• صارفین کی تعداد :
  • 5486
  • 10/5/2014
  • تاريخ :

بچوں کي تعليم و تربيت ايک بنيادي فريضہ(حصه دوم)

بچوں کی تعلیم و تربیت ایک بنیادی فریضہ(حصه دوم)

اولاد کے عقيدہ ، اعمال ، اخلاق اور تعليم وتربيت کي فکر بہت ضروري ہے ۔ عقائد کا تعلق ايمان سے ہے ، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دين سے ہے، قرآن کريم ميں ہے کہ انبياء کرام عليہم السلام نے بھي اپني اپني اولاد کي فکر کي‘ حضرت يعقوب عليہ السلام نے ديني فکر کرتے ہوئے اپني اولاد سے سواليہ انداز ميں استفسار کيا کہ: ”‌ ما تعبدون من بعدي“ -(البقرہ:133)( ميرے بعد تم کس کي بندگي کروگے؟)

يہ اولاد کے ايمان کي فکر ہے- اسي طرح حضرت ابراہيم عليہ السلام اور حضرت يعقوب عليہ السلام نے اپني اپني اولاد کو وصيت کي:

”‌يٰبني ان اللہ اصطفي لکم الدين فلاتموتن الا وانتم مسلمون“- (البقرہ:132)

ترجمہ:”‌ميرے بيٹو اللہ تعاليٰ اس دين (اسلام) تمہارے لئے منتخب فرمايا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسي حالت پر جان مت دينا“-

حضرت اسماعيل عليہ السلام کااپني اولاد کے متعلق يہ ارشاد:

”‌وکان يأمر اہلہ بالصلوٰة والزکوٰة“-

ترجمہ:”‌اوراپنے متعلقين کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے رہے تھے“- (مريم:55)

جبکہ آج کااکثر مسلمان طبقہ اپني اولاد کو اچھي باتوں کا حکم نہيں ديتا‘ اپني اولاداور بيوي بچوں کو خوش کرنے کے لئے دين وشريعت کي پرواہ نہيں کرتا‘ بلکہ الٹا ان کي ناجائز خواہشات کو پورا کرکے اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرديتا ہے-

آپ عليہ السلام نے ہر انسان پر کسي نہ کسي درجہ ميں ايک ذمہ داري عائد کي ہے، اور فرمايا:”‌کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعيتہ“يعني”‌تم ميں سے ہرايک نگران ہے اور ہرايک سے اس کے ماتحتوں بارے ميں پوچھاجائے گا“-

آج معاشرہ ميں ہرطرف بے ديني کا سيلاب ہے‘ مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہيں‘ ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہيں اور ہم مسلمان والدين ہيں کہ ہميں اس کي کوئي فکر اور پرواہ ہي نہيں۔


متعلقہ تحریریں:

اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت

تربيت ميں محبت کي اہميت و ضرورت