• صارفین کی تعداد :
  • 2573
  • 7/22/2011
  • تاريخ :

سورهء يوسف (ع) کي يت نمبر 99-96 کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

پيغمبر رحمت (ص) اور ان کي پاکيزہ عترت پر درود و سلام کے ساتھ ، الہي تعليمات پر مشتمل آسان و عام فہم سلسلہ وار تفسير پيام قرآن کے ساتھ حاضر ہيں اور حضرت يوسف عليہ السلام کي داستان پر مبني اپني يہ گفتگو سورۂ يوسف (ع) کي آيت چھيانوے سے شروع کر رہے ہيں ، ارشاد ہوتا ہے :

فلمّا ان جاء البشير القاہ علي' وجہہ فارتدّ بصيرا" قال الم اقل لّکم انّي اعلم من اللہ ما لا تعلمون -( يعني ) جب خوش خبري لانے والے ( بيٹوں ) نے ( يعقوب ع کے پاس ) پہنچکر وہ ( قميص ) ان کے چہرے پر ڈال دي تو فورا" ( آنکھوں کي ) روشني واپس آگئي ( اور يعقوب ع نے ) کہا : کيا ميں تم لوگوں سے نہيں کہتا تھا کہ ميں اللہ کي طرف سے وہ باتيں جانتا ہوں جو تم لوگ نہيں جانتے -

جيسا کہ آپ کے پيش نظر ہے حضرت يوسف (ع) نے ، اپنے بھائيوں کي تمام کوتاہيوں سے چشم پوشي کرتے ہوئے ان کے احساس شرمندگي کو ہي غلطيوں کا اعتراف سمجھ کر معاف کرديا اور اپني قميص دے کر کنعان بھيجا کہ يہ قميص حضرت يعقوب (ع) کے چہرے پر ڈالديں آنکھوں کي بصارت واپس آجائے گي اور پھر پورے گھر کو لے کر وہ سب کے سب مصر واپس آجائيں چنانچہ جب يہ لوگ گھر واپس پہنچے اور قميص يعقوب (ع) کے چہرے پر ڈالي ان کي کھوئي ہوئي روشني واپس آگئي اور يعقوب عليہ السلام نے اپني کہي ہوئي باتوں کو گمراہي اور خبط الہواسي کي باتيں قرار دينے والوں سے کہا ديکھا تم نے ميں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ نے مجھ کو بہت سي ان باتوں کا علم ديا ہے جو تم لوگ نہيں جانتے -  ميں اس عرصے ميں جب بھي يوسف (ع) کي بات کرتا تم ميري محبت کو بے حواسي کا رنگ ديتے وہم و خيالات ميں مبتلا ايک باپ کا خبط قرار ديتے اور کہتے تھے کہ بھيڑپے کے پنجوں سے نکل کر يوسف (ع) کيسے واپس آسکتے ہيں؟! يہ بھي قدرت کا عجيب انتظام بلکہ بڑا ہي انوکھا انتقام ہے کہ کل جن لوگوں نے باپ کو يوسف (ع) کا پيراہن ، خون ميں لت پت دکھا کرکہا تھا کہ انہيں بھيڑيا کھاگيا اور وہ اب دنيا ميں نہيں ہيں ان کے ہي ذريعہ يوسف (ع) کا پيراہن باپ کے پاس دوبارہ بھيج کر کہلوايا جا رہا ہے کہ يوسف (ع) زندہ ہيں اور مصر کے حکمراں بنے ہوئے ہيں اور انہوں نے پورے خاندان کو مصر آنے کي دعوت دي ہے -چنانچہ سورۂ يوسف (ع) کي آيات ستانوے اور اٹھانوے ميں : بيٹے باپ سے کہتے ہيں : " قالوا يا ابانا استغفرلنا ذنوبنا انّا کنّا خاطئين ، قال سوف استغفرلکم ربّي انّہ ہو الغفور الرّحيم " ( يعقوب ع کے بيٹوں نے ) کہا : اے ہمارے بابا ! ہمارے گناہوں کے لئے ( خدا سے ) بخشش کي (سفارش ) کيجئے کيونکہ ہم لوگ واقعا" خطاکار ہيں ، ( يعقوب ع نے ) کہا : ( ہاں ) ميں اپنے پروردگار سے ابھي تمہارے گناہ بخش دينے کي التجا کروں گا بلاشبہ وہ بڑا بخشنے اور رحم کرنے والا ہے -گويا بيٹوں نے باپ کے سامنے بھي اپني غلطي تسليم کرلي اور يہ جانتے ہوئے کہ ہم نے دو دو نبيوں کا دل دکھايا ہے اور ان کي محبت سے جلن اور حسد کے باعث ان ميں جدائي ڈال کر دونوں کو اذيت ميں مبتلا کيا ہے لہذا باپ سے ہي طلب آمرزش کي خواہش کي تا کہ ان کي سفارش پر اللہ انہيں معاف کردے چنانچہ حضرت يعقوب (ع) نے بھي دعا کا وعدہ کيا کہ ابھي ان کے لئے مغفرت کي دعا کريں گے اور جيسا کہ روايات ميں ہے دعاکے لئے مناسب وقت يعني شب جمعہ ميں وہ ان کے لئے استغفار کرنا چاہتے تھے تا کہ قبوليت کا ماحول پوري طرح فراہم ہوجائے اور بعض کے نزديک پچھلے پہر ميں دعا کرنے کا وعدہ فرمايا تھا اور بيٹوں کو گناہ کي معافي کا اطمينان دلايا تھا تا کہ ان کا جذبۂ استغفار کمزور نہ پڑنے پائے -اور اب سورۂ يوسف ( ع )  کي آيت ننانوے ، ارشاد ہوتا ہے : " فلمّا دخلوا علي يوسف اوي اليہ ابويہ و قال ادخلوا مصر ان شاء اللہ امنين " پس جس وقت يوسف (ع) کا خاندان ان کے پاس ( مصر ميں ) داخل ہوا انہوں نے اپنے باپ اور ماں کو اپنے سامنے جگہ دي اور کہا ( اب ) آپ لوگ مصر آگئے انشاء اللہ آپ سب يہاں امن و امان سے ہيں -ظاہر ہے برسوں کے بعد حضرت يوسف (ع) اور حضرت يعقوب (ع ) پورے خاندان کے ساتھ کہ جن کي کل تعداد 73 افراد پر مشتمل بتائي جاتي ہے مصر ميں اکٹھا ہوئے تھے دونوں طرف خوشيوں کے جذبے موجزن تھے بعض روايات کے مطابق حضرت يوسف (ع) نے بيرون شہر جاکر حضرت يعقوب (ع) اور ان کے ساتھ خاندان کے تمام افراد کا استقبال کيا اور ماں باپ کو آغوش ميں بھر کرعزت و احترام کے ساتھ انہيں شہر ميں لے آئے اور کہا : اب آپ لوگ سکون و اطمينان کے ساتھ مصر ميں رہئے يہاں ہر طرح سے امن بھي ہے اور امان بھي کسي طرح کي فکر کرنے کي ضرورت نہيں ہے -چنانچہ چارسو سال بعد ، حضرت يعقوب (ع) اور ان کے اہل خاندان کي آل اولاد نے جب حضرت موسي' ( ع) کے ساتھ مصر سے ہجرت کي ہے تو آل يعقوب کي تعداد چھ لاکھ افراد سے بھي زيادہ ہوچکي تھي -اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ : 

