• صارفین کی تعداد :
  • 2363
  • 12/21/2008
  • تاريخ :

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

دردمند آدمی

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی

 

کہاں گئی وہ کنواری ۔ اداس بی آپا

جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی

 

بھلائے کون اذیت پسندیاں اس کی

خوشی کے ڈھیر میں صدمے تلاش کرتی تھی

 

عجیب ہجر پرستی تھی اس کی فطرت میں

شجر کے ٹوٹتے پتے تلاش کرتی تھی

 

قیام کرتی تھی وہ مجھ میں صوفیوں کی طرح

اداس روح کے گوشے تلاش کرتی تھی

 

تمام رات وہ پردے پٹا کے چاند کے ساتھ

جو کھو گئے تھے وہ لمحے تلاش کرتی تھی

 

کچھ اس لئے بھی مرے گھر سے اس کو تھی وحشت

یہاں بھی اپنے ہی پیارے تلاش کرتی تھی

 

گھما پھرا کے جدائی کی بات کرتی تھی

ہمیشہ ہجر کے حربے تلاش کرتی تھی

 

تمام رات وہ زخما کے اپنی پوروں کو

مرے وجود کے ریزے تلاش کرتی تھی

 

دعائیں کرتی تھی اُجڑے ہوئے مزاروں پر

بڑے عجیب سہارے تلاش کرتی تھی

 

مجھے تو آج بتایا ہے بادلوں نے وصی

وہ لوٹ آنے کے رستے تلاش کرتی تھی

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جاۓ

 ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

 ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں

میری آنکھوں میں آنسو پگھلتا رہا، چاند جلتا رہا