• صارفین کی تعداد :
  • 3240
  • 1/25/2011
  • تاريخ :

ایران کے نباتات ( حصہ سوّم)

سیب کا درخت

سیب

یہ جنگلی صورت میں بحر خزر اور بحر سیاہ کے ساحلوں پر اگتا تھا اور یوں اسی خطے کو سیب کی اصل کاشت گاہ تصور کیا جاتا ہے ۔  ایران کی قدیم کتابوں میں سیب کو اسی نام سے پکارا گیا ہے ۔ بہت سی تاریخی کتابوں میں اس پھل کی افادیت  کے بارے میں تذکرے ملتے ہیں ۔ ایران میں مختلف انواع و اقسام کے سیب پاۓ جاتے ہیں ۔

ناشپاتی

 ناشپاتی بھی قدیم زمانے سے ہی ایران میں پایا جانے والا پھل  ہے ۔ فارسی میں اسے " گلابی " کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ قدیم زمانے میں اسی پھل کو " امرود " یا  " امروت " کے نام سے بھی پکارا جاتا  رہا ہے ۔ اس پھل کو " شاہ میوہ " بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کو  بڑے حجم والا ، خوش رنگ اور نازک چھلکے والا پھل کہا جاتا ہے ۔

خوبانی

خوبانی بھی ایران میں قدیم زمانے سے پائی جاتی ہے اور اس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں  جن میں زرد آلو ، زرد آلوی نوری ، شکر پارہ اور قیصی بہت مشہور ہیں ۔

آڑو

پورداؤد  مرحوم کا خیال ہے کہ خوبانی اور آڑو چین سے ایران میں لاۓ گۓ ہیں اور ان کا اصل مقام  کاشت چین ہے لیکن لاوفر  بیان کرتا ہے کہ سنہری اور زرد آڑو بطخ کے انڈے کے سائز کے ہوتے ہیں اور  تا‏ئی تسون  کے عہد حکومت  سے تہ آنگ کے زمانے تک 647 عیسوی میں سغر (چین )  سے تحفتہ اس ملک میں لے جاۓ گۓ ہیں ۔

 

تحریر :  سید اسد الله ارسلان


متعلقہ تحریریں:

تاج کیانی

اسلامی جمہوریہ ایران

عربوں کی آمد کے  موقع پر ایران کے حالات

 دور ساسانیان

اشکانیان