• صارفین کی تعداد :
  • 3081
  • 8/30/2011
  • تاريخ :

نومولود اور اخلاقى تربيت

نومولود اور اخلاقى تربیت

نومولود اور اخلاقى تربيت

جب بچہ دنيا ميں آتا ہے تو بہت کمزور ہوتا ہے عقل بالقوت رکھتا ہے مگر کچھ چيز  سمجھتا نہيں ، فکر اور سوچ بچار نہيں کرتا ، آنکھ سے ديکھتا ہے ليکن کسى چيز کو پہچانتا نہيں رنگوں اورشکلوں کو مشخص نہيں کر پاتا ، دورى اور نزديکى ، بزرگى اور بچپن کو نہيں سمجھتا ، آوازيں سنتا ہے ليکن ان کے معانى اور خصوصيات اس کى سمجھ ميں نہيں آتے اور يہى حالت اس کے تمام حواس کى ہے مگر وہ سمجھنے اور کمال تک پہنچنے کى وقت و استعداد رکھتا ہے تدريجا تًجربوں سے گزرتا ہے اور چيزوں کو سمجھنے لگتا ہے الله قرآن ميں فرماتا ہے :

والله اخرجکم من بطون امّہاتکم لا تعلمون شيئا و جعل لکم السّمع و الابصار و الافئدة لعلّکم تشکرون الله نہ تمہيں تمہارى ماؤن کے پيٹوں سے اس عالم ميں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہيں کان ، آنکھيں اور دل عطا کيا شايد کہ تم شکرگزار ہوجاؤ سورہ نحل آيہ 78

بچے کى زيادہ تر مصروفيات يہ ہيں کہ وہ کھاتا ہے ، سوتا ہے ہاتھ پاؤ ں مارتا ہے روتا ہے اور پيشاب کرتا ہے چند ہفتوں تک وہ ان کاموں کے علاوہ کچھ نہيں کرسکتا نومولود کے ابتدائي کام اگر چہ بہت سادہ سے اور چند ايک ہيں ليکن انہيں کے ذريعے سے بچہ دوسرے لوگوں سے ارتباط پيدا کرتا ہے ، تجربے کرتا ہے ، عادتيں اپناتا ہے اور علم حاصل کرتا ہے يہى رابطے اور تجربے ہيں کہ جن سے بچے کى آئندہ کى اخلاق اور معاشرتى خصيت کى بنياد پڑتى ہے اور وہ تشکيل پاتى ہے حضرت على عليہ السلام نے فرمايا : الا يام تو ضح السّرا ئرا لکا منہ جوں جوں دن گزرتے ہيں بھيد کھلتے ہيں  بچہ ايک کمز رو معاشر تى فرد ہے کہ جو دوسروں کى مدد کے بغير نہ زندہ رہ سکتا ہے اورنہ زندگى ، بسر کرسکتا ہے اگر دوسرے اس کى مدد کونہ لپکيں اور اس کى احتياجات کوپويانے کريں تو وہ مر جائے گا نو مو لود کى جسمانى صحت اور  رورش جن کے ذمے ہوتى ہے اس کى اخلاق ، اجتماعى يہاں تک کہ دينى تربيت اور رشد بھى انہيں سے وابستہ ہے سمجھدار اور احساس دمہ دارى کرنے والے ماں باپ اپنے صحيح اور سو چے سمجھے طرز عمل سے نو مولود کى ضروريات کو پورا کرسکتے ہيں اور اس کے جسم و روح کى پرورش کے ليے بہترين ماحول فراہم کرسکتے ہيں اور اس کى حساس اور بے آلائشے روح ميں پاکيزہ اخلاق اور نيک عادات پيدا کرسکتے ہيں اسى طرح ايک نادان تربيت کرنے، والا اپنے غلط طرز عمل اور اشتباہ سے ايک نو مولود کے پاک اور بے آلائشے نفسميں برے اخلاق او رناپسنديدہ عادات پيدا کر سکتا ہے

