• صارفین کی تعداد :
  • 4386
  • 11/12/2013
  • تاريخ :

طاغوت کے خلاف اٹھنے والي تحريکوں کي حمايت

طاغوت کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کی حمایت

شام کے شاہي دربار ميں امام سجاد اور سيدہ زينب (سلام اللہ عليہما) کے خطبوں اور مناظروں کے بعد شام کے لوگ يزيد اور اموي خاندان کے حقائق سے آگاہ ہوئے اور يزيد کو اپني جان اور حکومت کا شديد خطرہ لاحق ہوا جس کو بعد وہ عبيداللہ کو قصوروار ٹہرانے لگا-

يزيد نے علي بن الحسين (ع) سے کہا: خدا ابن مرجانہ پر لعنت کرے! جان ليں کہ خدا کي قسم! اگر ميں آپ (ع) کے والد سے ملتا تو وہ جو بھي چاہتے ميں فراہم کرتا اور ان کے قتل کا سد باب کرتا خواہ اس راہ ميں مجھے اپنے بعض بچوں کي قرباني کيوں نہ ديني پڑتي- پر خدا نے کچھ ايسا ہي مقدر کيا تھا جو آپ نے ديکھا"- (1)

تاہم يہ عوام کو دھوکہ دينے کي ايک کوشش تھي ورنہ اسيران آل محمد (ص) شام ميں کيوں ہوتے؟ اور انہيں شام ميں کئي دن تک قيد کيوں کيا جاتا؟ ان کے لئے دربار ميں مجلس جشن کيوں بپا کي جاتي اور انہيں طعنے کيوں ديئے جاتے؟ اور بالآخر يہ کہ عبيداللہ بن مرجانہ اس کے بعد بھي کوفہ کا گورنر کيونکر رہ سکتا تھا؟ اور يزيد اس کو شام بلوا کر اس کو کثير تحائف کيوں ديتا اور اس کو اپنے گھر ميں اپنے خاص فرد کے عنوان سے جگہ کيوں ديتا اور عيش و عشرت کي خاص محافل ميں اس کو شرکت کي دعوت کيوں ديتا؟!

نتيجہ يہي ہے کہ يزيد نے شام ميں عوامي بغاوت کا سد باب کرنے اور عوام کي مزيد آگہي کا راستہ روکنے کے لئے اہل بيت (ع) کو مدينہ روانہ کيا-

امام سجاد (ع) کي کارکردگي نے امويوں کا  چہرہ بےنقاب کرديا تھا جو اسلام کے نام پر حکومت کررہے تھے اور امت ان کو پہچان چکي تھي جس کے بعد اموي ملوکيت کے خلاف خوني تحريکوں کا آغاز ہوا-

درحقيقت کربلا ميں سيدالشہداء (عليہ السلام) کي عظيم تحريک کو اسيران آل محمد (ع) کي ابلاغي تحريک نے زندہ جاويد کرديا تھا اور مسلمانوں ميں رزم و شجاعت اور ايثار کے جذبات کا ابھرنا اس کا فطري رد عمل تھا- اسلام پسندي اور طاغوت کے خلاف جہاد کے احساسات کو فروغ ملا اور عوام نے مختلف تحريکوں کے ذريعے آل ابي سفيان کي بادشاہت کي بساط لپيٹنے کي کوشش کي جس کا قليل المدتي نتيجہ بہت تھوڑے عرصے ميں آل ابي سفيان کے زوال کي صورت ميں ظہور پذير ہوا- اور مروان امت مسلمہ پر مسلط ہوا-  

آل اميہ کے خلاف اٹھنے والي تحريکوں ميں قيام توابين، قيام مختار اور قيام مدينہ خاص طور پر قابل ذکر ہيں- اول الذکر دو تحريکوں نے امويوں کو شام تک محدود کرديا تھا- ان کو امام سجاد (عليہ السلام) کي اخلاقي حمايت حاصل تھي- امام سجاد (ع) کي تعليمات ہي کے نتيجے ميں ہي واقعۂ کربلا کے نصف صدي بعد امام (ع) کے فرزند زيد بن علي بن الحسين (ع) کي تحريک نے امويوں کو سنجيدہ خطرات سے دوچار کيا- اس تحريک ميں اہل سنت کے امام ابوحنيفہ بھي شريک تھے-

 

حوالہ جات:

1- علامہ محمد باقر مجلسي ـ بحارالانوار ج 45 ص 145-

 

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

فتح يزيد کيسے شکست ميں تبديل ہوئي

امام سجاد (ع) اور رمضان کي آخري رات