• صارفین کی تعداد :
  • 4498
  • 6/18/2014
  • تاريخ :

تربيت ميں محبت کي اہميت و ضرورت

بچہ

محبت لوگوں ميں ميل ملاپ اور يکجہتي کا سبب ہے- اگر محبت کا جزبہ نہ ہوتا تو لوگوں ميں انس و محبت نہ ہوتي، کوئي  بھي انسان کسي دوسرے کي ذمہ داري قبول کرنے کو تيار نہ ہوتا اور ايثار و قرباني جيسے لفظوں کا وجود نہ ہوتا-

محبت و الفت پيدا کرنے والے کام تمام انسانوں کے ليے نہايت ضروري ہيں- خاص طور پر تعليمي و تربيتي اداروں کے ليے، اس ليے کہ محبت ہي ايسي شي ہے جو جسم و روح کي سلامتي کے ساتھ ساتھ انسان کي اخلاقي براءيوں اور کمزوريوں کي اصلاح اور بہبود روابط کا ذريعہ بنتي ہے-

خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں متعدد مقامات پر اپني محبت کا ذکر فرمايا ہے:

فان اللہ يحب المتقين (سورہ آل عمران آيہ 76) اللہ متقين کو دوست رکھتا ہے-

فان اللہ يحب المحسنين (سورہ آل عمران آيہ 138) اللہ نيک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے-

انسانوں سے رابطہ کي زبان، خاص طور پر بچوں سے رابطہ کي زبان محبت ہوني چاہيے- غصہ و تندي و سختي سے کسي کي تربيت نہيں کي جا سکتي-

تربيت ميں محبت کي اہميت اس ليے بھي بڑھ جاتي ہے کہ محبت، اطاعت سکھاتي ہے اور محبت والے ايک دوسرے سے جڑ جاتے ہيں-

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا: والمرء مع من احب- انسان اس کا ساتھ ديتا ہے جسے پسند کرتا ہے-

محبت و اطاعت ميں معيت (ساتھ رہنا) کا رابطہ پايا جاتا ہے، محبت کے ظہور کے ساتھ اطاعت و ہمراہي کا جذبہ پيدا ہو جاتا ہے- اگر بچے کے دل ميں والدين کي محبت بيٹھ گءي تو بچہ ان کا مطيع و فرماں بردار بن جاءے گا اور اس کے اوپر جو ذمہ دارياں ڈالي جاءيں گي وہ ان سے نافرماني نہيں کرے گا-

محبت، بچوں کي ذہني نشو و نما اور روحي تعادل کے مھم اسباب ميں سے ہے- ان کي ذاتي خوبياں اور سلوک کافي حد تک محبت کي مرہون منت ہيں جو انہيں اس تربيت کے دوران ملي ہے، گھر کي محبت بھري فضا اور محبت سے مملو ماحول بچوں ميں نرم جذبات اور ظ–فضاءل کے رشد کا سبب ہے جو بچے محبت بھرے ماحول ميں تربيت پاتے ہيں وہ کمال تک پہچتے ہيں ، اچھتے ڈھنگ سے سيکھتے ہيں اور دوسروں سے محبت کرتے ہيں اور سماج و معاشرہ ميں بہتر انساني اقدار کے حامل ہوتے ہيں - مہر و محبت ہي ہے کہ جو زندگي کو پر لطف اور با معنا بنتي ہے اور بچوں کي استعداد کي شگوفاءي اور ظہور کا سبب بنتي ہيں اور اس ميں سعي و کوشش اور تخليقي صلاحيتيں پيدا کرتي ہيں-

محبت کي بنياد، بچوں اور نوجوانوں کي تربيت کرنا، بنيادي انساني اور اسلامي طريقوں ميں سے ہے- پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم بچوں سے بہت محبت فرمايا کرتے تھے اور ان سے اچھا سلوک کرتے تھے اور ہميشہ فرماتے تھے:

احبوا الصبيان وارحموھم -

بچوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ الفت و محبت سے پيش آو -

والدين کو چاہيے کہ وہ قلبي طور پر اپنے عمل سے بچوں کو يہ يقين دلاءيں کہ وہ انہيں دوست رکھتے ہيں، ان کي يہ بات بچوں پر مثبت اثر ڈالے گي اور کچھ ہي عرصہ ميں اس کا نتيجہ سامنے آ جاءے گا-

والدين، بچوں ميں ايسي تبديلي لانا چاہتے ہيں جو ان کي ذات کو تعمير کرے اور مخصوص اعتقادات ان کے اندر جنم ليں تو ظاہر ہے کہ يہ کام بغير محبت اور دوستي کے کيسے ممکن ہو سکتا ہے؟ جس کا مقصد انہيں رشد و کمال کي طرف لے جانا ہے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

ماں باپ كى ذمہ داري

ماں بچوں کي تربيت کيسے کرے