• صارفین کی تعداد :
  • 2233
  • 12/28/2010
  • تاريخ :

تہذیب و ثقافت ( دوسرا حصہ )

سوالیہ نشان

ثقافتی یلغار یہ ہے کہ کوئی گروہ یا سسٹم اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کسی قوم کو اسیر بنا لے۔ اس کی ثقافتی بنیادوں کو نشانہ بنائے۔ یہ سسٹم اس قوم میں کچھ نئی چیزیں اور افکار متعارف کراتا ہے۔ پھر انہی افکار و نظریات اور طرز عمل کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی کو ثقافتی یلغار کہتے ہیں۔ ثقافتی تعاون اور لین دین کا مقصد موجودہ ثقافت کو مستحکم اور کامل بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ ثقافتی یلغار میں ایک ثقافت کو نشانہ بناکر مٹا دیا جاتا ہے۔ ثقافتی لین دین میں جو قوم کسی دوسری قوم سے کچھ حاصل کرتی اور لیتی ہے، وہ دوسری قوم کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتی ہے، اس کی خوبیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور پھر انہی خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کرتی ہے مثال کے طور پر علم و دانش وغیرہ۔

ثقافتی لین دین میں انتخاب کا اختیار ہمارے پاس ہوتا ہے جبکہ ثقافتی یلغار میں انتخاب دشمن کرتا ہے۔ ثقافتی لین دین اس لئے ہوتا ہے کہ خود کو کامل بنایا جائے یعنی اپنی قومی ثقافت کو کامل بنایا جائے جبکہ ثقافتی یلغار اس لئے ہوتی ہے کہ ایک ملک کی ثقافت کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ثقافتی لین دین اور تعاون اچھی چیز ہے لیکن ثقافتی یلغار بہت مذموم شیء ہے۔ ثقافتی تعاون، دو مضبوط ثقافتوں میں انجام پا سکتا ہے لیکن ثقافتی یلغار ایک طاقتور قوم کمزور قوم پر کرتی ہے۔

مغربی ثقافت اچھائیوں اور برائيوں کا مجموعہ ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مغربی ثقافت میں صرف برائياں ہی برائياں ہیں۔ جی نہیں، مغربی ثقافت بھی مشرقی ثقافتوں کی مانند خوبیوں اور عیوب کا مجموعہ ہے۔ ایک دانشمند اور علم دوست قوم اور صاحبان عقل و خرد دوسروں کی خوبیاں اپنی ثقافت میں شامل کر لیتے ہیں لیکن ان کی برائیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

اسلامی ثقافت ایک معیاری ثقافت ہے، جو ایک معاشرے کے لئے اور انسانوں کے کسی بھی گروہ اور جماعت کے لئے اعلی ترین اقدار و معیارات کی حامل ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کو سربلند و سرفراز اور عزیز و با وقار بنا کر ترقی و کامرانی کی راہ پر لگا سکتی ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مکاتب فکر سے تشکیل پائی ہے۔ قدیمی ترین تہذیبیں اور وسیع ثقافتیں انہی علاقوں میں پھلی پھولی اور فروغ پائی ہیں جہاں آج مسلمان آباد ہیں۔ یہ تنوع، یہ رنگا رنگ انداز، کرہ زمین کے حساس علاقوں کی مالکیت امت مسلمہ کی اہم خصوصیات ہیں۔ تاریخ و ثقافت کی مشترکہ میراث اس امت کی طاقت میں اور بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

ختم شد

بشکریہ ولایت ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں :

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ چهارم)

آزادی ٴ ہند کا سہرا

آئیے! 63 برس کے سود و زیاں کا حساب لگائیں

پاکستان کے ساتھ عہد کریں

پاکستان قدرت کا ایک انمول عطیہ

یوم آزادی کے روز

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ سوّم)

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ دوّم)

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل

مسلح گروہوں کی تشکیل میں صہیونیستوں کا پہلا قدم