• صارفین کی تعداد :
  • 1045
  • 11/15/2010
  • تاريخ :

سُرخ ٹوپی (حصّہ سوّم)

کتاب

مہری کو جہیز میں ایک ریشمی کپڑا نہ ملا تھااور اس کے ماتھے کی مہر اور کانوں کے آویزے جو تانبے کے تھے، شادی کے دوسرے ہی دن اپنی چمک کھو بیٹھے تھے۔ لیکن جب گاموں فوج میں ملازم ہو گیا تو مہری کو پڑوسن کی سونے مہر اور جھمکے دیکھ کر کوئی خلش نہ ہوئی اور اس نے کئی بار محسوس کیا جیسے اس کے گلے میں کسی دیسی چھینٹ کا چولا نہیں بدیشی ریشم کی قمیص ہے جو صابن کے جھاگ کی طرح مہین اور اس کی سانولی جلد کی طرح نرم ہے!

شادی کے پندرھویں روز جب گاموں اپنے بیاہ کے رنگین بکس سے کپڑے نکال رہا تھا اور مہری اس کے لئے ایک ایسی توشک کے انتخاب میں مصروف تھی جسے چھو کر اس کے سپاہی بھائیوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں تو چھت پر ادھیڑ عمر کی بیوہ پڑوسن نمودار ہوئی۔ آج اس نے سرخ ریشم کی قمیص پہن رکھی تھی جس کے حاشئے پر سبز ململ ٹکی ہوئی تھی اور اس کے کانوں میں سونے کے جھمکوں کے سروں پر دو ننھے موتی بھی جھم جھم ناچ رہے تھے جیسے اُوس کے قطرے پھولوں پر پڑے کانپ رہے ہوں ۔ مہری اسے دیکھ کر پل بھر کے لئے جل اٹھی مگر دراز قد گاموں کی چوڑی پیٹھ اور تیزی سے حرکت کرتے ہوئے بازو دیکھے تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے کچے گھر کے صحن میں نئے بادشاہ کے چمکتے دمکتے روپوں کی چھن چھن بارش ہو رہی ہے!

دن ڈھلے گاموں گاؤں سے باہر نکلا، تو اس کے پیچھے نوجوانوں کا ایک انبوہ تھا۔ بوڑھا نائی گاموں کا بہت بڑا بستر اٹھائے قدم قدم پر نتھنوں میں نسوار چڑھاتا سب کے پیچھے رینگتا جا رہا تھا اور جب سب نوجوان گاؤں سے ایک میل دور درے سے گزر کر ایک طرف مڑ گئے تو پڑسنیں گردنیں بڑھا بڑھا کر چلائیں ۔’’ ہے ہے بہو رانی کیا ٹک ٹک گھور رہی ہے اپنے دولہا کو، کیا چوپٹ زمانہ آیا ہے! ہم نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب دولہا مر رہا تھا اور دلہن لجائی ہوئی کونے میں سمٹی بیٹھی تھی اور یہ دن بھی دیکھا کہ ُدلہن چھت پر بیٹھی اپنے دُولہا کو یوں گھور رہی ہے جیسے یہ کوئی طوطا تھا کہ پنجرے سے نکل کر اڑ گیا اور پھر واپس نہ آئے گا!‘‘

اور مہری کاندھے جھٹکاتی اٹھی ۔ تیوری چڑھا کر، آنچل کو سینے پر پھیلایا اور سیڑھیوں سے اترتے ہوئے بولی۔’’ خالہ بی۔ میں اسے نہ دیکھوں تو کسے دیکھوں، میں دوسری لڑکیوں کی طرح گلیوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لونڈوں کو تو تانکنے جھانکنے سے رہی!‘‘

اور بیوہ پڑوسن اپنی دونوں جوان بیٹیوں کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ۔’’ کیا منہ پھٹ ہے!‘‘ اور دونوں نوجوان بیٹیاں ہاتھ نچا نچا کر کہنے لگیں ۔’’ آٹھ دس دن اکیلی رہی تو سب نشے ہرن ہو جائیں گے ۔‘‘ پڑوسنیں ہنس دیں اور مہری نے نیچے اُتر کر گاموں کے پرانے جوتے اور چپل جھٹک کر ایک پھٹی پرانی بوری میں رکھ دیئے ۔ تمباکو کا برتن ایک چنگیز سے ڈھانپ کر اوپر ایک بکس دھر دیا اور حقے کا پانی انڈیل کر اسے ایک کونے میں اٹکا دیا۔ کھاٹ باہر نکال کر بیٹھ گئی ۔ جب شام ہوئی اور قریب ہی مسجد سے بوڑھے مولوی جی نے سریلی آواز میں اذان دی تو غیر ارادی طور پر اس کی نظریں دروازے پر جم گئیں ۔ جہاں گاموں نماز کے بعد نمودار ہوتا تھا اور کھانا کھا کر کہتا تھا۔ ذرا چوپال پر ہو آؤں ؟‘‘ ۔۔۔’’ ہو آؤ۔‘‘ وہ جواب دیتی اور پھر اندھیری رات کی چپ چاپ میں واپس آ کر مہری کے پاس بیٹھ جاتا اور کہتا ۔۔۔۔’ ’پانی پلا دینا ذرا۔‘‘


متعلقہ تحريريں:

اپنے دکھ مجھے دے دو

آگ کا دریا

بڈھا

چڑيل

روشنی

کپاس کا پھول

کپاس کا پھول (حصّہ دوّم)

کپاس کا پھول (حصّہ سوّم)

کپاس کا پهول (حصّہ چهارم)

کپاس کا پهول (حصّہ پنجم)