• صارفین کی تعداد :
  • 1467
  • 8/14/2011
  • تاريخ :

اقبال کي اُردو غزلوں ميں رديف کا استعمال کي اہميت

علامہ اقبال

اقبال کي غزلوں خصوصاً "بالِ جبريل" کي غزلوں ميں انہوں نے غير مردف انداز اور رعايت کا خوب فائدہ اٹھايا- اس شعري مجموعہ ميں 77 غزليات ہيں جن ميں 50 غير مردف ہيں يعني کل غزلوں کا قريباً ايک تہائي رديف والي غزليں ہيں اور دو تہائي رديف کے بغير-

غزل گوئي کے باب ميں اقبال کا يہ عمل ان کي فنکارانہ مہارت اور جدتِ اظہار کا آئينہ دار ہے- اُردو شاعري کي تاريخ ميں غزل پر ايک دور ايسا بھي آيا جب بڑي لمبي لمبي رديفين رکھنے کا رواج تھا- جرات انشاء اور ناسخ کے کلام ميں ايسے بيسيوں نمونے مل جاتے ہيں جن ميں رديف نصف نصف مصرع کے برابر ہيں اور کہيں کہيں اس سے بھي بڑي- ايسي غزلوں ميں اکثر اوقات رديف کسي تخليقي تجربے کا حصہ نہيں بنتي بلکہ وزن پورا کرنے کے ليے ساتھ ساتھ چلتي رہتي ہے اور بعض جگہوں پہ اس کا وجود بے کار معلوم ہوتا ہے-

اقبال نے غزل کي موجودہ روايت ميں آہستہ آہستہ آزادي حاصل کي وہ جس حد تک غزل کي ہيئتي اور صنفي پابندي کے اندر رہ کر آزاد ہوسکتے تھے ہوئے- انہيں يہ اندازِ غزل اس قدر پسند ہے کہ وہ اپني نظموں کے اندر بھي اکثر رديف کا استعمال کرتے "مسجد قرطبہ" اور "ذوق و شوق" کي نظميں ديکھيے- يہ بندواربيت پر مشتمل ہيں مگر ان ميں کسي بند کے اشعار رديف ميں نہيں  جب کہ ٹيپ کے شعر جوہر بند کے اختتام پر ہيں رديف وار ہيں- يہ قرينہ اور اہتمام  (Art)   بھي مظہر ہے ان نظموں کا پہلا پہلا بند ملاحظہ ہو-

"مسجدِ قرطبہ"

سلسلئہ   روز   و  شب،   نقش  گرِ   حادثات

سلسلئہ  روز  و  شب ،  اصلِ  حيات و ممات

سلسلئہ  روز  و  شب،  تارِ  حريرِ  دو رنگ

جس  سے  بناتي ہے ذات اپني قبائے صفات

سلسلئہ  روز  و شب،  سازِ  ازل  کي   فغاں

جس  سے دِکھاتي ہے ذات زِيروبمِ ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے يہ، مجھ کو پرکھتا ہے يہ

