• صارفین کی تعداد :
  • 3931
  • 1/22/2011
  • تاريخ :

حقیقت عصمت (حصّہ چهارم)

بسم الله الرحمن الرحیم

بعض لوگوں کا گمان یہ ھے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گناہ پر دلالت کرتا ھے کیونکہ بخشش اور معاف کرنا گناہ اورخطا کے بعد ھی تصور کیا جا سکتا ھے۔

    حقیقت یہ ھے کہ اس آیہ کریمہ کے معنی اس وقت تک سمجھ میں نھیں آسکتے جب تک اس کے سیاق وسباق کو مد نظر نہ رکھیں کیونکہ ماقبل ومابعد کو سامنے رکھ کر ھی آیت کے اصلی معنی سمجھے جا سکتے ھیں۔

ارشاد خداوندی هوتا ھے:

”(اے رسول ) اگر سردست فائدہ اور سفر آسان هوتا تو یقیناً یہ لوگ تمھارا ساتھ دیتے مگر ان پر مسافت کی مشقت طولانی هوگئی، اور (اگر پیچھے رہ جانے کی پوچھو گے تو ) یہ لوگ فوراً خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ھم میں سکت هوتی تو ھم بھی ضرور تم لوگوں کے ساتھ ھی چل کھڑے هوتے (یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر ) اپنی جان آپ ھلاک کئے ڈالتے ھیں او رخدا تو جانتا ھے کہ یہ لوگ بیشک جھوٹے ھیں ۔ (اے رسول) خدا تم سے درگزر فرمائے تم نے انھیں (پیچھے رہ جانے کی)اجازت ھی کیوں دی تاکہ (تم ایسا نہ کرتے تو) سچ بولنے والے (الگ ) ظاھر هوجاتے اور تم جھوٹوں کو (الگ) معلوم کرلیتے۔ (اے رسول ) جو لوگ (دل سے) خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ھیں وہ تو اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جھاد (نہ) کرنے کی اجازت مانگنے کے نھیں (بلکہ وہ خود جائیں گے)

   اور خدا پرھیزگاروں سے خوب واقف ھے (پیچھے رہ جانے کی) اجازت تو بس وھی لوگ مانگیں گے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان نھیں رکھتے اور ان کے دل (طرح طرح کے) شک کر رھے ھیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواںڈول هو رھے ھیں (کہ کیاکریں اورکیا نہ کریں)اور اگر یہ لوگ (گھر سے) نکلنے کی ٹھان لیتے تو (کچھ نہ کچھ) سامان تو کرتے مگر (بات یہ ھے ) خد ا نے ان کے ساتھ بھیجنے کو ناپسند کیا تو ان کو کاھل بنادیا اور (گویا) ان سے کہہ دیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے (مکھی) مارتے) رهو۔“

    ان آیات میں غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح هوجاتی ھے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ میں گناہ شرعی نھیں ھے یعنی حکم خدا کی مخالفت نھیں کی بلکہ ان آیات میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس بات کی ہدایت کی گئی ھے کہ آپ جنگ میں شرکت نہ کرنے والوں کے جھوٹ وسچ کو کن طریقوں سے پہچانےں تاکہ آپ کو اپنے اصحاب میں صادقین وکاذبین کی شناخت هوجائے، کیونکہ اگر آپ ان لوگوں کی تاخیر میں اجازت نہ دیتے تو جھوٹے اور سچوں کی پہچان هوجاتی، لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان لوگوں کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دیدی جو یہ کہہ رھے تھے کہ ھم جنگ میں جانے سے معذور ھیں لہٰذا ان کی سچائی کا ثبوت نہ مل سکا کیونکہ ان میں سے بعض لوگ سچے تھے اور بعض لوگ صرف بھانہ کررھے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی پہچان نہ هوسکی۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں :

خیر و فضیلت کی طرف میلان

محسوس فطریات

انسانی امتیازات

مقدس میلانات

نیکی اور بدی کی تعریف