• صارفین کی تعداد :
  • 3593
  • 5/19/2009
  • تاريخ :

سورہ یوسف ۔ع ۔ (38) ویں آیت کی تفسیر

بسم الله الرحمن الرحیم

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی اڑتیسویں آیت ، ارشاد ہوتا ہے :

" و اتّبعت ملّۃ ابائی ابراہیم و اسحق و یعقوب ما کان لنا ان نّشرک باللہ من شیء ذٰلک من فضل اللہ علینا و علی النّاس و لکنّ اکثر النّاس لایشکرون "


اور میں اپنے باپ دادا ابراہیم (ع) ، اسحق (ع) اور یعقوب (ع) ( کے دین ) کا پیرو ہوں اور ہم سے ہرگز اس کا امکان نہیں ہے کہ ہم کسی شےء کو خدا کا شریک قرار دیں یہ تو ہم پر اور ( دوسرے ) لوگوں پر بھی اللہ کا بڑا فضل و احسان ہے لیکن لوگوں کی اکثریت شکر ادا نہیں کرتی ۔

عزيزان محترم! اس سے قبل جناب یوسف (ع) کی زبانی چونکہ یہ بات کہی گئی تھی کہ " میں نے اپنی قوم کی راہ ترک کردی ہے " اس لئے امکان تھا کہ کوئی یوسف (ع) کی قوم اور قبیلے میں خود ان کے خاندان کے لوگوں کو بھی شامل کرکے یہ سمجھ لے کہ ( معاذاللہ ) یوسف (ع) کے گھروالے ،حتی ان کے گناہ گار بھائی ،اللہ پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور روز آخرت کے منکر تھے لہذا قرآن نے اگلی ہی آیت میں صاف کردیا کہ یوسف (ع) کے باپ یعقوب (ع) اور ان کے باپ اسحاق (ع) اور ان کے باپ ابراہیم (ع) کی طرح ، حضرت یوسف (ع) کے تمام آباؤ اجداد نہ صرف یہ کہ مومن موحد بلکہ انبیاء (ع) کی صف میں شمار ہوتے ہیں اور یوسف (ع) بھی ان ہی کے دین پر گامزن ہیں ، " چھوڑ دینے " یا " ترک کر دینے " کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کبھی یوسف علیہ السلام کفر پر تھے اور بعد میں چھوڑدیا بلکہ کبھی کفر کے قریب بھی نہیں گئے آبائی طور پر مؤمن و موحد رہے ہیں اور اس چیز کو قرآن نے اللہ کے فضل و احسان سے تعبیر کیا ہے اور یہ بھی خبر دی ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس احسان کو نہیں محسوس کرتی اور ناشکری سے کام لے کر اللہ کو بھول جاتی ہے ۔

                               اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

سورہ یوسف  ۔ع ۔ (33) ویں  آیت کی تفسیر

سورہ یوسف  ۔ع ۔ (34) ویں  آیت کی تفسیر