• صارفین کی تعداد :
  • 2836
  • 1/6/2014
  • تاريخ :

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ہفتم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء ( حصّہ ہفتم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء (حصّہ اوّل)

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ چہارم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ پنجم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ششم )

* ايک رائے يہ بھي ہے کہ امام عليہ السلام کا وصال طبعي موت کا نتيجہ تھا اور نہ تو آپ (ع) مسموم ہوئي تھي اور نہ ہي کسي نے آپ (ع) کو قتل کرني کي سازش کي تھي- يہ رائے ديني والوں نے بعض دليليں بھي بيان کي ہيں-

ابن جوزي اس رائے کي قائل ہيں- انھوں نے ديگر مۆلفين کي يہ رائے نقل کي ہے کہ: «امام عليہ السلام حمام گئي تھي؛ حمام ميں آپ (ع) کے سامنے ايک طشت انگور کا رکھا گيا جس ميں رکھے ہوئے انگور کي دانوں کو سوئي کے ذريعے زہر سے آلودہ کيا گيا تھا چنانچہ آپ (ع) انگور تناول فرماني کے بعد وصال کرگئي»؛ اور اس کے بعد رقمطراز ہيں: يہ بات درست نہيں ہے کہ مأمون کو اس عمل ميں ملوث قرار ديا جائے کيونکہ اگر اس نے انگور مسموم کرکے آپ (ع) بھيجا تھا تو پھر وہ آپ (ع) وصال پر اتنا ملول و محزون کيوں ہوا اور اتني بي چيني کا اظہار کيوں کررہا تھا؟  ابن جوزي کي بقول يہ واقعہ مأمون پر اتنا گران گزرا کہ کئي روز تک کھانا پينا تک چھور ديا اور دنيا کي تمام لذتوں سے دوري اختيار کي- (7)

يہاں يہ بات قابل ذکر ہے کہ ايک طرف سے تو ابن جوزي کہتا ہے کہ امام کا وصال طبعي موت کا نتيجہ تھا اور دوسري طرف سے تسليم کرتا ہے کہ حمام ميں آپ (ع) کو زہريلا انگور ديا گيا شايد ان کي بات کا يوں مفہوم ليا جائے کہ مأمون کي وليعہد کو مأمون کي موجودگي ميں کسي اور نے قتل کيا اور مأمون بہت مغموم ہوا ليکن اس صورت ميں سوال يہ ہے کہ مأمون نے قاتلوں کے ساتھ کيا سلوک کيا؟ اور ايسي کوئي بات تاريخ ميں نہيں ملتي کہ کوئي قاتل پکرا گيا ہو اور اس کو سزا دي گئي ہو- اور اس سوال کا جواب دھوندتے ہوئے الزام کي انگلي سيدھي مأمون کي طرف ہي اٹھتي ہے بادشاہ اور صاحب اختيار جو تھا!-

بہر حال ابن جوزي کا اصرار ہے کہ مأمون اس قتل ميں ملوث نہيں تھا-

«اربلى‏» نے بھي ابن جوزي کي پيروي کرتے ہوئے يہي رائے بيان کي ہے اور اس رائے کے لئے وہي دليل بيان کي ہے جو اربلي نے بيان کي تھي- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام رضا (ع) کا کلام توحيد کے متعلق

معرفت، اخلاص کے بغير ميسر نہيں ہوتي