• صارفین کی تعداد :
  • 1316
  • 1/26/2011
  • تاريخ :

ولی دكنی كا سفر دہلی

ولی دكنی

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر دكن كو فتح كرنے كا عزم اور منصوبہ لے كر اس سرمین پر پہنچا۔ عالمگیر یا كی جملہ محض كارروائی ہی نہ تھی اس نے دہلی، آگرہ، دوآب كے لاكھوں افراد كو دكن پہنچا دیا۔ اس طرح یہاں وہ زمانہ آیا جب صدیوں بعد اہل دكن كو دہلی والوں كے تمدن اور زبان كو دیكھنے اور سمجھنے كا موقع ملا او رانہوں نے محسوس كیا اہل دكن كے مقابلے میں دہلی والوں كی زبان كہیں زیادہ ترقی یافتہ اور گونا گو خوبیوں كی مالك ہے یوں مطالعے اور تحقیق كی غرض سے مشہور دكنی شاعر ولی نے تقریباً1700 ء  میں دہلی كا رخ كیا۔

اردو زبان كے ارتقاء  میں دلی كا یہ سفر اہم سنگ میل ہے جس كی بدولت دلی كو اپنی زین سنوارنے كا موقع ملا تو ساتھ ہی دہلی كے شعراء  كو اپنی زبان میں شعر كہنے كا حوصلہ ہوا، اور دیكھتے ہی دیكھتے دہلی میں شعراء  نے فارسی چھوڑ كر “ زبان اردوئے معلی” میں شعر گوئی اختیار كر لی۔ گویا یہ لوگ صرف ایك اشارے كے منتظر تھے جسے پاتے ہی انہوں نے اپنی زبان میں شعر كہے اور اردو كو برصغیر كی مقبول ترین زبان بنانے میں سب سے اہم كردار ادا كیا۔

انگریز اور اردو

نئی زبان كے ساتھ مقامی لوگوں كے علاوہ ایك حكمران قوم كو بھی اس سے دلچسپی ہو گئی تھی كیونكہ انہوں نے دیكھ لیا تھا كہ یہ زبان ہے جو “ ہندوستان” میں تقریباً ہر جگہ سمجھی او ربولی جاتی ہے دوسری طرف تجارت كی غرض سے آئے انگریزوں نے دوسری یورپی قوموں ﴿ڈچ، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں﴾ كو ہندوستان سے بے دل دیا تھا اب وہ مغلوں كے زوال اور ملكی انتشار سے فائدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان پر قابض ہو جانا چاہتے تھے۔ انیسویں صدی كے آغاز انگریزوں كی سیاسی گرفت خاصی مضبوط ہو چلی تھی اور انہیں ضرورت پیش آ رہی تھی كہ عوام سے رابطہ قائم ركھنے كے لئے وہ مقامی زبانیں بھی سیكھیں۔ ان مقامی زبانوں میں سب سے اہم وہرا بولی تھی جس كا اس وقت تك كوئی نام نہ تھا، چنانچہ انگریزوں نے اپنے صدر مقام كلكتہ میں فورٹ ولیم نامی قلعے میں ایك كالج اس لئے قائم كیا كہ انگریزوں كو مقامی زبانیں سكھائی جائیں۔ فورٹ ولیم كالج كا سن قیام 1800ء ہے۔

اس كالج میں مقامی لوگوں كی مذہبی زبانیں عربی اور سنسكرت اور سركاری زبان فارسی كے علاوہ بنگلہ، مرہٹی وغیرہ بھی پڑھائی جاتی تھیں، لیكن سب سے زیادہ توجہ جس زبان پر دی گئی وہ یہی “ زبان ہندوی” تھی جسے ان انگریزوں نے “ ہندوستانی” نام دیا۔

