• صارفین کی تعداد :
  • 2655
  • 12/15/2011
  • تاريخ :

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ ششم )

خاتون

مرد اور عورت کے ايک دوسرے پر حقوق و فرائض ہيں جن کي ادائيگي دونوں کے ليۓ مفيد ہوتي ہے -

 درحقيقت بعضکم من بعض فرما کر يہ واضح کرديا گيا کہ زندگي کي ضروريات اور تدبير امور ميں دونوں برابر ہيں اور ايک دوسرے کا حصہ ہيں- دونوں (مرد عورت) ايک جيسے ہيں ،اس کے علاوہ عورت کو دو امتيازي صفات دي گئيں ہيں- 1- عورت کي وجہ سے نوع انسان کي بقا و ارتقا ء 2- عورت واجد لطاقت و حساسيت ہے جس کي معاشرہ ميں اہميت ہے اور پھردنياو آخر کے سب امور ميں اشتراک ہے- ارشاد رب العزت ہے: وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہ بِہ بَعْضَکُمْ عَلٰي بَعْضٍ ط لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَط وَاسْأَلُوا اللہ مِنْ فَضْلِہ ط اِنَّ کَانَّ اللہ کَانَ بِکُلِّ شَيْيءٍ عَلِيْمًا- "اور جس چيز ميں اللہ نے تم ميں سے بعض کو بعض پر فضيلت دي اسکي تمنا نہ کيا کرو، مردوں کو اپني کمائي کا صلہ اور عورتوں کو اپني کمائي کا صلہ مل جائے گا اور اللہ سے اس کا فضل وکرم مانگتے رہو حقيقتاً اللہ ہر چيز کا خوب علم رکھتا ہے-" (سورہ نساء - 32)

بحسب الظاہر دنيا کا کام نظر آ رہا ہے ليکن آيت ميں عموميت ہے - دنيا و آخرت کا کام جو بھي کرے گا - جس قدر کرے گا - جس خلوص و محنت سے کرے گا - اسي قدر نتيجہ اورثمر حاصل کرے گا -(خواہ وہ مرد ہو يا عورت ) اے انسان مومن تو تکبر سے باز آ- غرور نہ کر - خود کو کسي سے برتر بہتر نہ سمجھ - تيرے گھر ميں مزدوري کرنے والا، اللہ کے نزديک تجھ سے زيادہ عزت والا ہو ہو سکتا ہے -

يہ بھي ممکن ہے کہ تيري زوجہ عمل و کردار ميں تجھ سے زيادہ بہتر ہو پس معيار فضيلت تقوي ہے-

اور آج کي ترقي يافتہ دنيا  اور اس کي مادي  چمک نے عورتوں کو ترقي اور آزادي کے نام پر اس طرح رسوا اور سرعام اس قدر ننگا  کر رکھا ہے کہ بہيميت  اور شہوانيت کے بھيانک سيلاب ميں  انسانيت  اور شرافت ہچکولے کھا رہي ہے- اسلام  اور انسانيت  کے دشمنوں  نے عورتوں کو سافٹ  ٹارگيٹ  سمجھ کر ان کا  خوب غلط  استعمال کيا- پيسے  کا لالچ دے کر ہر شعبہء زندگي ميں انہيں  اتار ديا  ہے - آج  وہ دنيا کي سب سے سستي چيز ہے، جسے ننگا يا ادھ ننگا  کرکے مردوں کے درميان گھروں  ميں خادماۆ ں کي شکل ميں، آفسوں ميں کلرکوں کي شکل ميں، اسپتالوں اور ہوائي جہازوں ميں نرسوں اور ميزبانوں  کي صورت ميں بالغ  لڑکوں  کي معلمات  اور فلموں  اور ڈراموں   ميں اداکاراۆ ں کي شکل ميں  اور قيمتي تجارتي  اشياء سے لے کر ماچس  کي ڈبيا تک  پر خوبصورت عورتوں  کي عرياں  و نيم عرياں  تصويريں چھاپ کر  عورتوں کي عفت و عصمت  اور اس  کي نسوانيت کو آج  کي ماڈرن اور مہذب دنيا  نے جس طرح رسوا کيا  ہے دورِ جاہليت  ميں بھي ايسي  سنگين اور قبيح  حالت نہيں پائي جاتي تھي- نتيجہ يہ ہے کہ آج دنيا  شر و فساد اور اخلاقي  انار کيوں کي آماجگاہ بن گئي- (العيا ذ باللہ)

جب کہ مذہب  اسلام نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کي مردوں  کو تلقين  فرمائي ہے - ضرورت اس امر کي ہے کہ عورت کو اس کا اصل حق اور معاشرے ميں احترام ميسر ہونا چاہيۓ تاکہ ايک صاف ستھرے اور مہذب معاشرے کو پروان چڑھايا جا سکے -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ دوّم )