• صارفین کی تعداد :
  • 2434
  • 12/15/2010
  • تاريخ :

سورۂ یوسف کی آیت نمبر 74-75 کی تفسیر

بسم الله الرحمن الرحیم

سورۂ یوسف ( ع ) کی آیت 74 اور 75 میں خدا فرماتا ہے :

قالوا فما جزاؤہ ان کنتم کاذبین قالوا جزاؤہ من وّجد فی رحلہ فہو جزاؤہ کذلک نجزی الظّالمین "

( جواب میں حکومت کے کارندوں نے جناب یوسف (ع) کے بھائیوں سے پوچھا ) اگر ( اس کے برخلاف ) تم لوگ جھوٹے نکلے تو ( جس نے چوری کی ہے ) اس کی کیا سزا تجویز دیتے ہو ؟ ( انہوں نے ) کہا سزا یہی ہے کہ جس کے بوجھ میں وہ پیمانہ مل جائے اس کو پکڑلیجئےگا ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں ۔

عزیزان گرامی ! یوسف ( ع ) کے بھائیوں نے جب چوری سے انکار کیا کہ آپ کو معلوم ہے ہم لوگ چور نہیں ہیں اور نہ ہی ہم بد عنوانی کا ارادہ رکھتے ہیں تو حکومت کے ملازمین نے بھی اسی لہجے میں پوچھا ٹھیک ہے اب اگر بالفرض آپ کے سامان میں گمشدہ ظرف مل گیا تو آپ کیا سزا تجویز دیتے ہیں ؟ انہوں نے بھی صاف طور پر کہہ دیا آپ چور کو پکڑلیجئے گا ہمارے یہاں یعقوب (ع) کی شریعت میں چوری کی یہی سزا دی جاتی ہے کہ خود چور سے چوری کا تاوان وصول کیا جائے اور جب تک تاوان نہ دے چور کو اپنے قبضہ و اختیار میں رکھا جائے ۔ در اصل یہ اقرار بھی جناب یوسف (ع) کے منصوبے کا ایک حصہ تھا تاکہ اس بہانے بنیامین کو مصر میں روکا جائے اور پھر ان کے توسل سے جناب یعقوب (ع) کو مصر بلایا جا سکے اور یوسف (ع) کو بھائی کے ساتھ باپ کا دیدار بھی نصیب ہوجائے ۔

بشکریہ اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی ( 62 تا 65 ) وین آيات سے جو سبق ملتے ہیں ان کا ایک خلاصہ

سورۂ یوسف (ع) کی 65 ویں آیت کی تفسیر

سورۂ یوسف ( ع ) کی 63، 64 ویں آیات کی تفسیر

سورۂ یوسف ( ع ) کی 62 ویں آیت کی تفسیر

سورہ یوسف ۔ع ۔ ( 61-56) ویں آیات کی تفسیر

سورۂ یوسف (ع) کی  55 ویں آیت کی تفسیر

سورۂ یوسف ( ع ) کی  54 ویں آیت کی تفسیر

سورہ یوسف (ع ) 53  ویں آیت کی تفسیر

سورہ یوسف ۔ع ۔ (52 -50) ویں آیات کی تفسیر

سورہ یوسف ۔ع ۔ (44,49) ویں آیات کی تفسیر