• صارفین کی تعداد :
  • 3077
  • 8/8/2010
  • تاريخ :

آزادی ٴ ہند کا سہرا

یوم آزادی کے روز

راؤنڈ ٹیبل کانفرنس جو لندن میں ہوئی تھی اس کے بعد مولانا محمد علی جوہر کا انتقال ہو جاتا ہے اور ہند کے مسلمان بڑی کسمپرسی میں اپنی زندگی گزار رہے تھے اور کسی رہبر کا انتظار تھا۔ علامہ اقبال جو عظیم شاعر اور فلسفی تھے انہوں نے قائد اعظم کو خط لکھا کہ آپ ہندوستان آ کر مسلمانوں کی رہبری فرمائیں کیونکہ آپ ہی میں یہ صلاحیتیں ہیں اور پوری قوم آپ سے یہ توقع رکھتی ہے۔ جناح صاحب 1934ء میں ہندوستان آ کر مسلم لیگ کے صدر بنتے ہیں۔

1940ء دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا سال ہے جو کہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ یوں تو ہرسال ہی دنیا میں چھوٹے بڑے اہم واقعات گزرتے رہتے ہیں مگر اس سال میں دنیا ایک بڑے بھونچال کا شکار ہوئی یہ بھونچال تھا جرمنی کا سیکنڈ ورلڈ وار جس نے دنیا کو تہس نہس کر ڈالا۔ اس میں کم و بیش 3 کروڑ افراد مارے گئے۔ جرمنی اور اس کے ساتھی اٹلی نے قریباً پورے یورپ پرقبضہ کر لیا تھا اوران کی فوجیں شمالی افریقہ پر قبضہ کرکے تیزی سے فیلڈ مارشل رومل کی کمانڈ میں مصر کی طرف بڑھ رہی تھیں اور یونائیٹڈ کنڈم جرمنی کے خوفناک ہوائی حملوں سے بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ حالات اتنے غیر یقینی تھے کہ بظاہر برطانیہ کے جیتنے کے کوئی آثار نظرنہیں آ رہے تھے ادھر جرمنی کا دوسرا ساتھی جاپان ساؤتھ ایسٹ ایشیاء کے مختلف ممالک کو فتح کرتے ہوئے برما جس کی سرحد ہندوستان سے ملتی ہے پر قبضہ کر لیا تھا اورہندوستان کو فتح کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ جاپان نے ایک بار چارٹ گاؤں پرجو بنگال کا حصہ ہے بمباری بھی کی تھی۔ ہندو قوم اپنی چالاکی میں بڑی مشہور ہے ان حالات کا جائزہ لے کر کہ انگریزقوم ہندوستان میں بہت پریشان ہے گاندھی جی کے مشورے سے کانگریس پارٹی نے "Quit India Resolation" پاس کیا جس کا مقصد تھا کہ ہندوستان کی انگریز کانگریس (30 کروڑ ہندوؤں) کو حکومت دے کر فوراً ہندوستان سے بھاگ جائیں اور یوں کانگریس لیڈرز  10 کروڑ مسلمانوں کو اپنا غلام بنا لیں۔

یوم آزادی کے روز

-1 آل انڈیا سطح پر مسلمانوں کے خلاف شدھی موومنٹ شروع کر رکھی تھی بقول ہندو لیڈروں کے 10 کروڑ مسلمان پہلے ہندو تھے لہٰذا پھر انہیں ہندو بنایا جائے۔

-2 Quit انڈیا ریزولیشن پاس ہوتے ہی مسلم اقلیتی صوبوں میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگیا۔

-3سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوگئی اور ملک میں بغاوت کی فضا پھیل گئی جس کے سبب کانگریس کے چھوٹے چھوٹے لیڈروں کو سلطنت برطانیہ نے گرفتا کر لیا۔ کانگریس نے ہندوستان میں ودیا مندر اسکیم شروع کر رکھی تھی جس کے سبب بندے ماترم گیت سب اسکولوں کے بچوں سے پڑھوایا جاتا تھا۔ جس کے سبب قائد اعظم نے گورنمنٹ سے سخت احتجاج کیا۔

-4 کانگریس لیڈرز مسلم اقلیت والے صوبوں میں مسلمانوں سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم تیس کروڑ ہندو ہیں تم دس کروڑ مسلمان ہو۔ ہم پندرہ کروڑ ہندو دس کروڑ مسلمانوں کو مار دیں گے اور مر جائیں گے پھر بھی پندرہ کروڑ باقی رہیں گے اور اکھنڈ بھارت بن کر رہے گا۔

یہ کانگریس لیڈرز اور 30 کروڑ ہندوؤں کی بدنصیبی تھی کہ اتنی بڑی طاقت اور پورے وسائل ہونے کے باوجود انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کا یہ طاقت کا بھرپور اور آخری مظاہرہ بھی ناکام ہو کررہ گیا۔ قائد اعظم نے ہند کے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ کانگریس کے Quit India ریزولیشن سے دور رہیں جس پر دس کروڑ مسلمانوں نے کافی حد تک ان کے حکم کی پابندی کی، سوائے ان مٹھی بھر مسلمانوں کے جو کانگریس کے حامی تھے۔ قائد اعظم Unity, Faith,Discpline کے تحت پوری قوم کو پوری طرح منظم اور طاقتور بنانے میں رات دن مصروف رہے تاکہ وقت آنے پر پاکستان حاصل کرنے کیلئے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے مسلمان طلباء کو ہدایت دی کچھ عرصے بعد قائد اعظم نے Direct Action Movement انگریزوں کے خلاف شروع کیا اور ایک بار یہ بھی فرمایا۔

Try to build up your character that is more then all the degrees. All the degrees and character is mere weste of time.

یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قائد اعظم جیسا عظیم رہنما عطا کیا جو ماہرقانون اور عظیم سیاست دان تھے جس کا ہندوستان میں کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ حق انصاف کے حامی تھی اور ان کی ڈیلنگ اصولوں پر ہوا کرتی تھی۔ احساس کمتری انہیں چھو کر بھی نہیں گیا تھا انگریز ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ :

Mr. Jinnah is always armed to the teeth.

اور وائسرائے بھی ان سے بات چیت کرنے میں بڑی احتیاط برتتے تھے قوم کی ہمت بڑھانے کے لئے انہوں نے ایک بار یہ بھی فرمایا تھا جو ریکارڈ پر ہے۔

Honour, honesty, statesmanship, justice nad fairplay always win in long run.

ان میں تین بڑی خوبیاں تھیں۔ نہ انہیں کوئی دھوکہ دے سکتا، نہ ڈرا سکتا تھا اور نہ خرید سکتا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ ان تین خوبیوں میں سے اگر ایک بھی نہ ہوتی تو پاکستان کا بننا ناممکن ہوتا۔ کچھ عرصے بعد جب قائد اعظم کو یہ اندازہ ہوگیا کہ مسلم لیگ ایک طاقتور جماعت بن گئی ہے تو انہوں نے بنا خوف وخطر ایک تاریخی اعلان کیا جس نے سیاست کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اب قائد اعظم نے مسلم لیگ کی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا اور فرمایا کہ ہم ہمیشہ وائسرائے کیبنٹ مشن سے ملنے کیلئے باوقار طریقے سے گئے اور حق وانصاف کی بات کی اور باوقار طریقے سے واپس آئے۔ کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا کانگریس ہماری آزادی میں ہمیشہ رکاوٹ بنی رہی اور انگریز ہم سے کئے ہوئے وعدوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ پھر انہوں نے سلطنت برطانیہ اور تیس کروڑ ہندوؤں کو چیلنج کیا کہ اگر تم امن چاہتے ہو تو ہم بھی جنگ نہیں چاہتے اور اگر تم جنگ چاہتے ہو تو ہم اس کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

اللہ کے شیروں کوآتی نہیں روباہی

پاکستان

قائد کے ان الفاظ نے پورے ہندوستان اور سلطنت برطانیہ میں جس کے راج میں سورج نہیں ڈوبتا تھا اور جو ہٹلر کے خلاف دو جنگ عظیم جیت چکی تھی اور جسے ایک سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی اور باہر سے کسی کا کوئی دباؤ نہیں تھا ایک بھونچال پیدا کر دیا۔ یہ سلطنت برطانیہ کیلئے کھلا چلنج تھا وہ قائد اعظم کو گرفتار کرنا چاہتے تھے مگر ماؤنٹ بیٹن نے جو ہند کے آخری وائسرائے اور ہندوستان کے زمینی حقائق سے واقف تھے، مسٹر جناح کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسٹرجناح کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا گیا یا انہیں گرفتارکیا گیا تو دس کروڑ مسلمان کٹ مریں گے اور:

There would be bloodshed on the threshold of India.

قائد اعظم نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کیلئے یہ بھی فرمایا تھا جو ریکارڈ پر ہے:

"If we take our inspirations and guidance from Holy Quran, the final victory I once again say will be ours"

پوری مسلم قوم قائد اعظم کے ایک اشارے پر اپنا ملک پاکستان حاصل کرنے کے لئے کٹ مرنے کے لئے تیارتھی۔ یہاں ایک چیز قابل غور ہے کہ جنگ آزادی لڑنے کیلئے مسلمانوں کے پاس کسی قسم کا کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ صرف اور صرف ایک ہتھیار تھا قومی یکجہتی ، فولادی عزم اور جذبہ جہاد جس سے سلطنت برطانیہ خوفزدہ ہو گئی۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے rd June 19473 کو تقسیم ہند کا اعلان کیا۔ دشمنوں کی ہر سازش، رکاوٹ اور خطرات کے باوجود مسلمانوں کا یہ قافلہ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں خون اور آگ کا دریا عبور کرتا ہوا 14 August 1947 کو پاکستان پہنچا اور یوں:

Largest Muslim state of world.

دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آئی جو قدرت کا عظیم معجزہ ہے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اب ملک کے دانشور خود یہ فیصلہ کریں کہ ہند کی آزادی کا سہرا جناح کے سر ہے یا گاندھی جی کے ۔

تحریر : حمید الدین خان ( روزنامہ جنگ پاکستان )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

آئیے!  63 برس کے سود و زیاں کا حساب لگائیں