یہ اس بات كا اعتراف تھا كہ نئی زبان ہی پورے ہندوستان كی قومی زبان ہے۔ لیكن چونكہ اس زبان میں كوئی ایسا تحریری سرمایہ موجود نہ تھا جو روز مرہ گفتگو سیكھنے میں مدد دیتا اس لئے اس كالج كے لئے ایسے ادیب ملازم ركھے گئے جنہوں نے “ ہندوستانی” میں روز مرہ كی كتابیں لكھیں۔ ان ادیبوں میں سب سے مشہور میرا دكن دہلوی ہوئے، جن كی “ باغ بہار” اردو ادب كا لازوال سرمایہ بن گئی ہے دوسرے ادیبوں میں حیدر بخش حیدر، مرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی، مرزا كاظم علی جوان، نہال چند لاہوری اور للو لال كے نام شامل ہیں۔ ابتدائ میں لوگوں نے زیادہ تر كہانیوں او رداستانوں كو فارسی سے اردو میں ترجمہ كیا لیكن رسم الخط فارسی ہی استعمال كیا صرف للو لال نے دیو ناگری ﴿یعنی سنسكرت﴾ رسم الخط میں ترجمے كئے تاكہ ہندووٕں كو بھی زبان سیكھنے كی سہولت میسر آئے۔

1857 جنگ آزادی كے بعد” ہندوستان” برطانوی نو آبادی بن گیا اور نئے حاكموں نے مسلم تہذیب كا ایك ایك نقش كھرچ پھینكنے كی پوری كوشش كی۔ اردوئے معلی كی پوری بستی مسمار كر كے چٹیل میدان بنانے كے علاوہ شاہی قلعے كو گورا فوج كی چھاوٕنی میں تبدیل كر دیا گیا۔ جامع مسجد دہلی پر كئی سال برطانوی فوج قابض رہی۔ اور یوں “ اردوئے معلی” صرف ایك سہانی یاد بن كر لوگوں كے دلوں میں باقی رہ گیا۔

اردوئے معلی كی یاد تازہ ركھنے كے لئے ایك چیز ایسی باقی تھی جو ا س علاقے كی زبان تھی۔ شرفائ اور اہل علم و فضل اردوئے معلی سے اجڑ كر دوسرے شہروں میں جا بسے جن سے باہر كے لوگوں نے زبان و تہذیب كے سبق لئے اور شاید غیر شعوری طور پر اس محبوب بستی كی یاد تازہ ركھنے ہی كے لئے وہاں كی مستند زبان كا نام “ اردوئے معلی” ركھ دیا جو بعد ازاں صرف” اردو” رہ گیا۔ اس نام كی جذباتی معنویت محسوس كر كے خود اہل دہلی بھی اسے “ اردو” ہی كہنے لگے۔

قصیدہ:

فارسی میں ابتدائی شاعری مثنوی اور قصیدے ہی سے شروع ہوئی، لیكن فارسی میں یہ صنف عربی سے آئی جہاں ہر طرح اور ہر مضمون كی شاعری كا اسلوب صرف قصیدہ تھا۔ البتہ فارسی میں اس كے موضوعات مخصوص كر دیئے گئے یعنی قصیدہ ایسی صنف ہے جس میں كسی شخصیت كی توصیف و تحسین كی جائے یا مذمت و ہجو مذكور ہو، یا پھر كائنات پر كوئی حكیمانہ تبصرہ كیا جائے اس كا پہلا شعر، جسے مطلع كہا جاتا ہے، كے دونوں مصرع ہم قافیہ، اور پھر یہی قافیہ بعد كے تمام شعروں كے دوسرے مصرعوں كا ہو۔ قصیدہ كے اشعار كی كم سے كم تعداد پندرہ لیكن زیادہ سے زیادہ كی كوئی حد نہیں۔ سو سے بھی زائد اشعار كے قصیدے فارسی میں ملتے ہیں۔ اس كی خصوصیت، شكوہ الفاظ اور وسیع معلومات پر دسترس كی نمائش البتہ نظم كا بنیادی مضمون ایك ہی ہوتا ہے۔ شعرائ نے قصیدہ كی تكنیك میں كچھ خوبصورت اضافے بھی كئے جس كی دو قسمیں ہیں۔ ضطابیہ اور تشبیہہ قصیدے كا آغاز “نشیب “ سے ہوتا ہے۔ یعنی شباب كی باتیں كرنا، یعنی حسن و عشق اور بہار و گلشن كے پر لطف مناظر و معاملات و غیرہ بیان كرنا۔ بعد میں ہر طرح كا مضمون جو قصیدے كے اصل مضمون سے بالكل مختلف ہو، تشبیب كہلانے لگا تھا۔

