس۔ تو میں کہتا ہوں کہ اللہ نے خواب دکھا دیا، یہ تو سوال کا پرچہ ہے جو خالق نے اپنے خلیل کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے بیٹے سے مشورہ لیا، یہ ابھی سوال کا پرچہ ہی ہے جو باپ نے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا۔ جب تک سوال کا پرچہ رہا، تب تک لفظ ِخواب رہا اور جہاں سے جواب کی کاپی شروع ہوئی، اسماعیل نے لفظ بدل دیا، اسماعیل نے یہ نہیں کہا کہ جو خواب دیکھا ہے، اس کی تعبیر آپ سامنے لائیے۔ وہ اب خواب کا لفظ نہیں کہتے۔ وہ کہتے ہیں :

"یَااَبَتِ اِفْعَلْ مَا تُوٴمَرُسَتَجِدُنِیْ اِنْشَاءَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ"۔

"بابا! جو حکم ہو رہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے۔ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے"۔

اب گفتگو کے جو انداز ہوتے ہیں، اس کو ہر صاحب ِ زبان سمجھ سکتا ہے کہ گھبراہٹ کے جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے اور اطمینانی جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے۔ جنابِ اسماعیل کے جواب کا یہ ٹھہراؤ کہ"اے بابا! جو حکم ہورہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے"، الفاظ کا یہ ٹھہراؤ سکونِ نفس کا پتہ دے رہا ہے۔ کوئی اضطراب نہیں ہے۔ نفس مطمئن ہے۔ بے شک بڑا عزم ثابت ہوتا ہے۔ الفاظ ہی سے ثابت قدمی ظاہر ہوتی ہے۔

مصنف: علامہ سید علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ


متعلقہ تحریریں:

فلسفہ خمس دلایل مذھب شیعہ

خمس اھل سنت کی نظر میں

خمس مذھب شیعہ کی نظر میں

ترویج اذان؛ اھل سنت كی نظر میں

فلسفہ نماز شب