• صارفین کی تعداد :
  • 3244
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

دشمن کے ہتھکنڈ ے

انقلاب اسلامی ایران

ملت ایران کے دشمنوں نے سنجیدگي کے ساتھ جن کاموں پر توجہ دي ہے ان ميں ایک یہ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان نفرت کي فضا ايجاد کي جائے۔ انہوں نے سیاسي ،مذہبي اور دیگرعوامي طبقوں کے درمیان تنفّراور دوري کي فضا قائم کرنے کي کوشش کي ہے۔اس تمام عرصے ميں استعماري طاقتوں خصوصاًبرطانوي استعمار(کہ جو پورے مشرق وسطيٰ اورہمارے ملک سميت دوسرے ممالک پر مسلط تھا ) اسي سیاست پر کاربند رہا اور پھر دوسروں نے بھي اس سے يہي گُر سیکھ لیا ۔ امریکي بھي آج اسي سیاست پر عمل پیرا ہيں۔ ایراني قوم کے تمام دشمن آج اسي پروگرام پر عمل کر رہے ہيں کہ مختلف سما جي طبقوں اور گروہوں کو آپس ميں ایک دوسرے کا مخالف ،بدظن اور دست و گريباں کریں اوريوں انھیں (ہميشہ ہميشہ کيلئے) ايک دوسرے سے دور اور متنفّر کر دیں ۔ ایسے اختلافات انقلاب سے پہلے بھي وجود رکھتے تھے اور اس کام پر بہت خطير رقم خرچ کي گئي تھي کہ علمائ اور یونیورسٹي کے طالب علموں کے مابين، فوجي اورعوامي طبقوں اوردانشمند اور مفکّرطبقے اور تاجروں کے درمیان اختلافات کو ہوا دي جائے لیکن امام خمیني( رح) نے اس انقلاب کي برکت اور خصوصاً اپني اصلاحي تحریک کي بدولت ان تمام اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ آج چند سالوں کے بعد دشمن دوبارہ اسي کوشش ميں ہے کہ تما م طبقوں ميں دوبارہ انہي اختلاف کو ہوا دي جائے۔ وہ تمام مذہبي گروہوں کو آپس ميں ایک دوسرے کا دشمن بنانے کي فکر ميں ہے کیونکہ جب عوامي اتّحاد کا شيرازہ بکھر جائے تو دشمن کے اثرو نفوذ کي راہيں کھل جاتي ہيں ۔ دشمن انہي اختلافات کا سہارا لیکر کسي معا شرے یا ملک ميں اپنے قدم جماتا ہے تاکہ اپني سیاست چمکا سکے۔ لہذاہميں بہت احتیاط سے قدم اُٹھانا ہوگا ۔

آج آپ دیکھ رہے ہيں کہ دشمنوں کي پروپيگنڈا مشینري چند خاص چیزوں کو اپنا ہدف بناتي ہے کہ جن ميں سے ایک اسلامي جمہوریہ ایران کا داخلي نظام ہے۔حکومتي نظام کے مخلص اور خدمتگزارعہدیداروں کو دو دستوں ميں تقسیم کرتے ہيں ،ہر دستہ کوایک خاص نام بھي ديتے ہيں اور چند نادان دوست ان کي باتوں پر یقین بھي کر لیتے ہيں حتيٰ انہي کے دئیے ہوئے ناموں کوزبان سے ادا بھي کرتے ہيں یہ سوچے سمجھے بغير کہ یہ الفاظ ان کے اپنے نہيں بلکہ دشمن نے رٹائے ہيں۔ ملک کے اعليٰ حکام کو دوگروہوں ميں تقسیم کرنے کااعلان کرتے ہيں کہ ہم فلاں دستہ یا گروہ کے ساتھ ہيں اور فلاں دستہ کے مخالف یا ان ميں ایک اصلاح طلب ہيں اور دوسرے محافظ کار (انتہا پسند )۔ یہ سب دشمن کا بُنا ہوا جال ہے اور ہم سب کو بہت احتیا ط سے عمل کرنا چاہيے کہ کہيں ایسا نہ ہو کہ ہم ان سازشوں کا شکار ہوجائیں۔ یہاں امیر المومنین ٴ ہم سے مخاطب ہيں ’’صلاح ذات بینکم ‘‘دلوں کو ایک دوسرے کیلئے صاف اور آپس ميں نزدیک کرو۔۔۔ روش اور طريقہ کار کے اختلاف کو دشمني ميں تبدیل نہ کرو۔۔۔۔اختلاف روش حتيٰ عقائدي،سیاسي اور دیني اختلافات بھي (جب تک اس نظام کي بنیادوں ميں خلل ایجاد کرنے کا باعث نہ ہو ) دشمني اور آپس ميں جدائي کا سبب نہيں بنناچاہئے ۔

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي  کے خطابات سے اقتباس


متعلقہ تحریریں:

اسلامي نظام کے بنیادي اصول

دشمن کي دشمني کو سمجھیں

انقلاب اسلامي کے اندروني مسائل

طاغوت سے مقابلہ

جج، عدلیہ کا محور

عدلیہ کا فلسفہ وجودی

اسلامی جمہوریت

ان حوادث سے انقلاب کمزور نہیں ہو سکتا

سانحہ ہفتم تیر (اٹھائیس جون 1981 ) تاریخ انقلاب میں ناقابل فراموش واقعہ

دشمنوں کا ادھورا خواب