مثنوی

مثنوی فارسی كی ابتدائی شاعری كی اصل صنف ہے۔ یعنی ایسی نظم جس میں ہر شعر الگ الگ قافیے میں ہوتا ہے اور اس اعتبار سے یہ سب سے آسان صنف ہے، لیكن سامع كی توقع شاعر سے یہ ہوتی ہے كہ نظم میں اس كا مضمون اظہار و ابلاغ اور قوت بیان سب كی بھرپور نمائش ہو۔ مثنوی كسی مسلسل واقعے، داستان یا حكیمانہ بات كو تفصیل سے بیان كرنے كے لئے سب سے موزوں صنف شعر خیال كی جاتی ہے مثنوی میں اشعار كی تعداد كی كوئی پابندی نہیں۔ دو سے لے كر ہزار یا اس سے بھی زیادہ شعر اس میں كہے جا سكتے ہیں۔

پرانے دور میں مثنوی كے لئے چھوٹی بحریں مخصوص سمجھی جاتی تھیں، جن كی تعداد چھ ہے پرانے شاعر انہی چھ میں سے كسی بحر میں مثنویاں كہتے تھے۔ بیسویں صدی میں نسبتاً لمبی بحروں میں مثنویاں كہی جانے لگیں۔ جن كا آغاز غالباً علامہ اقبال كی نظموں سے ہوتا ہے۔

غزل

اوپر جوانی كی غزل جس كے معنی “ عورتوں سے باتیں كرنا” ہیں۔ ہلكے پھلكے اور مختصر اظہار جذبات كے اظہار كی راہ كا نام غزل تھا، یعنی ایك ایسے مجموعہ اشعار كا نام ہے جن كا قافیہ تو قصیدے كی طرح ایك ہی ہو لیكن ہر شعر یا مضمون الگ اور مكمل ہو، اور شاعر اپنے “ حقیقی” یا “ مجازی” عشق كے معاملات بیان كر سكے چونكہ غزل كی زبان اور اصطلاحات قریب قریب وہی رہیں جو پرانے دور سے چلی آتی تھیں اس لئے غزل كی لغت اور فرہنگ بھی مخصوص ہو گئی اور اس كا انداز بیان جلد مخصوص سانچوں میں ڈھل كر رہ گیا۔ الفاظ كی سلاست و شیرینی اور عبارت كی نرمی اس كے لئے ضروری قرار پائی۔

غزل اور شاعری میں سب سے مقبول اور عام صنف بن گئی بلكہ یہ وہ واحد صنف ہے جس میں ہر طرح كے مضامین كے باوجود اس كی ہیئت، مزاج اور اسلوب میں كوئی تغیر نہ ہوا۔

غزل كے پہلے شعر كے دونوں ہم قافیہ مصرعے مطلع كہلاتے ہیں بعض غزلوں میں ایك سے زائد مطلعے بھی ہوتے ہیں جو مطلع ثانی اور مطلع ثالث كہلاتے ہیں جس شعر میں شاعر اپنا تخلص لائے مقطع كہلاتا ہے غزل كے اشعار كی تعداد اگرچہ متعین نہیں تاہم عموماً پانچ اشعار سے كم اور گیارہ سے زائد اشعار سے غزل میں پسند نہیں كئے جاتے ہیں۔

قطعہ

قطعہ كوئی علیحدہ صنف سخن نہیں بلكہ ایك طرح كی غزل مسلسل ہی ہے۔ یعنی تمام اشعار میں ایك ہی مضمون بیان كیا جاتا ہے، پرانے شاعر مستقل صنف كے طور پر اس میں كسی ایك جذبے كا تفصیلی بیان كرتے تھے، اور اس میں مطلع كا ہونا ضروری نہ تھا۔ جو بعد ازاں كی رباعی بن كر رہ گیا یعنی چار مصرعوں كی مختصر نظم جس كا دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ اور اس میں كوئی ایك مشترك، پرانے شاعر غزل، قصیدے یا مثنوی میں كوئی بات ایك شعر نہ كہہ سكتے تو اسے اگلے شعر یا اشعار تك بڑھا كر پورا كرتے ان اشعار كو قطعہ كہا جاتا تھا۔


متعلقہ تحریریں:

حالی کے نظم فکری کا جائزہ

مسدس حالی

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

کنار راوی

غالب ایک نئی آواز