• صارفین کی تعداد :
  • 2484
  • 7/18/2010
  • تاريخ :

مشہد ایک چھوٹے گاؤں سے ایران کےدوسرے بڑے شہر ہونے تک

مشہد

بارہ سو برس قبل مشہد ایک چھوٹا سا گاؤں تھا ۔ خراسان کے صوبے میں اس کے نزدیک ،20 کلومٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا جس کا نام طوس تھا ۔ اب طوس اور مشہد تقریبا ایک ہی شہر بن چکے ہیں۔

تاریخی حوالے سے خراسان ایران کا ایک اہم اور قدیم صوبہ تھا۔ اس میں وہ پہلے وہ تمام علاقہ شامل تھا جو اب شمال مغربی افغانستان ہے۔ مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ نیشاپور ، مرو ، ہرات اور بلخ اس صوبے کے دارالحکومت رہے ہیں۔ اب اس کا صدر مقام مشہد ہے۔ اور مشرقی خراسان مع شہر ہرات افغانستان کی حدود میں شامل ہے۔

نیشابور ، ایران کا ایک قدیم شہر صوبہ خراسان کا پہلے صدر مقام بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے جس میں خیام رہ رہے تھے ۔

سناباد یا نوغان اس گاؤں کا نام ہے جو اب مشہد بن گیا ہے اور مشہد کے ایک محلے کا نام بھی ہے ۔  بڑے ہوتے ہوئے اس میں کئی ایک گاؤں شامل ہو گئے ۔

عباسی دور میں صوبہ خراسان کے اس گاؤں میں امام علی رضا (ع) کی شہادت ہوئی۔ اسی شہادت کی مناسبت سے طوس کا یہ علاقہ مشہد کے نام سے مشہور ہو گیا۔ مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

لیکن حضرت امام رضا(ع) خراسان کیوں آ گئے ؟ اس بات کی وضاحت کے لیے تاریخ میں ایسا لکھا گیا ہے کہ شیعوں کا آٹھویں امام حضرت امام رضا (ع) اپنے والد گرامی حضرت امام موسی کاظم (ع) کی بغداد کے زندان میں شھادت کے بعد سن 183 ھ ق میں امامت پر فائض ہوۓ ۔

آنحضرت اپنے دور امامت میں اٹھارہ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے اور اس دوران ھارون رشید اور اسکے دو بیٹوں امین اور مامون کی غاصبانہ خلافت کے بھی شاھد رہے اور سن 200 ھ ق کو مامون نے امام کو خراسان (ایران) آ کر اسکی حکومت میں شریک ہونے کی دعوت دی ۔

جس طرح مامون عباسی سے نقل کیا جا رہا ہے کہ اس نے نذر کی تھی کہ اگر اپنے بھائی امین کے ساتھ جنگ میں کامیاب ہوکر خلافت کو پہنچا تو حکومت ان کے حقدار کو یعنی آل ابیطالب (ع) کے افضل ترین شخص کے تحویل میں دے گا ۔ (1)

جب سن 198 ھ ق کو اپنے بھائی پر غالب آیا اور بغداد کو فتح کرکے عالم اسلام پر حاکم ہوا تو اس نے چاہا اپنے نذر کا وفا کرے اور اس ضمن میں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو آل ابی طالب (ع) میں سے افضل ترجانا ۔ وہ کہتا تھا کہ: ما اعلم احدا افضل من ھذا الرّجل علي وجہ الارض؛ میں روی زمین پر اس شخص (امام علی بن موسی الرضا (ع) سے بڑ کر کسی کو بہتر اور با فضیلت نہیں جانتا۔ (2)

اس طرح اس نے اپنے سرداروں میں سے " رجاء بن ابی ضحاک " نامی سردار کو عیسی جلودی کے ساتھ مدینہ روانہ کیا تاکہ امام رضا علیہ السلام کو خراسان آنے کا دعوت دیں ۔ (3)

امام رضا علیہ السلام چونکہ بنی عباسی خلیفوں کی مکر و فریب سے بخوبی واقف تھے اس لۓ دعوت قبول کرنے سے اجتناب کیا اور "مرو " ( مامون کا دار الخلافہ) جانے سے مدینہ میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔

