• صارفین کی تعداد :
  • 2989
  • 8/11/2013
  • تاريخ :

مغرب کي ثقافت ميں حجاب

پرده

 

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ اوّل)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ دوّم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے(حصّہ سوم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ چہارم)

 

عورت کي عريانيت اور الکحل ازم، يورپي روايت:

اس وقت دنيا ميں کچھ مخصوص چيزوں کے سلسلے ميں بڑي حساسيت ديکھنے ميں آتي ہے- اگر کسي شخصيت، کسي فلسفي، کسي سياستداں نے عورت کي عريانيت کي مخالفت کر دي تو اس پر دنيا ميں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے! بہت سي بري عادتوں اور حرکتوں کے سلسلے ميں يہ حساسيت نہيں ہے! اگر کوئي ملک پاليسي کے تحت شراب کي مخالفت کرنے لگے تو ايک شور شرابا مچ جاتا ہے اور تمسخرانہ مسکراہٹيں نظر آنے لگتي ہيں، اسے رجعت پسند کہا جانے لگتا ہے! يہ بھي کوئي ثقافت ہوئي؟ ثقافت کے جز کے طور پر عورت کي عريانيت اور نشے کو عمومي رواج کے طور پر متعارف کرانا کس کا کام ہے؟ اس کا تعلق يورپ سے ہے اور يہ چيز ان ممالک کي قديمي تہذيب سے نکلي ہے- يہي چيزيں اب دنيا کے ديگر علاقوں ميں مسلمہ رواج کا درجہ حاصل کر چکي ہيں اور اگر کوئي اس کي مخالفت کرتا ہے تو گويا اس سے گناہ کبيرہ سرزد ہو گيا ہو-

 

مغرب کي متضاد باتيں:

يورپي ممالک ميں جو خود کو ترقي يافتہ کہتے ہيں اور اپنے پروپيگنڈوں ميں ظاہر کرتے ہيں کہ انساني حقوق اور انسانوں کي آزادي کا موضوع ان کے لئے بڑي اہميت کا حامل ہے يعني انہي برطانيہ اور فرانس نے چند عورتوں يا لڑکيوں کو اتني بھي اجازت نہيں دي کہ وہ اسلامي حجاب کے ساتھ آمد و رفت کر سکيں اور اسکولوں ميں جائيں! اس مرحلے ميں تو اکراہ و اجبار سب کچھ ان کے لئے جائز ہو جاتا ہے اور اس ميں کوئي مضائقہ نہيں رہ جاتا! ليکن اسلامي جمہوريہ پر اس وجہ سے کہ وہ معاشرے ميں حجاب کو لازمي سمجھتا ہے ان حلقوں نے شديد اعتراض کيا ہے! اگر عورتوں کو کسي وضع قطع يا کسي لباس ميں رہنے پر مجبور کرنا برا ہے تو يہ برائي حجاب کو ضروري قرار دئے جانے کي برائي سے کہيں زيادہ ہے کيونکہ يہ (حجاب) سلامتي و تحفظ سے زيادہ نزديک ہے- کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ دونوں کي باتوں کو ايک نظر سے ديکھا جائے ليکن مغرب کا نظريہ يہ نہيں ہے-

 

مغربي ثقافت ميں عورت کي تذليل و تحقير:

عورتوں کے مسئلے ميں ہمارا موقف دفاعي نہيں، جارحانہ ہے- مغرب والوں کا ہم پر اعتراض ہے کہ آپ کي عورتيں حجاب ميں کيوں رہتي ہيں، کيوں حجاب کو لازمي کر ديا گيا ہے- جبکہ ان لوگوں نے بے حجابي و بے پردگي کو لازمي کر رکھا ہے- عورتوں کے قضيئے ميں ان کي مشکل اس سے کہيں زيادہ بڑي ہے- مغربي دنيا ميں عورت کو رسوا کرکے رکھ ديا گيا ہے، اس کي تحقير و توہين کي گئي ہے- يہ جو سفارت کاري کے امور ميں عورت اور مرد ايک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہيں اس سے اس کاري ضرب کي تلافي نہيں ہو سکتي جو مغرب نے عورت پر لگائي ہے- انہوں نے عورت کو لذت و شہوت کے سامان کے طور پر استعمال کيا ہے- ان کا ماننا ہے کہ ميک اپ کے بغير عورت کي کوئي ارزش و قيمت نہيں ہے- اسے چاہئے کہ سجے سنورے تاکہ مردوں کو اچھي لگے- يہ عورت کي سب سے بڑي توہين ہے- (جاری ہے)

 


متعلقہ تحریریں:

اسلام نے عورت کو نجات دلائي

عورت کي مغربي حيثيت