• صارفین کی تعداد :
  • 3082
  • 8/19/2013
  • تاريخ :

ايران ميں عورتوں کي ترقي

خاتون

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے  (جصّہ اوّل)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ دوّم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ سوم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ چہارم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ پنجم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ ششم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ ہفتم)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ ہشتم)

مسلمان عورت پر مظالم:

بے ضمير اور پست سلطنتي نظام ميں عورت حقيقت ميں ہر لحاظ سے مظلوم تھي- اگر وہ علمي ميدان ميں وارد ہونا چاہتي تو اسے دين و تقوا و عفت و پاکيزگي سے کنارہ کشي کرني پڑتي تھي- يہ کہاں ممکن تھا کہ مسلمان خاتون يونيورسٹي، تعليمي مراکز، علمي و ثقافتي اداروں ميں آساني سے اپنے حجاب، متانت اور وقار کو برقرار رکھتي؟ يہ کہاں ممکن تھا کہ تہران اور بعض ديگر شہروں کي سڑکوں پر مسلمان خاتون اسلامي متانت و وقار کے ساتھ يا حتي آدھے ادھورے حجاب کے ساتھ آساني سے گزر جائے اور اسے مغربي فحاشي و فساد کے دلدادہ افراد کے رکيک جملوں کا سامنا نہ کرنا پڑے؟ نوبت يہ آ گئي تھي کہ اس ملک ميں عورتوں کے لئے حصول علم تقريبا نا ممکن ہو گيا تھا- البتہ اس ميں کچھ استثنا بھي ہے ليکن اکثر و بيشتر عورتوں کے لئے علمي ميدان ميں وارد ہونا ممکن نہيں ہو پاتا تھا- اس کا ايک ہي راستہ تھا کہ وہ حجاب ترک کر ديں اور تقوي و اسلامي وقار سے خود کو الگ کر ليں-

 

ايران ميں حجاب اور عورتوں کي سماجي ترقي:

اسلام، انقلاب اور امام (خميني رہ) نے اس ملک ميں آکر عورت کو سياسي سرگرميوں کے محور و مرکز ميں پہنچا ديا اور انقلاب کا پرچم خواتين کے سپرد کر ديا- اس سب کے ساتھ ساتھ عورتوں نے اپنے حجاب و وقار و اسلامي متانت، دين و تقوا اور عفت و پاکدامني سے بھي خود کو آراستہ رکھا- آج مسلمان ايراني عورت کي گردن پر کوئي حق باقي نہيں رہ گيا ہے جو ادا نہ ہوا ہے-

آپ غور کيجئے! جب ايک مسلمان عورت اپني فطرت اور حقيقت کي سمت لوٹتي ہے تو کيسے کيسے شاہکار تخليق کرتي ہے! بحمد اللہ ہمارے انقلاب اور اسلامي نظام ميں اس کا مشاہدہ کيا گيا اور آج بھي يہ چيز ہمارے سامنے ہے- ہم نے کب عورتوں کي يہ قدرت و عظمت ديکھي تھي جو آج مادران شہدا کے ہاں ديکھ رہے ہيں؟! ہم نے نوجوان لڑکيوں کا يہ ايثار کہاں ديکھا تھا کہ وہ اپنے عزيز شوہروں کو محاذ جنگ پر بھيجيں اور يہ لوگ پورے اطمينان کے ساتھ ان ميدانوں ميں سرگرم عمل رہيں؟ يہ عظمت اسلام ہے جو انقلاب کے ايام ميں اور آج بھي ہماري انقلابي خواتين کے چہروں سے ہويدا ہے- يہ پروپيگنڈہ نہيں کيا جانا چاہئے کہ حجاب اور عفت کي حفاظت کے ساتھ، گھر کي ديکھ بھال اور بچوں کي پرورش کے ساتھ انسان علمي ميدانوں ميں کوئي کردار ادا نہيں کر سکتا- آج ہم اپنے سماج ميں بحمد اللہ کتني خاتون سائنسدانوں اور مختلف ميدانوں کي ماہر عورتوں کو ديکھ رہے ہيں! محنتي، با صلاحيت اور با ارزش طالبات سے ليکر فارغ التحصيل خواتين اور ممتاز و صف اول کي ڈاکٹروں تک! اس وقت اسلامي جمہوريہ ميں مختلف علمي شعبے خواتين کے ہاتھوں ميں ہيں- ان عورتوں کے ہاتھوں ميں جنہوں نے اپني عفت و پاکيزگي کي حفاظت کي ہے، حجاب کي بھي مکمل پابندي کي ہے، اسلامي روش کے مطابق اپنے بچوں کي پرورش بھي کي ہے، جو اسلام کا حکم ہے اسي انداز سے شوہر کے تعلق سے اپنے فرائض بھي انجام دئے ہيں ساتھ ہي ساتھ وہ علمي اور سياسي سرگرمياں بھي انجام دے رہي ہيں- اسلامي ماحول ميں، اسلامي مزاج کے ساتھ خاتون حقيقي کمال تک پہنچ سکتي ہے- آرائشي سامان اور استعمال کي چيز بنے بغير-(ختم ہوا)

 

بشکريہ خامنہ اي ڈاٹ آي آڑ


متعلقہ تحریریں:

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ ششم )

زمانہ جاہليت ميں عورتوں سے شادي کے طريقے