• صارفین کی تعداد :
  • 3314
  • 3/21/2010
  • تاريخ :

دارالعبادہ یزد

دارالعبادہ یزد

دار العبادہ یزد، ایک افسانوی شہر اور یادوں سے بھری زمیں ہے کسی زمانے میں اس شہر کو سکندر ذوالقرنین کا زندان کہا جاتا تھا۔

اسلام کے ظہور اور اس کی توسیع و اشاعت کے بعد حضرت علی (ع)  کی جا نب سے اس کا نام   ” دارالعبادہ“ رکھا گیا جو بعد میں کافی مشہور ہوگیا۔

 کہا جاتا ہے کہ جب ۲۵ ھ میں یزد گرد سوم نے لشکر اسلام سے شکست کھائی تو اصفہان کے راستے سے یزد کی طرف بھاگا تاکہ دوبارہ اپنے لشکر کو جمع کر کے اسے اسلامی افواج سے جنگ پر ابھارے مگر اس کو اپنے ارادے میں کامیابی نہیں ہوئی اور اسلامی لشکر نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے اس شہر سے نکال باہر کیا اور اسی سال یزد اسلام کی آغوش میں آگیا۔ اور وہاں کے لوگ آتش کدوں اور ساسانیوں کے معابد کو  ترک کر کے مسجدوں کی طرف آگئے اور حکومت توحید کی رعایا بن گئے۔

 ۳۵ ھ  میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے مسلم بن زیاد یزد کا حاکم بنایا گیا اور اس نے لوگوں سے آنجناب کے لئے بیعت لی اور اس نے پہلی فرصت میں مدارس قائم کئے اور شہریوں کی تعلیم و تربیت میں سر گرم ہوگیا رفتہ رفتہ یزد پوری طرح اسلام کے گھنے سائے تلے آگیا اور ابتدا ہی سے حضر ت علی (ع) اور ان کے خاندان کا دوست بن گیا اس کے بعد وہ اسلامی علوم و معارف کا گہوارہ بن گیا۔ چنانچہ ہر صدی میں اس نے اسلامی دنیا کو جلیل و عظیم علما عطا کئے اور  شیخ عبدالکریم  بھی جو اسی سرزمین کے دامن میں پرورش پانے والے فرزندان میں سے ایک تھے۔

 

اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

جزیرہ قشم

رشت (Rasht)