• صارفین کی تعداد :
  • 1388
  • 3/22/2012
  • تاريخ :

قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے 1

روزِ عاشوره

باہتمام: زينب اميني

قدس منتظر ہے، امام حسين (ع) نے حريت پسندوں کے لئے دنيا کے ہر مقام پر راستے کھول ديئے جو انشاء اللہ پوري دنيا ميں ظلم کي مکمل نابودي پر منتج ہوگا- شہادت طلبي اور مشن کے راستے ميں جانفشاني کے لئے کسي خاص وسيلے اور اوزار کي ضرورت نہيں ہے اور يہي ہماري طاقت اور دشمن کي ذلت اور کمزوري کا راز ہے- دشمن سمجھتا ہے کہ دنيا کي زندگي اتني گراں قدر اور بيش بہاء ہے کہ اس کي ظاہري صورت اور اس کي سہوليات کے تحفظ کے لئے ہر پستي اور رذالت کے سامنے سرتسليم خم کيا جاسکتا ہے اور انساني بلندي سے حضيض حيوانيت تک تنزل کيا جاسکتا ہے ليکن امام حسين عليہ السلام نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر اور اپنے خاندان کو قربان کرکے ثابت کرکے دکھايا کہ حيات و ممات کے معني اور بھي ہيں اور اس مارے جانے ميں زندگي ہے جو ظالموں کے دباۆ کے تحت سانس لينے ميں نہيں ہے-

* صفين ميں بيٹے محمد بن حنفيہ کے لئے اميرالمۆمنين (ع) ارشادات کي طرف اشارہ-

کربلا ہميں اپني جانب بلا رہي ہے اور کربلا کے اس پار، قدس ہے شيطان کي قيد ميں --- اور راستہ کربلا سے گذرتا ہے- کربلا اور چند قدم اس طرف، قدس، ہراول لشکر کے انتظار ميں ہيں، اور يہ ہراول دستے وہي ہيں جو عدل موعود کي طرف تاريخ کا راستہ کھول ديں گے- کيا تم بھي ان دستوں سے جا ملے ہو؟


متعلقہ تحريريں:

کربلا ميں خانداني تعلقات کا خوبصورت ترين نمونہ کيا ہے؟