سلسلئہ  روز  و  شب ،  صَير  فيِ    کائنات

تُو  ہو  اگر  کم  عيار، ميں ہوں اگر کم عيار

موت ہے تيري برات، موت ہے ميرے برات

تيرے  شب  و  روز  کي اور حقيقت ہے کيا

ايک زمانے کي رَو جس ميں نہ دن ہے نہ رات

آني  و   فاني    تمام    معجزہ    ہائے    ہُنر

کارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات

"ذوق و شوق" کے درج ذيل اشعار ديکھيے

قلب و  نظر  کي  زندگي  دشت ميں صبح کا سماں

چشمئہ    آفتاب    سے    نُور    کي    ندّياں رواں

حُسنِ   ازل کي  ہے  نمود،  چاک ہے پردہ وجود

دل   کے   ليے  ہزار  سُود  ايک  نگاہ  کا  زياں

سُرخ  و  کبود  بدلياں   چھوڑ  گيا  سحابِ  شب

کوہِ  اضم  کو  دے  گيا  رنگ  برنگ  طَيلساں

گرد سے پاک ہے ہوا،   برگِ نخيل دُھل گئے

ريگِ بُجھي ہوئي ادھر، ٹوٹي ہوئي طناب اُدھر

کيا خبر اس مقام سے گزرے ہيں کتنے کارواں

"مسجد قربطہ" کے پہلے بند ميں حادثات، ممات، ممکنات، کائنات برات رات اور ثبات کے قوافي ہيں جب کہ ٹيپ کے شعر ميں جہاں پہلا بند ختم ہوتا ہے ظاہر فنا، آخر فنا کے الفاظ ظاہر اور آخر قوافي اور فنا کي رديف پر مشتمل ہيں- اسي طرح "ذوق شوق" کے عنوان والي نظم کے پہلے بند ميں سماں، رواں، زياں، طيلساں، پرنياں، کارواں کے قوافي پر اشعار ختم ہوتے ہيں جب کہ ٹيپ کا شعر "مقام ہے يہي اور دوام " کے قوافي کے ساتھ " ہے يہي" کي رديف پر مشتمل ہے ان نظموں ميں قوافي اور رديف کے حسن کا جائزہ نظموں کے محاسن کے ذيل ميں ليا جائے گا سرِ دست يہ بتانا مقصود ہے کہ اقبال نے غزل کي تنگنا ئےکے اندر ممکن حد تک آزادي حاصل کرلي تھي-

غير مردف غزلوں کي 13 غزلوں ميں ايک غزل بھي رديف کے بغير نہيں- دوسرے دور کي 7 غزلوں کي بھي يہي صورت ہے- ان سب کي رديفيں ہيں- تيسرے دور ميں بھي 8 غزليں شامل ہيں جن سب کي رديفيں ہيں يعني "بانگ درا" کي سبھي غزليات مردّف ہيں-

اقبال نے اپنے اظہار کے اولين غزليہ نمونوں ميں رديف کو برتا ہے مگر "بال جبريل" تک آتے آتے اقبال نے اظہارِ بيان ميں رديف کي پابندي کا اہتمام روا نہيں رکھا- في الحال اس امر کا اظہار اور اس جدت بيان کي نشاندہي مطلوب ہے کہ اقبال اردو کے وہ پہلے معروف شاعر ہيں جنہوں نے بکثرت غير مردف غزليں لکھيں- اگر اردو شاعري کے ابتدائي نمونوں سے اقبال تک کے معاصرين کي غزل گوئي کا جائزہ ليا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اقبال وہ پہلے شاعر ہيں جنہوں نے کثرت کے ساتھ غير مردف غزليں لکھيں- اس رجحان کے پس منظر ميں اقبال کے ذہني، نفسياتي، تخليقي جو عناصر بھي کار فرما ہوں ان کي غزل گوئي ميں رديف کي کلاسيکي گرفت اور روايتي جکڑ بندي سے آزاد ہونے کي طرف ايک غير محسوس رويہ ضرور ملتا ہے- يہ رويہ اتنا نماياں اور اہم ہے کہ علامہ اقبال کي مستعمل اصنافِ سخن کا جائزہ ليتے ہوئے غزل کے باب ميں غير مردّف غزلوں کا جائزہ سر فہرست جگہ بنا ليتا ہے-

غير مردّف غزلوں کي سب سے بڑي خوبي يہ ہوتي ہے کہ ان ميں رديف کي پابندي نہ ہونے کے سبب اظہار ميں آزادي اور کھلے پن کا احساس ہوتا ہے- شاعر قوافي کے گرد اپنے احساسات، جذبات، خيالات اور مشاہدات کو جمع کرتا ہے اور کسي دوسري پابندي (رديف) کے بغير اپنا تخليقي اظہار مکمل کر ليتا ہے- اقبال کے زمانے ميں آزاد اور معرا نظم کا جو سلسلہ اپني جڑيں پکڑ رہا تھا اقبال کو لاشعوري طور پر اس کا احساس ہور رہا تھا- يہي وجہ ہے کہ انہوں نے اپني ابتدائي غزل گوئي کے علاوہ زيادہ تر غزل گوئي غير مردّف انداز ميں کي-

اقبال کي غزل گوئي کے بقايا اثاثے ميں دو طرح کي غزليں ملتي ہيں چھوٹي رديف والي غزليں، متوسط رديف والي غزليں اور نسبتاً ذرا لمبي رديف والي غزليں- چھوٹي، متوسط اور طويل رديفوں کا تعين اس طرح کيا جاتا ہے کہ غزل کي بحريا وزن کي مناسبت سے رديف مصرع کے کتنے صوتي حصہ پر مشتمل ہے يا مصرع کي صوتي اکائي ميں کتني جگہ گھيرتي ہے-

جاری ہے۔
تحریر: رابعہ سرفراز

 متعلقہ تحريريں :

پيار کا پہلا شہر (حصّہ ششم) 

منير نيازي

تلفظ اور املا

پيار کا پہلا شہر (حصّہ پنجم)

پيار کا پہلا شہر (حصّہ چهارم)