• صارفین کی تعداد :
  • 947
  • 1/10/2014
  • تاريخ :

تھران و ماسکو کے اسٹريٹجک تعلقات، امن و سلامتي کا باعث

تھران و ماسکو کے اسٹریٹجک تعلقات، امن و سلامتی کا باعث

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے تھران و ماسکو کے اسٹريٹجک تعلقات کو علاقے ميں پائيدار امن و سلامتي کي برقراري کا باعث قرار ديا ہے- صدارتي پريس نوٹ کے مطابق اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر"حسن روحاني" نے آج روس کے صدر "ولاديمير پوٹين" کے ساتھ ٹيلي فونک گفتگو ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کي سوق الجيشي حيثيت  اور طويل مدت روابط کي برقراري اور باہمي تعاون کي توسيع علاقے ميں پائيدار امن و سلامتي اور امن و دوستي کي اعلي مثال ہے- صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحاني" نے ايران و روس کے مشترکہ تعاون کے کميشنوں کے سربراہوں کے کامياب مذاکرات اور دونوں ملکوں کے درميان ہونے والے حتمي سمجھوتوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھران ، مشترکہ کميشنوں کے سمجھوتوں کے دائرے ميں مختلف شعبوں ميں بنيادي منصوبوں کي تکميل کے لئے آمادہ اور دوجابنہ تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے- اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اسي طرح جنيوا ميں ايران و گروپ پانچ جمع ايک کے درميان ہونے والے مذاکرات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ بعض ممالک کہ جو ان مذاکرات کے عمل ميں روڑے اٹکانے کے لئے بہانوں کے درپے ہيں، انہيں اپنے وعدوں کا پاس رکھنا اور اس موضوع کے حوالے سے اپني نيک نيتي کو ظاہر کرنا چاہيے- صدر مملکت "حسن روحاني" نے شام ميں رونما ہونے والي تبديليوں کے بارے ميں کہا کہ کسي بھي بين الاقوامي اجلاس ميں موثر عوامل کي عدم شرکت ، شام کي مشکلات کو حل نہيں کرتي، اس لحاظ سے عالمي جنيوا ٹو اجلاس انعقاد سے پہلے ہي شکست سے دوچار ہوچکا ہے- روس کے صدر "ولاديميرپوٹين" نے بھي عالمي جنيوا ٹو کانفرنس اورشام رونما ہونے والي واقعات کے بارے ميں کہا کہ ايران کوعلاقے کے ايک موثر ملک کے عنوان سے اس کانفرنس ميں حتمي طور پر شرکت کرني چاہيے اور ايران کي شرکت کے لئے کسي بھي قسم کي پيشگي شرط غير تعمير و غير مفيد ہے- روس کے صدر نے علاقائي و عالمي مسائل ميں ايران کے مثبت کردار کو سراہا اور اس کي تعريف کي-


متعلقہ تحریریں:

جنيوا ٹو کانفرنس، ايراني شرکت کے بغير ناکام

ايران کا ايٹمي پروگرام قانون کے دائرے ميں