• صارفین کی تعداد :
  • 1305
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 15

علي عليہ السلام

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 11

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 12

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 13

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 14

ايت اللہ العظمي حسين مظاہري

"اے پيغمبر ! جو اللہ کي طرف سے آپ پر اتارا گيا ہے، اسے پہنچا ديجئے"-

اور دوسري بات يہ کہ خداوند متعال اس آيت ميں ضمانت ديتا ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے لئے کوئي حادثہ پيش نہيں آئے گا، لوگ بغاوت نہيں کريں گے --- اور فرماتا ہے کہ "آپ مطمئن ہوکر يہ حکم پہنچا ديں؛ ارشاد ہوتا ہے:

"وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ"-[25]

"اور اللہ لوگوں سے آپ کي حفاظت کرے گا"-

[اس آيت ميں اللہ کي ضمانت کے حوالے سے] روايات اور احاديث ميں منقول ہے کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو انديشہ تھا کہ لوگ مرتد ہوجائيں گے اور آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو جھٹلاديں اور امر ولايت کي تبليغ کے سامنے سرتسليم خم نہ کريں، چنانچہ يہ تبليغ آپ (ص) کے لئے مشکل تھي اور آپ اللہ کي پناہ مانگ رہے تھے- بعض احاديث کي عبارت مندرجہ ذيل ہے:

الف: "قالَ الْباقِرُ سلام‌الله‌عليه: ---- فَاَمَرَ اللَّهُ تَعالى مُحَمَّداً (صلّي‌الله‌عليه‌وآله‌وسلّم) اَنْ يُفَسِّرَ لَهُمُ الْوِلايَةَ كَما فَسَّرَ لَهُمُ الصَّلوةَ وَ الزَّكوةَ وَ الصَّومَ وَ الحَجَّ فَلَمَّا اَتاهُ ذلِكَ مِنَ اللَّهِ ضاقَ بِذلِكَ صَدْرُ رَسُولِ‏اللَّهِ (صلّي‌الله‌عليه‌وآله‌وسلّم) وَ تَخَوَّفَ اَنْ يَرْتَدُّوا عَنْ دينِهِمْ وَ اَنْ يُكَذِّبُوهُ فَصاقَ صَدْرُهُ وَ راجَعَ رَبَّهُ - عَزَّوَجَلَّ - فَاَوحَى اللَّهُ - عَزَّوَجَلَّ - اِلَيْهِ: يا اَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ"-[26]

امام محمد باقر سلام اللہ عليہ نے فرمايا: --- خداوند متعال نے حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو حکم ديا کہ لوگوں کے لئے ولايت کے معني کي وضاحت و تفسير فرمائيں جس طرح کہ آپ (ص) نے ان کے لئے نماز، زکواة، روزے اور حج کي تفسير و تشريح فرمائي ہے، پس جب يہ حکم اللہ کي طرف سے نازل ہوا پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا سينہ تنگ ہوگيا اور آپ کو خدشہ لاحق ہوا کہ کہيں لوگ اپنے دين سے پلٹ نہ جائيں اور آپ (ص) کو جھٹلا نہ ديں---

.............

مآخذ:

25-‌ سورہ مائده آيت 67-

26-‌ اصول كافى، ج 2، ص 47، ح 4-