• صارفین کی تعداد :
  • 2056
  • 5/11/2010
  • تاريخ :

مسلح گروہوں کی تشکیل میں صہیونیستوں کا پہلا قدم

صیہونیزم اور ٹروریزم

فلسطین میں ہجرت کرنے والے یہودیوں کے نسلی اور مذہبی تعصبات اور مقامی فلسطینی شہریوں کا ان متعصب افراد سے مقابلہ ان کے درمیان دشمنی کے پیدا ہونے کا سبب بن گیا۔ یہی چیز اس بات کا باعث بنی کہ یہودی مہاجر فلسطین میں آتے ہی اپنے دفاع کی خاطر مسلح گروہ بنانے کے بارے میں سوچنے لگیں۔ یہ گروہ بنانے کا ایک اور مقصد اردگرد کے علاقوں پر حملہ کرنا اور اپنی سرزمین کو وسعت بخشنا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت فلسطین کی سرزمین برطانیہ کے زیر اثر تھی۔ مسلح گروہ تشکیل دینے کی خواہش، وایزمین کی طرف سے اسرائیلی ریاست بنانے کا اعلان اور سیاسی صیہونیسم کی تشکیل وہ عوامل تھے جنہوں نے یہودیوں کو برطانیہ کے ہاتھ میں ایک آلہ کار کے طور پر تبدیل کر دیا اور برطانیہ انہیں اپنے استعماری اہداف کے حصول کی خاطر استعمال کرنا شروع ہو گیا۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوا چاہتی تھی۔ یہ جنگ برطانیہ کیلئے کافی پریشان کن تھی۔ برطانیہ چاہتا تھا کہ امریکہ کو بھی اس جنگ میں شامل کرے تاکہ دشمن کے خلاف ایک اور محاذ کھولا جا سکے۔ یہودیوں نے یہ موقع غنیمت جانا اور برطانیہ سے اس بات پر مذاکرات کئے کہ اگر وہ انہیں فلسطین میں ایک آزاد ریاست بنانے کا وعدہ دے تو وہ اپنا اثر و نفوذ استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو بھی جنگ میں شامل ہونے پر رضامند کر لیں گے۔ گویا کہ یہ مذاکرات کامیاب رہے اور امریکہ میں مقیم یہودیوں نے اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ اسی دوران جنگ میں برطانیہ کی مدد کیلئے یہودیوں کا ایک مسلح گروہ جیوش لژیون (jewish legion) معرض وجود میں آیا جس کے ممبران جنگ کے بہانے فلسطین میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ پہلی جنگ عظیم کے آخر میں اس گروہ میں شامل افراد کی تعداد تقریباً 11000 تک پہنچ چکی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد اس گروہ کے افراد ولادیمیر جابوٹینسکی (Vladimir jabotinsky) کی قیادت میں فسطین آ گئے۔ اس طرح سے فلسطین میں موجود صیہونیست بہت زیادہ طاقتور ہو گئے۔ ان مسلح افراد کی سرگرمیاں مقامی افراد کی طرف سے شدید اعتراض کا سبب بنیں۔ حتی فلسطین کے اندر اور باہر موجود مذہبی یہودیوں نے بھی ان سرگرمیوں پر شدید اعتراض کیا۔ مخالف یہودیوں کا تعلق ارتھوڈوکس فرقے سے تھا جنکے عقیدے میں یہودی ریاست کے قیام کی کوشش مذہبی اعتبار سے ممنوع تھی اور خدا کے ساتھ شرک کرنے کے مترادف تھی۔ ان کی نظر میں اسرائیلی ریاست کے قیام صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے یہودیوں کا معروف ترین گروہ "نٹوریکاٹا" تھا۔ سیاسی صیہونیزم برطانیہ کی مدد سے فلسطین میں یہودی کالونیاں بنانے اور انکی حفاظت کیلئے مسلح افراد مہیا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جیوش ایجنسی برطانیہ کی طرف سے رسمی طور پر فلسطین میں یہودیوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کر دی گئی جو فسطین میں مقامی افراد کی حاکمیت کو ختم کرنے میں پہلا قدم ثابت ہوئی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز


متعلقہ تحریریں:

صیہونیزم اور ٹروریزم

یوم القدس اور عالم اسلام