• صارفین کی تعداد :
  • 3481
  • 4/4/2011
  • تاريخ :

دو کبوتر (حصّہ ششم)

دو کبوتر

نامہ بر بولا: میرےنزدیک شیطان تیرے دل میں وسوسے ڈال رہا ہے تا کہ تو دانے کی خواہش میں وہاں جائے اور جال میں قید ہوجائے. میرے عزیز، میری جان! سمجه دار کبوتر کو آخر اتنا قیاس تو کر ہی لینا چاہیے کہ صحرا میں یہ ساری چیزیں بلاوجہ تو اکٹهی نہیں ہوگئیں. وه ٹوپی والا شخص، وه سبزه کہ اچانک اس صحرا میں پیدا ہوگیا، وه رسیّاں، وه مٹی بهر دانے جو اس کے نیچے بکهرے ہیں........... ان سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرندے کو شکار کرنے کے لیے جال بچهایا گیا ہے. تو کیوں اس قدر بے شرم اور ڈهیٹ ہو گیا ہے کہ شکم پروری کی جهونجه میں خود کو قید میں ڈالے دے رہا ہے.

ہرزه قدرے خوف زده ہوا اور اس نے دل میں کہا، ممکن تو ہے کہ جال بچها ہو لیکن کتنے ہی پرندے ہیں کہ جال کے نیچے سے دانہ چن کر کهاتے ہیں، اڑ جاتے ہیں اور جال میں گرفتار نہیں ہونے پاتے. اکثر یوں بهی ہوتا ہے کہ جال فرسوده ہوتے ہیں اور پرنده انهیں ٹکڑے کر دیتا ہے. اکثر صیّاد ایسے بهی ہوتے ہیں کہ جب ان سے عرض معروض کرتے ہیں تو ان کا دل نرم پڑ جاتا ہے اور وه پرندے کو آزاد دیتے ہیں اور اکثر ناگہانی اتفاقات بهی  تو ہوجاتے ہیں کہ صیاد کے سر مصیبت آن پڑتی ہے مثلا ہو سکتا ہے کہ شکاری اچانک بے ہوش ہوکر گر جائے اور میں فرار کر جاؤں. 

جاری ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں :

دو کبوتر (حصّہ دوّم)

دو کبوتر (حصّہ اول)

بہت مہنگی قیمت میں حلوا

رازداری

تیسری نصیحت