• صارفین کی تعداد :
  • 1921
  • 8/28/2011
  • تاريخ :

اقبال کي اُردو غزلوں ميں رديف کا استعمال کي اہميت (حصّہ پنجم)

علامہ اقبال

اگر کج رو ہيں انجم، آسماں تيرا ہے يا ميرا

مجھے فکر جہاں کيوں ہو، جہاں تيرا ہے يا ميرا؟

اس غزل ميں شاعر خدا تعالٰي سے مخاطب ہے "تيرا ہے يا ميرا" کي رديف اگرچہ استفہاميہ ہے اور استفہام بھي شاعر کے حوالہ سے انکاري ہے شعر کا مفہوم اپنے سياق و سباق ميں ظاہر کرتا ہے کہ کائنات کے اس نظام ميں جو کچھ ہے اس کي ذمہ داري خدا تعالٰي پر ہے بندے پر نہيں- لہٰذا اسے بظاہر اس نظام ميں کوئي نقص يا خرابي بھي نظر آئے تو وہ اس کے بارے ميں فکر مند نہيں-  مطلع کے بعد والے شعر ديکھيے

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالي

خطا کس کي ہے يارب! لامکاں تيرا ہے يا ميرا؟

اُسے صبح ازل انکار کي جرات ہوئي کيوں کر

مجھ معلوم کيا، وہ راز داں تيرا ہے يا ميرا؟

محمد بھي ترا، جبريل بھي، قرآن بھي تيرا

مگر يہ حرفِ شيرين ترجماں تيرا ہے يا ميرا؟

اسي کو کب کي تاباني سے ہے تيرا جہاں روشن

زوال آدم خاکي زياں تيرا ہے يا ميرا؟

*

پانچ شعروں کي اس غزل ميں آسماں، جہاں، لامکاں، رازداں، ترجماں اور زياں کے ساتھ جہاں بھي تيرا ہے يا ميرا رديف آتي ہے اسي نے شعر کي معنويت اور رمزيت ميں اضافہ کيا ہے- الگ الگ شعروں ميں اپنے تخليقي جواز کے ساتھ اس رديف نے بحيثيت مجموعي غزل کي پوري فضا کو بھي مربوط کيا ہے رديف کے استمعال کے باب ميں يہ اقبال کي مہارت کا ثبوت ہے کہ ان کے ہاں رديف بناوٹ تضع يا رديف برائے کے رديف نہيں بلکہ شعر کے نامياتي وجود Organic System کا فطري حصہ بن جاتي ہے-

اسي انداز کي دوسري رديفوں نہ بن جائے ہے ساقي، اے ساقي، سمجھا تھا ميں، ہے تو کہ ميں، سے گزر، کے سوا کچھ اور نہيں وغيرہ ميں رديفوں کا استعمال بہت سليقے سے ہوا ہے ايک معاون Supporting حيثيت ميں رديف قافيے کے ساتھ مل کر نہ صرف يہ کہ شعر کے مفہوم کو تخليقي اور فطري انداز ميں مکمل کرتي ہے بلکہ غزل کي مجموعي فضا کے حسن کو بھي نکھارتي ہے-

اقبال کے ہاں بعض رديفيں استفہاميہ انداز کي ہيں اور سوالات اٹھاتي نظر آتي ہيں مثلاً انہيں غزلوں ميں جن کا اوپر ذکر کيا گيا ہے تيرا ہے ميرا، کيا ہے، بھي ہے، تو ہے کہ ميں وغيرہ کے مطالعے ديکھيے

اگر کج روہيں انجم، آسماں تيرا ہے يا ميرا

مجھے فکرِ جہاں کيوں ہو جہاں تيرا ہے ميرا

*

عالم آب و خاک وباد! سرِعياں ہے تو کہ ميں

وہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تو کہ ميں

*

نگاہ فِقر ميں شانِ سکندري کيا ہے

خراج کي جو گدا ہو، وہ قيصري کيا ہے!

*

خرد مندوں سے کيا پوچھوں کہ ميري ابتدا کيا ہے

کہ ميں اس فکر ميں رہتا ہوں، ميري انتہا کيا ہے

*

مکتبوں ميں کہيں رعنائي افکار بھي ہے ؟

خانقاہوں ميں کہيں لذت اسرار بھي ہے ؟

*

ان غزلوں کے ہر شعر ميں اقبال نے کوئي نہ کوئي سوال اٹھايا ہے يا استفہاميہ (انکاري) صورت ميں بڑي بے بيزاي سے اپني مافي الضمير کا اظہار کيا ہے خصوصا! نگاہ فقر ميں شان سکندري کيا ہے والي غزل ميں خيالات اور افکار کا غالب رجحان کيا ہے کو کچھ نہيں کہ مفہوم سے عبارت کيا ہے-

اس طرح اقبال کي رديفوں ميں بعض رديفيں خطابيہ انداز ليے ہوئے ہيں خصوصاً "ہے ساقي" اور "اے ساقي" ميں بيان و خطاب کا مرکز ساقي کي ذات ہے- اپني علامتي حيثيت ميں ساقي کہ فارسي اور غزل کا ايک اہم کردار ہے اپنے مفاہيم کي وسعت ميں مجازي معنوں سے مرشد، خدا تعالٰي اور دوسري کئي عظيم ہستيوں سے نسبت رکھتا ہے- اقبال نے ان غزلوں ميں بھي رديف کا موثر اور پر معني استعمال کيا ہے-

"سمجھا تھا ميں" "سے دُور نہيں" "کے سوا کچھ اور نہيں" کي نسبتاً ذرا بڑي اور "کے لئے" "نہيں ہے" "ميں سے" کي ذرا چھوٹي رديفيں بھي اپنے سياق و سباق ميں پر معني اور موثر ہيں- پوري غزل کي فضا سازي ميں معاون ہوتي ہوئي اپنے مفہوم کو بھي نکھار نظر آتي ہيں-

يک لفظي رديفوں ميں اقبال نے آخر ميں "کر" اور "نہيں" جيسے عام لفظوں کو بھي اپني شعري شخصيت کے کمال سے موثر بناديا ہے- "جواب" کے قافيے کے ساتھ آخر کي رديف اجتماعي فضا پيدا کرکے غزل کو مثر بناتي ہے- اسي طرح پيام کے ساتھ "آيا" اور مقام کے قافيے کے ساتھ "سے گزر" کي چھوٹي سي رديف کو اقبال نے اپني مہارت فن کے ساتھ مافي الضمير کے اظہار کے ليے خوبصورتي سے استعمال کيا ہے- ان کے ہاں رديفوں کا يہ قرينہ نہ صرف فطري اور تخليقي انداز ليے ہوئے ہے بلکہ ہر جگہ غزل کي زمين سے بے ساختگي اور نامياتي انداز ميں ملتا ہے-

تحریر: رابعہ سرفراز