مگر مامون کے اصرار کے سامنے کچھ نہ چلی اور ناچار دعوت کو قبول کیا ۔ آنحضرت نے اپنے جد رسول خدا(ص) اور جنت البقیع میں اپنے بزرگوں کی قبروں خاص کر والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زھرا (س) کی قبر کو الوداع کیا اور اپنے چھوٹے فرزند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دے کر مامون کے کارندوں اور اپنے چند دوستوں اور علویوں کے ھمراہ خراسان کی طرف روانہ ہوے ۔

جب امام رضا علیہ السلام " مرو " پہنچے تو لوگوں کی طرف سے از جملہ فقھا ۔ دانشمندوں ، شاعروں ۔ درباریوں اور خود مامون کی طرف سے بے نظیر اور والہانہ استقبال ہوا ۔

مامون نےاستقبال اور خاطر داری کے بعد امام رضا علیہ السلام سے کہا : میں خلافت سے کنار ہوکے خلافت کو آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ اس کو قبول کر لیں گے ؟

امام رضا علیہ السلام نے انکار کیا ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ کہتا ہے عملا ایسا کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس طرح امام کو آزمانا چاہتا تھا اور اگر حکومت کو امام (ع) کے حوالے کر بھی لیتا کچھ مدت بعد ان کو حکومت سے برکنار کرلیتا اور خود دوبارہ حکومت کو ہاتھ میں لے کر اپنی غاصب حکومت کو جائز بنا دیتا ۔اور دوسری طرف علوی اور غیر علویوں کی طرف سے جہان اسلام میں جو بغاوت کی لہر دوڑ رہی تھی ، اسکو خاموش کرانے کیلۓ امام رضا علیہ السلام کاسہارا لینا اس کیلۓ ناگزیر تھا تاکہ انہیں عباسی خلافت کو قبول کروا‎لے زیر کے سکے ۔

امام رضا علیہ السلام چونکہ اس کی اصلی نیت سے با خبر تھے اس لۓ کسی بھی صورت میں خلافت کو قبول نہیں کیا ۔ مامون نے پھر ایک بار ولی عھدی قبول کرنے کی دعوت دی لیکن امام (ع) نے قبول نہیں کیا ۔ مگر اس بار مامون نے امام رضا (ع) کا استنکاف قبول نہیں کیا اور کہا کہ ولی عھدی قبول کرنا زبردستی اور حتمی ہے اس سے راہ فرار نہیں ہے ۔ آخر کار امام رضا علیہ السلام کیلۓ ولی عھدی کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا ۔ آنحضرت نے حکومت میں شریک نہ رہنے کیلۓ عوام سے اپنے لۓ بیعت حاصل کی ۔ اسکے بعد عباسیوں کے کالے کپڑے سبزرنگ میں جوکہ علویوں کا رنگ ہے تبدیل ہوگیا ۔ عباسیوں کے کالے رنگ کے جھنڈے علوی سبز رنگ میں تبدیل ہو گۓ۔ آنحضرت کے نام کا سکہ جاری ہوا اور خطبوں میں انکی تجلیل اور تکریم ہونے لگی ۔

لیکن جو حکومت کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کروایا کیا رسول خدا(ص) کے نواسے کو حکومت دیتا ہے؟

وہ آخر امام (ع) کی جان لینے کے درپے ہوگیا اور وہی خاموش حربہ جوان معصومین علیہ السّلام کے ساتھ اس کے پہلے بہت دفعہ استعمال کیا جا چکا تھا کام میں لایا گیا۔ انگور میں جو بطور تحفہ امام علیہ السّلام کے سامنے پیش کیے گئے تھے زہر دیا گیا اوراس کے اثر سے 71صفر 302ھ میں حضرت علیہ السّلام نے شہادت پائی۔ مامون نے بظاہر بہت رنج وماتم کا اظہار کیا اور بڑے شان وشکوہ کے ساتھ اپنے باپ ہارون رشید کے قریب دفن کیا۔ جہاں مشہد مقدس میں حضرت علیہ السّلام کا روضہ ہے وہیں اپنے وقت کا بزرگ ترین دنیوی شہنشاہ ہارون رشید بھی دفن ہے جس کا نام و نشان تک وہاں جانے والوں کو معلوم نہیں ہوتا۔

حوالہ جات :

1- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 602

2- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 602

3- تاريخ اليعقوبي، ج2، ص 449؛ الارشاد، ص 600؛ وقايع الايام (شيخ عباس قمي)، ص  24

بشکریہ :پاک ڈاٹ نیٹ


متعلقہ تحریریں:

مشہد اردہال کربلائے ایران

ایران کا صوبہ  مازندران