• صارفین کی تعداد :
  • 4937
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

او لڑکے لوٹا لے آ

او لڑکے لوٹا لے آ

شير نے گھوڑے سے پوچھا تو کون ہے؟

کيا يہ بے سر وپا سي مخلوق آدمي زاد ہے؟!

آدمي زاد: ميں جانوروں کي نگہداشت کرتا ہوں  

آدمي زاد نے شير کے ليے گھر! بنايا

شير نے جس قدر بھي غور کيا، اسے کہ آدمي زاد کوئي وحشت ناک چيز نہيں اور بڑا مہربان ہے- يہ سوچ کر وہ بے خوف و خطر پنجرے کے اندر چلا گيا- بڑھئي نے فورا پنجرے کا دروازہ بند کيا اور بولا: " آپ تشريف رکھيے تا کہ ميں آدمي زاد کے ہنر سے آپ کو آگاہ کروں-"

آدمي نے آہستہ سے اپنے شاگرد کو حکم ديا: " اس ديوار کے پيچھے تھوڑي سي آگ جلا اور لوٹے کو پاني سے بھر کر آگ پر رکھ دے تاکہ پاني ابال کھانے لگے اور جب ميں آواز دوں، لوٹا اٹھا لانا-"

پھر وہ پنجرے کے پاس آيا اور شير سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: " ہاں، تو يہ جو کہا جاتا ہے کہ آدمي زاد امکا ڈھمکا ہے سو قابل توجہ يہ بات ہے کہ انسان کا جسم  تو بڑا حساس اور نازک نارنجي ہے ليکن اس کا دماغ تمام جان داروں سے بہتر کام کرتا ہے- تم نے آدمي زاد کو بہت کمزور تصور کيا ہے گويا جنگل سے نکل کر راہ پر آئے اور اس کے چہرے کي کھال نوچ لي! آدمي زاد نے سيکڑوں طرح کي چيزيں ايجاد کي ہيں کہ خود اس کے ليے فايدہ مند اور اس کے بدخواہوں کے ليے نقصان دہ ہيں- يقينا ہمارے پاس پنجے اور دانت نہيں ليکن ہمارے پاس متعدد ايسي چيزيں ہيں جو پنجوں اور دانتوں سے سوگنا خطرناک ہيں اور تمام حيوانات ہم سے ڈرتے ہيں تو انھي کي وجہ سے! اب ميں ايک چھوٹے سے حقير لوٹے کے ذريعے تمھيں ايسي مصيبت ميں مبتلا کرتا ہوں کہ جب تک تم زندہ ہو، اسے بھول نہ پاۆ گے اور دوبارہ انتقام لينے کا ارادہ نہيں کرو گے-" پھر وہ اونجي آواز ميں بولا! " او لڑکے لوٹا لے آ!"

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان