• صارفین کی تعداد :
  • 2663
  • 3/29/2013
  • تاريخ :

گھريلو معاملات ميں ناپاکي کي ايک جھلک

مسلمان خاندان

خانداني معاملات کو احسن انداز سے  نبھانا اور  گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار رکھنا  بہت ضروري ہوتا ہے جس کے ليۓ گھر کے  ہر فرد کو فہم و فراست سے کام لينا  ہوتا ہے - خاندان کے تمام اعضاء اگر اس  پہلو پر غور کريں اور معاملے کي اہميت کو سمجھيں تب بڑي آساني کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کيے جا سکتے ہيں -

  انسان کو ہميشہ يہ کوشش کرني چاہيۓ کہ  اپنے اوپر غصّہ طاري نہ ہونے دے -  غصّہ  درحقيقت  پاگل پن   اور  ناداني کي ايک علامت ہوتي ہے جو  تباہي کا باعث بن جاتا ہے -  غصيلا انسان شيطان کا ساتھي ہوتا ہے - گھريلو معاملات ميں  اگر کوئي غصّے  پر قابو پانے  ميں ناکام ہو جاۓ تب  خاندان کے افراد کي تربيت ميں مشکلات آتي ہيں -  اس ليۓ ہميشہ محبت اور عشق کا دامن تھامے رکھيں کيونکہ يہ انسان کو غصّے سے نجات دلاتا ہے -  غصّہ ايک ايسا شر ہے جسے اگر قابو نہ کيا جاۓ تو انسان کو تباہ کرکے رکھ ديتا ہے اور اس کے معاشرتي تعلقات بہت بگڑ جاتے ہيں -

غصّے کي حالت ميں جب انسان دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ انسانيت کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے  اور اس کي مثال ايسے وقت ميں ايک درندہ صفت انسان کي سي ہوتي ہے  جس کے شر سے اس کے اردگرد  موجود  انسان محفوظ نہيں رہتے  ہيں -

وقال رجلٌ اَوْصِنى، فقال صلى الله عليه وآله وسلّم: لاتَغضَب، ثم أعادَ عليه، فقال: لاتَغضَب، ثمّ قال: ليس الشّديد بِالصّرَعَةِ، انّما الشديدُ الذي يَملكُ نفسه عند الغضبِ. (تحف العقول صفحه 47 )

ترجمہ:

 ايک شخص نے پيغمبر اسلام (ص) سے عرض کيا کہ مجھے کچھ نصيحت فرمائيں، پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا؛ غصہ نہ کرو اس نے ايک بار پھر يہي درخواست کي، پيغمبر اسلام نے دوبارہ فرمايا کہ غصہ نہ کيا کرو ، پھر آپ نے مزيد فرمايا کہ طاقتور انسان وہ نہيں ہے جو دوسروں کو زمين پر پٹخ دے- طاقتور انسان وہ ہے جو غيظ و غضب کے وقت بے قابو نہ ہو جائے-

حديث کي تشريح :

 حديث ميں " لا تغضب قھرا " سے غير اختياري غيظ و غضب مراد نہيں ہے بلکہ ارادہ و اختيار کے ساتھ غصہ ہونا مقصود ہے- يعني غصے کو خود پر مسلط نہ ہونے دو آپے سے باہر نہ ہو جاۆ- شجاع و بہادر وہ نہيں ہے جو کشتي ميں کسي کو زير کر دےبلکہ شجاع وہ ہے جو غصہ آنے پر خود کو قابو ميں رکھے- غصے سے مراد بھي وقتي غصہ نہيں ہے بلکہ وہ نفرت ہے جس کي وجہ سے انسان کسي دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کے موقع کي تلاش ميں رہتا ہے- ( جاري ہے )

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

طلاق کے بعد بھي  ايک دوسرے کا احترام کريں