انبياء عليہم السلام کي ايک بڑي خصوصيت يہ ہے کہ وہ الہي وعدوں پر يقين اور اسي کے لطف و عنايت پر توکل اور اعتماد کرتے ہيں - اولاد اگر نيکوکار نہ ہو تو والدين کے لئے جسماني اور روحاني مشکلات کا باعث بن جاتي ہے اسي اس کو فتنہ سے بھي تعبير کيا گيا ہے ليکن نيک اور صالح اولاد آنکھوں کي روشني ميں اضافے کا سبب ہے اور قرآن نے اس کو " دنيوي زندگي کے لئے زينت قرار ديا ہے -"

اوليائے خدا سے توسل ، گناہوں کي مغفرت کے لئے خدا کو پسند ہے اسي لئے يوسف (ع) کے بھائيوں نے ، اپني خطاؤں کي مغفرت کے لئے پہلے حضرت يوسف (ع) اور پھر حضرت يعقوب (ع) سے توسل اختيار کيا اور انہوں نے ان کي مغفرت کے لئے دعا کا وعدہ کيا -

خطاکار اگر اپني غلطي کا اعتراف کرلے تو اس کي سرزنش کے بجائے معاف کردينا چاہئے اور اگر ہوسکے تو خدا سے بخشش کي سفارش کرني چاہئے کيونکہ انبياء(  ع ) کي سيرت يہي رہي ہے -

عہدہ و منصب پر فائز ہونے کے بعد بھي والدين کے عزت و احترام ميں کوئي کمي نہ آئے خدا کے بندہ کي يہي شان ہے -

نيکوکاروں کي حکومت ہر ايک کے لئے امن و امان کي پيغامبر ہوتي ہے -البتہ حکام کو اپني کارکردگي پر اکٹرنا نہيں چاہئے جيسا کہ حضرت يوسف (ع) نے کہا تھا لطف خدا سے مصر ميں امن و امان حکمراں ہے لوگ اطمينان سے رہ سکتے ہيں -

بشکريہ آئي آر آئي بي


متعلقہ تحريريں:

سورۂ يوسف ( ع) کي آيت نمبر 84 - 80 کي تفسير

زير بحث آيات 76 تا 79 سے جو سبق ملتے ہيں ان کا خلاصہ

سورۂ يوسف ( ع) کي آيت نمبر 78-79  کي تفسير

سورۂ يوسف ( ع) کي آيت نمبر 77 کي تفسير

سورۂ يوسف ( ع) کي آيت نمبر 76 کي تفسير