• صارفین کی تعداد :
  • 1149
  • 5/17/2012
  • تاريخ :

اين پي ٹي کے رکن ممالک اور ايران کے باہمي تعاون کي تقويت پر تاکيد

اين پي ٹي کے رکن ممالک اور ايران کے باہمي تعاون کي تقويت پر تاکيد

ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي آئي اے اي اے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے ايران کي جانب سے اين پي ٹي معاہدے کي پابندي کۓ جانے پر تاکيد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اين پي ٹي کے دوسرے رکن ممالک کو بھي ماضي سے زيادہ ايران کے ساتھ تعاون کا راستہ ہموار کرنے کے اقدامات انجام دينے چاہئيں- ايٹمي ہتھياروں کے پھيلاؤ کي روک تھام کي کوشش ، اين پي ٹي معاہدے پر مکمل طور سے عملدرآمد اور پرامن ايٹمي ٹيکنالوجي تک رسائي پر مبني تمام ممالک کے حق کا تسليم کيا جانا ان موضوعات ميں سے ہيں جن پر اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندے نے ويانا ميں ہونے والي اين پي ٹي جائزہ کانفرنس ميں تاکيد کي ہے-

ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران نے ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي کے رکن ہونے کے ناتے اب تک اس ايجنسي کے ساتھ سب سے زيادہ تعاون کيا ہے اور واضح سي بات ہے کہ اسے اين پي ٹي معاہدے کے دائرے ميں اپنے جائز حقوق سے ہمکنار ہونے کا حق بھي حاصل ہے اور يہ اس ايجنسي کي ذمےداري ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو تکنيکي مدد فراہم کرے تاکہ وہ پرامن مقاصد کے لۓ ايٹمي ٹيکنالوجي سے بہتر طور پر فائدہ اٹھا سکيں- 

بہرحال جيسا کہ ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے ويانا ميں اين پي ٹي معاہدے کي جائزہ کانفرنس ميں کہا ہے کہ ايران اس معاہدے کي پابندي کرتا ہے اور وہ اپنے حقوق بھي حاصل کر کے رہے گا- ظاہر سي بات ہے کہ پرامن مقاصد کے لۓ ايٹمي ٹيکنالوجي تک رسائي اين پي ٹي معاہدے سے بالا تر کوئي مطالبہ نہيں ہے اور اس مطالبے کو چيلنج نہيں کيا جا سکتا ہے- اسي زاويہ نگاہ کے تحت يہ توقع کي جارہي ہے کہ ترکي کے شہر استبول ميں ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان جن مذاکرات کا آغاز ہوا اور جن کا دوسرا دور عراق کے دارالحکومت بغداد ميں ہوگا ان کے نتيجے ميں ملت ايران کے حقوق کے احترام کے ساتھ ساتھ مثبت ماحول ميں باہمي تعاون کا راستہ ہموار ہوگا- 

واضح رہے کہ ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان مذاکرات کا دوسرا دور تيئيس مئي کو عراق کے دارالحکومت بغداد ميں ہوگا- دريں چودہ اور پندرہ مئي کو ايران اور ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي کے درميان ويانا ميں مذاکرات کا دوسرا دور ہونے والا ہے- اسلامي جمہوريہ ايران اور ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي آئي اے اي اے کے درميان ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد متنازعہ مسائل کا حل اور باہمي تعاون ميں توسيع کے راستوں کا جائزہ لينا ہے- ان امور سے پتہ چلتا ہے کہ ايران مذاکرات کے سلسلے ميں سنجيدہ ہے- ليکن وہ مذاکرات کے لۓ کسي پيشگي شرط کو قبول نہيں کرے گا- اور اين پي ٹي معاہدے ميں بيان شدہ اپنے ايٹمي حقوق سے بھي دستبردار نہيں ہوگا- ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے پرامن مقاصد کے لۓ يورينيئم کي افزودگي سميت پرامن ايٹمي سرگرميوں کے جاري رہنے پر جو ايک بار پھر تاکيد کي ہے وہ درحقيقت ايک ايسا واضح پيغام ہے جس پر ويانا ميں ہونے والي اين پي ٹي جائزہ کانفرنس ميں ايران کے نمائندے کي جانب سے زور ديا گيا ہے-