• صارفین کی تعداد :
  • 3774
  • 7/13/2010
  • تاريخ :

بچوں کی نگہداشت کیسے کی جائے؟  (حصّہ دوّم)

چهوٹا بچہ

 نئی ماﺅں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کا بستر گیلا نہ رہے خاص طور پر رات کے اوقات میں کیونکہ زیادہ تر بچوں کو ٹھنڈ اسی وجہ سے لگتی ہے۔ بستر کے گیلے پن کے سبب بچے کو سردی بھی محسوس ہوتی ہے اور وہ مسلسل بے چینی و بے اطمینانی محسوس کرتا ہے۔ بچے کی نیپی یا پیمپر وقتاً وقتاً چیک کرنا بہتر رہتا ہے کیونکہ اس سے صفائی کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں اور بچہ پر سکون نیند لیتا ہے۔

٭ بچے کے ہاتھوں پر خاص توجہ دی جائے کیونکہ تین ماہ کے بعد وہ منہ میں ہاتھ ڈالنا شروع کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے ہاتھوں کو کسی اچھے بے بی سوپ سے دھویا جائے۔ نظر بد سے بچانے کیلئے بچے کے گلے اور ہاتھوں میں کالے دھاگے باندھنے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ہفتوں اور مہینوں تک ہاتھوں اور گلے میں بندھے کالے دھاگے پر لاکھوں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور جب بچہ ان دھاگوں کو منہ میں ڈالتا ہے تو یہ بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح چار پانچ ماہ کی عمر میں بچہ اپنے پاﺅں کے انگوٹھوں کو بھی منہ میں ڈالنے لگتا ہے۔ لہٰذا ہر بار پیشاب یا پاخانے سے فراغت کے بعد بچے کے پیروں کو اچھی طرح صابن سے دھو لیں۔

٭ بچے کو بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرانا چاہیے، تاکہ وہ بستر پر پڑا رہ کر سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہو جائے۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچے صحت مند ہو رہے ہیں لیکن وہ تیزی سے فربہی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور ورزش اس سے بچاﺅ کا بہترین طریقہ ہے۔ شیر خوار کو ٹی وی اور کمپیوٹر سکرین کی شعاعوں سے بھی دور رکھیں کیونکہ ان کی نازک جلد اس کے مضر اثرات بہت جلد قبول کر لیتی ہے۔

٭ شیر خوار کو موسم کے مطابق روشن اور ہوا دار کمرے میں رکھیں، سردیوں میں دھوپ سے سنکائی بھی بہتر ہوتی ہے تاہم دھوپ میں لٹانے سے بچے کا رنگ و روپ متاثر ہو سکتا ہے۔

٭ بچے کو بستر پر لٹاتے وقت اس کا سر قدرے اونچا رکھیں۔ تیز روشنی، کسی ایک کروٹ سلانے، تنگ کپڑے پہنانے یا اکیلا چھوڑنے سے گریز کریں اور زیادہ بہتر ہے کہ پالتو جانور گھر میں نہ رکھے جائیں۔ بچے کو ہر روز نہلائیں، باقاعدگی سے مالش کریں، طہارت کا خیال رکھیں۔

٭ نوزائیدہ کے ابتدائی دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا نئی ماﺅں کو ان دنوں خاصا محتاط رہنا چاہیے۔ ہر طرح کے مشوروں پر بلا سوچے سمجھے عمل نہ کریں اور نہ ہی ٹوٹکوں پر بھروسہ بلکہ فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ ابتدائی دنوں کی بیماریاں تشخیص و علاج کیلئے بہت زیادہ مہلت نہیں دیتی ہیں۔

٭ بچے کو فیڈ کرانے کے بعد اس کو کندھے سے لگا کر سہلاتے ہوئے ڈکار دلائیں تاکہ شیر خوار میں بچہ جو دودھ اگلتا ہے وہ پھیپھڑوں میں واپس پلٹنے سے کوئی حادثہ نہ ہو سکے۔ بچے کو کھیل ہی کھیل میں اچھالنے سے گریز کریں کیونکہ یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلی، کتے یا ان دیکھی قوتوں کے نام لے کر ڈرانے سے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور خوف دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ جب بچہ چلنا شروع کردے تو آگ بجلی کے آلات اور دیگر چیزوں کے قریب نہ جانے دیں اور اسے پیار یا محبت میں جھنجھوڑنے سے گریز کریں۔ عمر کے لحاظ سے وزن کراتی رہیں جبکہ حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی فوری مکمل کرائیں۔

بشکریہ آن لائن اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں :

لیڈی ہیلتھ ورکر کے مفید مشورے

نوزائیدہ بچوں کی فرسٹ ایڈ