• صارفین کی تعداد :
  • 2473
  • 4/18/2010
  • تاريخ :

حضرت سلیمان علیہ السلام کے اقوال  ( حصّہ سوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

٭ جو شخص مسکین پر ہنستا ہے ، گویا اس کے بنانے والے کی حقارت کرتا ہے اور جو اوروں کی مصیبت سے خوش ہوتا ہے کبھی بےگناہ نہ ٹھہرے گا ۔

٭ جس کو غصّہ دیر سے آتا ہے بہت ہی عقلمند ہے اور جو زود رنج ہوتا ہے اپنی بےوقوفی ظاہر کرتا ہے ۔

٭ خدا کریم اس کی تادیب کرتا ہے جس سے وہ پیار کرتا ہے ۔

٭ عقلمند ،علم دوست اور کم گو ہوتا ہے اور احمق بھی جب تک خاموش رہتا ہے عقلمند ہی شمار ہوتا ہے ۔

٭ بےجا بحث سے دامن بچاؤ کیونکہ اس سے فائدہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا البتہ بھائیوں اور دوستوں کے درمیان عداوت سر ابھارنے لگتی ہے ۔

٭ اپنی خواہشات نفسانی پر قابو رکھنے والا اور اسے مغلوب کر لینے والا شخص اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے جو اکیلے کسی شہر کو فتح کرے ۔

٭ ہوشیار حکمرانی کرے گا اور سست محکوم رہے گا ۔

٭ مبارک ہے وہ انسان جو حکمت پاتا اور دانش حاصل کرتا ہے ، کیونکہ اس کا حصول چاندی کے حصول سے بہتر اور نفع کندن سے افضل ہے ۔

٭ صادق کی کمائی زندگی کے لیۓ ہے اور شریر کی پیداوار گناہ کے لیے ۔

٭ کنگال سے اس کا ہمسایہ بھی نفرت کرتا ہے ، مگر دولت مند کے دوست بہت ہیں ۔

٭ بادشاہ کا غصّہ ،موت کا ایلچی ہے ۔

٭ جو دوست سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے ، وہ موقع ڈھونڈتا اور معقول بات سے بھی برہم ہو جاتا ہے ۔

٭ آدمی کا ہدیہ اس کے لیۓ جگہ بناتا اور اسے بڑے آدمیوں کے حضور میں پہنچاتا ہے ۔

٭ بیگانہ عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے ، اس میں وہی گرتا ہے جس پر خدا کا غضب ہو ۔

٭ جو کلام اپنے وقت میں کہا جاۓ وہ چاندی کی رکابی میں سونے کا سیب ہے ۔

٭ مصیبت کے دن کمینے آدمی پر اعتبار کرنا ،ٹوٹے ہوۓ دانت اور تھکے ہوۓ پاؤں کی طرح ہے ۔

٭ گھوڑے کے لیۓ چابک ،گدے کے لیۓ لگام اور احمقوں کی پیٹھ کے لیۓ چھڑی  ہے ۔

٭ جو کسی احمق اور شرابی کو نوکر رکھتا ہے وہ اس تیرانداز کی مانند ہے جو سب گزرنے والوں کو زخمی  کرتا ہے ۔

تحریر : راۓ محمد کمال

کتاب کا نام : اقوال زریں

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں :

ہمارے نبی کی مزاحیہ باتیں

ارشادات  نبوی