• صارفین کی تعداد :
  • 2431
  • 1/7/2011
  • تاريخ :

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

پهول

نقش فریادی ہےکس کی شوخی  تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

شاعر کا  نام : مرزا غالب دہلوی

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

اقبال کے کلام میں کربلا

اقبال کے کلام میں کربلا (حصّہ دوّم)

سیّد الشّہداء

سُرخ ٹوپی (حصّہ ششم)

سُرخ ٹوپی (حصّہ پنجم)

سُرخ ٹوپی (حصّہ چهارم)

سُرخ ٹوپی (حصّہ سوّم)

سُرخ ٹوپی (حصّہ دوّم)

سُرخ ٹوپی

مفکر پاکستان اور فلسفی شاعرعلامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا یوم پیدائش