• صارفین کی تعداد :
  • 4671
  • 11/13/2010
  • تاريخ :

نیکی اور بدی کی تعریف

الله

عام  طور پر بدی  وہ چیز تصوّر کی جاتی ہے جس کو کو‏ئی پسند نہیں کرتا  اور اس کے مقابلے میں نیکی کو سب ہی اچھی نظر سے دیکھتے ہیں ۔  ارسطو نیکی کی تعریف کرتے ہوۓ کہتا ہے کہ

"  کسی نے بالکل درست کہا کہ نیکی ایسی چیز ہے جس کی طرف سب ہی مائل نظر آتے ہیں  "

(ارسطو، اخلاق نیکوماخذ، ج1، ص1)

ارسطو کے بعد بہت سے مسلمان فلسفہ دانوں نےبھی اسی سے  ملتی جلتی تعریفیں بیان کی   ہیں  ۔

فارابی کہتے ہیں !

" نیکی  کمال وجود  ہے اور بدی  اس کمال  کا نہ ہونا  "

 (فارابی، تعلیقات، ص49)

ایران کے مشہور مفکر و حکیم  بوعلی سینا نیکی اور بدی کی کچھ اس طرح تعریف کرتے ہیں !

"  نیکی وہ چیز ہے جس کی طرف ہر شے راغب ہوتی ہے اور اسے سب ہی  پسند کرتے ہیں  ۔ وہ  وجود یا کمال وجود ہوتی ہے لیکن بدی  کا کوئی وجود یا ذات نہیں ہوتی ہے اور اس میں کسی بھی جوہر یا کمال  کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ "

 (بوعلی سینا، الهیات شفا، ص355)

میر داماد فرماتے ہیں کہ

" نیکی وہ چیز ہے   کہ سب چیزیں اس کی طرف مائل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ممکنہ  کمال کا کچھ حصہ  باور ہو جاتا ہے "

 (محمد باقر بن محمد میرداماد، القبسات، ص428)

ملا صدرا فرماتے ہیں !

" نیکی وہ ہے کہ ہر چیز اسے پسند کرتی ہے اور اس سے رغبت رکھتی ہے اور ہمیشہ اس کی  متلاشی رہتی ہے "

 (صدرالدین شیرازی، اسفار، ج7، ص58)

بدی کی اقسام

 ایک کلی تقسیم کے تحت ہم  بدی کی تین اقسام کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں ۔

‌ شرور طبیعی:

یہ وہ بلائیں ہوتی ہیں جو طبیعی طور سے انسان پر وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر زلزلے ، سیلاب ،  مرگ آور امراض ،غربت  جو انسان کے اپنے بس میں نہ ہو وغیرہ وغیرہ ۔

‌شرور اخلاقی:

یہ وہ برائیاں یا بدبختیاں ہوتی ہیں جو  انسان کے اپنے بس میں  ہوتی ہیں اور انسان جانتے بوجھتے ہوۓ ان کا مرتکب ہو جاتا ہے ۔ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے  مثلا خیانب ، ظلم ، چوری ، تکبر ، قتل اور غیر اخلاقی کام وغیرہ وغیرہ ۔

‌شرور مٹافیزیکس :

مٹا فیزیکل  برائیاں  وہ کمزوریاں اور نقائص ہیں جو خدا کے سواء دوسری سب موجودات میں پائی ہیں ۔ سب موجودات  خدا وند دو عالم کے سامنے محدود ہیں اور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں اور ہر محدودیت ایک طرح سے  نقص اور کمزوری  محسوب ہوتی ہے ۔ اس طریقے سے محدودیت ، فقر اور امکان وجودی شر حساب ہوتے ہیں ۔

بدعتیوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ  اس دنیا میں  شر کے وجود کو ثابت کرکے  خدا تعالی کے وجود کو زیر سوال لے جائیں ۔ ہم یہاں پر دو اساسی محوروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

1۔ بعض صفات الہی کا انکار :

بدعتیوں کی نظر میں دنیا میں شر کا وجود  خداتعالی کی بعض صفات سے ہم آھنگ نہیں ہے ۔ ان میں سے ایک خداتعالی کی لامحدود قوّت ہے  ۔ کیسے ممکن ہے کہ  شر کے وجود اور بلاؤں میں خدائی قدرت جمع  کر دیں ؟

دوسری صفت خدا وند دوعالم کی خیرخواہی ہے ۔ کیا  خداتعالی کو کامل خیر خواہ کہا جا سکتا ہے جبکہ یہ سب برائیاں اور آفتیں اس کی مرضی سے ہی آتی ہیں ۔

ایک اور صفت جس کی نفی وہ لوگ  کرتے ہیں خدا تعالی کا لامحدود علم ہے ۔  کیا ان تمام مشکلات اور مصیبتوں کے باوجود خدا کے لامحدود علم کو ثابت کیا جا سکتا ہے ؟

2- انکار وجود خداوند:

دوسری طرف بدعتی یہ کوشش کرتے ہیں کہ  وجود خداوند اور شر کے درمیان منطفی ترادید کو سامنے لا کر  خدا وند تعالی کے حقیقی وجود پر سوالیہ نشان لگا دیں ۔  ان کی نظر میں خدا کا وجود اور شر کا وجود غیر قابل جمع ہیں ۔ وجود شر اس عالم  میں سطحی ہے بنابراین خداتعالی کے وجود سے انکار سطحی امر ہے ۔

اب ہم ایک حد تک  بدعتیوں کے انتقادات سے آشنا ہوۓ ہیں ۔ یہ  بالکل واضح ہے کہ  ہر دیندار آدمی کے لیۓ ان نکتہ چینیوں  کا  جواب حیاتی ہے ۔ یہاں پر ہمارا مقصد  ان موضوع سے متعلق آپ کو ایک حد تک آگاہ کرنا تھا ۔ آئندہ تحاریر میں ہم اس کو مزید واضح انداز میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔

تحریر : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں :

اصالتِ روح

اصالتِ روح (حصّہ دوّم)

اصالتِ روح (حصّہ سوّم)

اصالتِ روح (حصّہ چهارم)

اصالتِ روح (حصّہ پنجم)

اصالتِ روح (حصّہ ششم)

اصالتِ روح (حصّہ هفتم)

اصالتِ روح (حصّہ هشتم)

اصالتِ روح (حصّہ نهم)

اصالتِ روح (حصّہ دهم)