نو مولود کو بھوک لگتى ہے اور اسے غذا کى ضرورت ہوتى ہے وہ اپنى ضرورت کا احساس کرتا ہے اور وہ ايک بڑى قوت کى طرف تو جہ کرتا ہے کہ جواس کى ضروريات کو بر طرف کرسکتى ہو اسى ليے وہ رو تا ہے ، شور مچاتا ہے کہ اس کى فرياد کو پہنچا جائے اور اس کى ضرورتوں کو پورا کيا جائے اگر بچے کى داخلى خواہشات کى طرف پورى تو جہ کى جائے اور ايک صحيح پرو گرام تربيت و يا جائے اسے معين مواقع پرا و ضرورى مقدا ميں دودھ يا جائے تو وہ آرام محسوس کرتا ہے مطمئن ہو کے سوتا ہے اور معين اوقات پر جب اسے بھوک لگتى ہےتو بيدا ر ہوتا ہے پھر دود ھ پيتا ہے اور پھر سو جاتال ہے ايسے بچے کے اعصاب آرام و راحت سے رہتے ہيں اسے اضطراب اور بے چينى نہيں ہوتى ، اسے زندگى ميں اچھے اخلاق، صبر اور نظم و ضبط کى عادت پڑجاتى ہے اس کى حساس روح ميں دوسروں پر اعتماد اور حسن ظن کى بنياد پڑ جاتى ہے نومولود زندگى کے اس مرحلے ميں کہ جب وہ کسى کونہيں پہچانتا فطرى طور پر دو امور کى طرف تو جہ رکھتا ہے ايک اپنى ناتوانى اور نيازمندى کا اسے پورا احساس ہو تا ہے اور دوسرى طرف ايک بڑى اور مطلق قوت کى طرف تو جہ رکھتا ہے کہ جو تمام احتياجات کے لئے ملجاو پناہ گاہ ہے اسى سبب سے روتا ہے اور اس بر تر قوت کو مدد کے ليے پکار تا ہے کہ جسے و ہ پہچانتا نہيں اور وہ غيبى قوت سب اہل جہان کو پيدا کرنے والى ہے بچہ اپنے ضعف و ناتوانى کى وجہ سے اپنے آپ کو ايک بے نياز طاقت سے وابستہ اور متعلق سمجھتاہے اگر يہ احساس تعلق آرام کے ساتھ بخوبى بندھ آ رہے تو بچے کے دل ميں ايمان اور روحانى سکون کى بنياد پڑ جاتى ہے

پيغمبر اکر م صلى الله عليہ وآلہ و سلم نے فرمايا ہے :

رونے پر بچوں کونہ مارنا بلکہ ان کى ضروريات کو پورا کرنا کيوں کہ چار ماہ تکح بچے کا رونا پروردگار عالم کے وجود اور اس کى وحدانيت پر گواہى ہو تا ہے

چار ماہ پورے ہونے سے پہلے نومولود ابھى ايک معاشرتى و جود نہيں بنا ہوتا کسى کو نہيں پہچانتا جتى اپنى ماں اور دوسروں ميں فرق نہيں کرپاتا اور ماğ کے بقول وہ دورى نہيں کرتا يہى چار ماہ ہيں کہ بچہ بس ايک ہى ذات کى طرف متوجہ ہو تا ہے ليکن جو بچہ ماں کى غفلت اور سستى کى وجہ سے صحيح اور منظم توجہ اورغذا سے محروم ہو جاتا ہے ناچار گاہ بگاہ روتا ہے اور شور کرتا ہے تا کہ کوئي اس کى مدد کو پہنچے ايسے بچے کے اعصاب اورذھن ہميشہ مضطرب اور دگرگوں رہتے ہيں اور اسے آرام نہيں ملتا آہستہ آہستہ وہ چڑ چڑ اور تند خو ہو جاتا ہے اس کے اندر بے اعتمادى اور پريشانى کى حس پيدا ہو جاتى ہے اور وہ ايک نامنظم اور ڈہيٹ و جود بن جاتا ہے

بشکريہ :  مکارم شيرازي ڈاٹ او آر جي


متعلقہ تحريريں:

کتاب کا مطالعہ (حصّہ سوّم)

کتاب کا مطالعہ (حصّہ دوّم)

کتاب کا مطالعہ

تمام والدين کي  آرزو

والدين کا احترام