• صارفین کی تعداد :
  • 2444
  • 8/15/2010
  • تاريخ :

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ چهارم)

لہی گروپ

لہی (Lehi) دہشت گرد گروپ :

برطانیہ کی طرف سے دباو کے نتیجے میں ارگون نے 1939ء سے برطانیہ کے خلاف اپنی دہشت گرد کاروائیاں بند کر دیں اور اسکے کچھ ممبران برطانوی فوج میں شامل ہو گئے۔

1948ء میں سویڈن نژاد اقوام متحدہ کے ایلچی برناڈٹ کے قتل کے بعد اشٹرن کے اکثر اراکین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

 ان دونوں کے سب سے زیادہ فعال اراکین جو زندہ بچنے میں کامیاب ہو گئے تھے نے ایک نیا دہشت گرد گروپ تشکیل دیا جسکا نام لہی رکھا گیا۔ یہ گروپ ممبران کی تعداد کے حوالے سے سب سے چھوٹا گروپ تھا لیکن سب سے زیادہ فعال اور سرگرم تھا۔

اس گروپ نے اشٹرن اور ارگون کے برخلاف روس کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی قائم کی اور آئرلینڈ کے مزاحمتی گروپ آئی آر اے کے طرز پر کاروائیاں شروع کر دیں۔

اشٹرن کا سب سے زیادہ سنگدل اور بے رحم ممبر اسحاق شامیر بھی اس گروپ میں شامل ہو گیا۔ شامیر اس گروپ میں مائیکل آئرلینڈی کے نام سے مشہور تھا۔ اسرائیل کے امور کے ماہر شلنڈر اس گروپ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے بارے میں لکھتا ہے: "یہ گروپ سب سے چھوٹا دہشت گرد گروہ تھا لیکن 1942ء سے 1948ء کے درمیان ہونے والے قاتلانہ حملوں میں سے 71 فیصد اس گروہ نے انجام دیئے۔ اس گروپ کا پہلا لیڈر 1942ء میں تل ابیب میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا"۔ اس گروپ کی سب سے بڑی دہشت گردانہ کاروائی 1944ء میں مصر میں لارڈ موین، برطانوی فوجی کمانڈر کا قتل تھی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز


متعلقہ تحریریں:

فلسطین، اقبال کی نظر میں

فلسطین، اقبال کی نظر میں (حصّہ دوّم)