• صارفین کی تعداد :
  • 2942
  • 6/8/2011
  • تاريخ :

غزوہ خندق (احزاب)

غزوہ خندق

تقریباً ۲۳ شوال سنہ ۵ ہجری

بنی نضیر کے یہودی جنہوں نے اپنی کینہ توزی اور انتقام کے خیال سے مدینہ کو چھوڑا تھا وہ خاموشی سے بیٹھ گئے، جب یہ لوگ خیبر پہنچے تو ان کے سردارحی بن اخطب اور کنانہ بن ابی الحقیق ابو عامر فاسق اور ایک دوسری جماعت کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوگئے قریش اور ان کے تابعین کو رسول خدا سے جنگ کی دعوت دی۔ انہوں نے قریش سے کہا کہ محمد کی طرف سے تمہارے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اگر فوراً انہوں نے پسپا کر دینے والے لشکر کی تیاری نہیں کی تو محمد ہر جگہ اور ہر شخص پر غالب آجائیں گے۔

ایک طرف بدر موعد میں قریش کی شکست و سرنگونی اور جنگی قرارداد کے مطابق لشکر اسلام کے خوف سے ان کا حاضر نہ ہونا اور لشکر اسلام کی پے درپے کامیابی نے قریش کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ بڑھتی ہوئی جنگی طاقت کے پیش نظر بنیادی طور پر اسلامی تحریک کی سرکوبی کی فکر کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے قریش خود اس بات کی فکر میں تھے کہ وہ ایک عظیم لشکر فراہم کریں اور اب بہترین موقع آن پہنچا تھا۔ اس لیے کہ یہودیوں نے اعلان کر دیا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے یہاں تک کہ محمد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں گے اس وجہ سے قریش کے سرداروں کے ساتھ کعبہ میں گئے اور وہاں انہوں نے قسم کھائی کہ ایک دوسرے کو بے سہارا نہیں چھوڑیں گے اور پیغمبر سے مقابلہ کے لیے آخری فرد کی زندگی تک ایک دل اور ایک زبان ہو کر ڈٹے رہیں گے۔ قریش نے یہودیوں کے سربرآوردہ افراد سے پوچھا کہ تم قدیم کتاب کے جاننے والے اور عالم دین ہو تم فیصلہ کرو کہ ہمارا دین بہت ہے یا محمد کا؟ یہودیوں کے نیرنگ باز سرداروں نے جواب دیا کہ:

”تمہارا دین بہت ہے اور تم حق پر ہو۔“

قرآن اس اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

کیا تم نے ان لوگں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کتاب سے کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ کس طرح بتں اور طاغوت پر ایمان لات ہیں اور کافرین و مشرکین سے کہتے ہیں کہ تمہارا راستہ مومنین کی بہ نسبت حقیقت سے زیادہ نزدیک ہے۔

یہودی سرداروں سے مشرکین مدد کا وعدہ کر لینے اور روانگی کی تاریخ معین کر لینے کے بعد یہودیوں نے بھی ان سے وعدہ کیا کہ بنی قریظہ کے یہودیوں کو جو اس وقت ساکن مدینہ تھے، مدد کے لیے بلائیں گے اور لوگوں کو پیمان شکنی اور جنگ پر آمادہ کرنے کے بعد وہ لوگ قبیلہ غطفان کی طرف روانہ ہوئے، قبیلہ غطفان کے افراد نے ان کی ہمراہی کے علاوہ اپنے ہم عہد قبیلہ بنی سلیم کو مدد کے لیے بلایا۔

(تاریخ طبری ج۲ ص ۵۶۶)

یہودیوں کی تحریک پر ”تحریک اسلامی کی مخالفت میں یہ بہت بڑا متحدہ محاذ تیار ہوگیا اور مختلف جماعتوں اور گروہوں کے لوگ چاہے وہ مشرکین ہوں، مستکبرین ہوں، یہود و منافقین ہوں، مدینہ سے فرار کرنے والے ہوں، قریش کے مختلف قبائل کے افراد ہوں یا بنی سلیم بنی غطفان، بنی اسد، سب نے آپس میں مل کر اسلام کے خلاف جنگ لڑنے کو تارک کا راستہ سمجھا تاکہ نور خدا کو خاموش کر دیں۔ جنگی اخراجات اور لازمی اسلحہ کی فراہمی یہود کی طرف سے تھی۔

لشکر احزاب کی مدینہ کی طرف روانگی

مختلف قبیلوں اور گروہوں سے اس جنگی عہد و پیمان میں شرکت کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی اور لشکر کی کمان ابو سفیان کے ہاتھوں میں تھی۔

مختلف گروہ کے جنگجو افراد اسلحہ سے لیس روانگی کے لیے تیار تھے۔ اس زمانہ کے جنگی ایمونیشن اور ساز و سامان سے لیس اتنا بڑا لشکر سرزمین حجاز نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

ماہ شوال سنہ ۵ ہجری میں ابوسفیان نے احزاب کے سپاہیوں کو تین الگ الگ دستوں میں یثرب کی جانب روانہ کیا۔

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

سريہ عمرو بن اميہ

بئر معونہ کا واقعہ

رجيع کا واقعہ

پنجشنبہ يکم محرم سنہ  ہجري قمري ميں

ابو عزہ شاعر کي گرفتاري