• صارفین کی تعداد :
  • 3026
  • 2/20/2010
  • تاريخ :

مشہد اردہال کربلائے ایران

مشہد اردہال

مشہد اردہال کربلائے ایران؛ حضرت سلطان علی بن امام محمد باقر (ع) کی مظلومانہ شہادت کا مقام ہے جو شہر کاشان سے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. حضرت سلطان علی ایران میں مدفون ان چار امامزادگان میں سے ہیں جن کا شجرہ نسب بالکل صحیح اور معلوم و معین ہے.

4 معلوم النسب امام زادگان کے نام:

1- حضرت سلطان علی بن امام محمد باقر (ع) (اردہال کاشان)

2- حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم (ع) (قم المقدسہ)

3- حضرت عبدالعظيم بن عبداللہ بن على بن حسن بن زيد بن حسن بن على بن ابى طالب علیہم السلام ـ المعروف عبدالعظیم حسنی یا شاہ عبدالعظیم (ع) (شہر رے ۔ جنوبی تہران)

4- حضرت احمد بن امام موسی کاظم (ع)  (صوبۂ فارس کا دارالحکومت "شیراز)

حضرت سلطان علی امام محمد باقر علیہ السلام کے بلا فصل فرزند اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بھائی ہیں اور بیس سے زائد تاریخی اور رجالی منابع سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے.

حضرت سلطان علی بن محمد (ص) سنہ 113 ہجری کو کاشان آئے اور اس علاقے میں امام باقر اور ان کے بعد امام صادق علیہما السلام کے نمائندے کی حیثیت سے کاشان اور فین کے مسلمانوں کی ہدایت و ارشاد میں مصروف رہے. حکومت وقت نے اہل بیت (ع) کے اس چشم و چراغ کو برداشت نہ کیا اور مشہد اردہال کے علاقے میں حکومت کے گماشتوں نے حملہ کرکے ـ بالکل جنگ کربلا کی طرح ـ انہیں شہید کردیا اور ملعون "ارقم شامی" نے ان کا سر تن سے جدا کردیا.

کربلا اور اردہال کے درمیان مشترکہ عناصر:

ـ صحرائے اردہال میں خیمی برپا کرنا

- شہادت سے قبل نماز کی ادائیگی

تاریخی اسناد میں منقول ہے کہ جب شہید سلطان علی بن محمد (ص) نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو دشمن نے ان کی طرف تیراندازی کا آغاز کیا چنانچہ ایک بڑا پتھر ان کی ہدایت پر تیز رفتاری سے ان کے گرد طواف کرنے لگا تا کہ نماز کے وقت دشمن کے تیروں سے محفوظ رہیں اور وہی پتھر اس وقت بھی آپ کے مقام شہادت پر موجود ہے. 

- قتلگاہ مقام دفن سے چند کلومیٹر دور ہے؛

- ان کا جسد خاکی شہادت کے تین روز بعد سپرد خاک کردیا گیا.

- ان کی رکاب میں شہید ہونے والے افراد کے اجسام تر و تازہ ہیں

سنہ 1341 ہجری شمسی (1962 عیسوی) کو مرحوم آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے ایک عجیب سے سرداب سے شہداء کے ٹکڑے ٹکڑے ابدان کا مشاہدہ کیا جو بالکل تر و تازہ تھے اور لکڑی کے تابوتوں میں رکھے گئے تھے.

ان کی میت ایک قالین کے ٹکڑے پر رکھ کر قبر میں منتقل کی گئی جبکہ انہیں غسل نہیں دیا گیا تھا۔

ابنا  ڈاٹ آئی آڑ