• صارفین کی تعداد :
  • 6690
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

اسلامي انقلاب اور  اتحاد

ايران

امام  خميني رح کي شخصيت سے رہنمائي

اسلامي انقلاب نے استکبار کا مقابلہ کيا

اسلامي انقلاب اور استکبار کے حيلے

امام خميني رح کے متعلق لوگوں کے خيالات

کيا سچ نہيں ہے کہ مختلف مراحل پر بني صدر ،  قطف زادہ جيسے مذھبي روشن فکر لوگوں کي وجہ سے ہماري تحريک آزادي کو نقصان نہيں پہنچا ہے ؟  اس ليۓ نہيں کہ يہ انہوں نے جان بوجھ کر مختلف مراکز ميں اعلي عہدے حاصل کيۓ ہيں اور حتي  ملک کي اہم ذمہ دارياں بھي ان کے سپرد ہيں ليکن  بالکل اسلام  ، عوام ، امام اور انقلاب  پر  اعتقاد اور اعتماد کي کمي کي وجہ سے  ہميشہ پيچھے سے  انہوں نے خنجر گھونپا ہے -

يہ وہي اہم اور بنيادي نکتہ ہے  جو جناب الغنوشي کي نظر ميں بہت ساري اسلامي تحريکوں کي نظر ميں  وجہ مشترک ہے -  جناب غنوشي دور حاضر ميں   مذھب سے دين کي دوري کو کمال اتاترک کے دور اور  گذشتہ دور ميں بني اميہ کے دور  ميں لے جاتے ہيں -

جناب الغنوشي شيعہ اور سني کے درميان مستقل تشکيلات کا موازنہ بھي کرتے ہيں اور اتفاقي طور پر بہت اچھے اور حکمت آميز نتائج نکالتے ہيں کہ ان کے بيان کے مطابق   چھوٹي سے چھوٹي  تفرقہ بازي  سے بھي بچا جا سکتا ہے -

 ايک اور پہلو سے اہم بحث  جو شيعوں ميں امام اور امت کے رابطے سے نتيجہ خيز ثابت ہوتي ہے  ،  ايک لوگوں کي ديني علماء  کي اطاعت اور پيروي ہے اور دوسري  لوگوں کي بڑي تعداد کي زبان سے امام کي آشنائي ہے - کيا يہ سچ ہے کہ اگر يہ قرار ہوتا کہ امام خميني  فقہ سے  اوپر فقيھي موضاعت پر بات کيا کرتے،  لوگوں سے بات کيا کرتے يا معرفت پر بات کيا کرتے ، فلسفہ پر بات کيا کرتے  تو بڑي آساني کے ساتھ منبر پر بيٹھ کر ميليون کي تعداد ميں رضاکاروں ، پيروکاروں ميں کامياب رہتے ؟ بلاشک نہيں -

جناب الغنوشي  ايسے مفکرين اور انديشہ مند لوگوں ميں سے ہيں جس نے حقيقي طور پر بہت گہرائي سے ہمارے انقلاب ، محوروں ، ارکان ، فلسفے ، اہداف ، کاميابي کي وجوہات ، نقاط قوت ، سربلندي کا راز ،  روحانيت کي جگہ  اور اسلامي انقلاب ميں امام خميني کے کردار کو سمجھا ہے - حضرت امام خميني کي شخصيت کے تعارف   پرتجزيہ کے  دوران  دوسرے جملہ اہم موضوعات جن پر بات ہوئي ہے ، وہ يہ ہيں کہ "  امام خميني اسلامي دنيا ميں فرقہ پرستي کو ختم کرنے کے حامي تھے  تاکہ غيرشيعہ منابع کو بھي اپنے قريب  رکھ سکيں - "

" امام خميني کسي بھي دوسرے شخص سے زيادہ اسلامي امت کي وحدت کے ليۓ فکرمند تھے -

مقالے کے آخري حصے کو ہم جناب الغنوشي کي بات کے آخري حصہ پر ختم کريں  گے کہ تمام ممالک ، تحاريک  اور خاص طور پر اسلامي تحريکوں کے ليۓ روشن اور حقيقي اصولوں پر مبني ايک واضح سبق موجود ہےجس سے ہدايت اور عبرت حاصل کي جا سکتي ہے -

" اس انقلاب نے تاريخ ميں پہلي بار ، لوگوں کي ايک بڑي تعداد کو ، طبقے کے مظلوم ترين افراد اور آخر کار پڑھے لکھے افراد کو اپني طرف راغب کيا - يہاں پر ايراني خواتين کا انقلاب ميں کردار بھي بہت قابل ذکر ہے -  خواتين نے  انقلاب کي رغبت ، آئيڈيولوجي کو عام کرنے ، جانبازي اور قيام کے ذريعے اسلامي انقلاب کو کامياب بنانے ميں بہت اہم کردار ادا کيا ہے - خواتين ميں احساس اور روح ميں نفوذ کرنے کي قوت ہوتي ہے جس کي وجہ سے وہ کسي بھي دوسري طاقت کي نسبت  بہتر انداز ميں  کسي بھي انقلاب کو کامياب بنانے کي زيادہ طاقت رکھتي ہيں -

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان