• صارفین کی تعداد :
  • 2442
  • 9/23/2012
  • تاريخ :

حضرت امام رضا (ع) کا کلام توحيد کے متعلق

حضرت امام رضا (ع)

            روايت ہے کہ جب مامون نے ارادہ کيا کہ امام رضا عليہ السلام کو ولي عہدي کيلئے منصوب کيا جائے تو بني ہاشم کو جمع کيااور کہا: ميں چاہتا ہوں کہ خلافت کو اپنے بعد امام رضا عليہ السلام کے سپرد کردوں- بني ہاشم نے امام عليہ السلام کے ساتھ حسد کيا اور کہا: تم چاہتے ہو کہ اُس شخص کو خلافت دو جو اس بارے ميں بالکل بے خبر ہے-

اگر تو چاہتا ہے کہ اُن کي لاعلمي تجھ پر ظاہر ہو تو کسي کو بھيج کو بلا تاکہ وہ آئيں - مامون نے آنحضرت کي طرف کسي کو بھيجا- امام عليہ السلام تشريف لائے- بني ہاشم نے عرض کيا: اے اباالحسن ! منبر پر جائيں اور خدا کي توصيف کريں ، اس طرح کہ ہم اس پر اُس کي عبادت کرسکيں-

امام عليہ السلام منبر پر گئے- تھوڑي دير کيلئے بيٹھے اور غور کيا- کھڑے ہوئے- خداکي حمدوثناء کے بعد پيغمبر اور آلِ پيغمبر پر درود بھيجنے کے بعد اس طرح گفتگو کي:

سب سے پہلے خدا کي عبادت اُس کي معرفت ہے اور خدا کي اصل معرفت اُس کي توحيد ہے- اُس کي توحيد کا کمال اس ميں ہے کہ صفات(زائد بر ذات) کي نفي کي جائے کيونکہ عقليں گواہيں ديتي ہيں کہ ہر صفت اور ہر موصوف اُس کي مخلوق ہے- ہر موصوف گواہي ديتا ہے کہ اُس کا کوئي خالق ہے- جو اس طرح کي صفت نہيں رکھتا- اس طرح کي صفت کے ساتھ موصوف نہيں ہے- ہر صفت و موصوف ايک دوسرے کے ساتھ ارتباط کي گواہي ديتے ہيں- يہ ارتباط گواہي ديتا ہے اُس کے حدوث کے متعلق اور حدوث کسي کے ازلي نہ ہونے کي گواہي ديتا ہے کيونکہ کسي حادث شے کا ازلي ہونا محال ہے-پس جس نے خد اکو تشبيہ کے ساتھ جاننے کي کوشش کي تو اُس نے کچھ نہ جانا- جو خدا کو اُس کي حقيقت کے ساتھ جاننا چاہے، اُس نے خدا کو ايک نہيں جانا- جو کوئي خدا کيلئے مثال پيش کرے، وہ خدا کي حقيقت تک نہيں پہنچ سکتا- جو اُس کي عنايت کا تصور کرے، اُس نے اُس کي تصديق نہيں کي- جس نے اُس کي طرف اشارہ کيا، اُس نے اُس کا ارادہ نہيں کيا- جس نے اُس کي کسي چيز کے ساتھ تشبيہ کي، اُس نے اُس کا قصد نہيں کيا- جو کوئي اُس کي جزيت کا قائل ہوا، وہ اُس کيلئے ذليل و خوار نہ ہوا-جو کوئي اُس کو وہم وخيال ميں لائے، اُس نے اُس کا ارادہ نہيں کيا- جو خود بخود پہچانا جائے، وہ مصنوع ہے اور بنا ہوا ہے- جو کسي دوسرے کي وجہ سے قائم ہو ، وہ معلول ہے- اُس کے وجود اور خلقت کيلئے دليل لائي جائے- عقل کے ذريعے اُس کي معرفت کيلئے راہ تلاش کي جائے اور حجت ِ خدا ہر ايک کي فطرت ميں موجود ہے-

خدا کا اپني مخلوق کو پيدا کرنا اُس کے اور مخلوق کے درميان ايک پردہ ہے- خدا کا اپني مخلوق سے مختلف ہونا خدا اور اُس کي مخلوق کے ساتھ جدائي ہے- خدا کا خلق کرنے ميں ابتداء کرنا اس بات کي دليل ہے کہ خدا کيلئے ابتداء نہيں ہے کيونکہ جس کيلئے ابتداء ہو، وہ اس سے عاجز ہوتا ہے کہ کسي کي ابتدء کرسکے-خدا کا مخلوق کو آلات و اسباب دينا اس بات کي دليل ہے کہ خدا کے اسباب وآلات نہيں ہيں کيونکہ آلات و اسباب مادي چيزوں کي محتاجي پر دليل ہوتے ہيں-

خدا کے نام اُس سے تعبير ہيں(نہ کہ عين ذات) اور خدا کے افعال اُس کي معرفت کا ذريعہ ہيں- اُس کي ذات اُس کي عين حقيقت ہے- اُس کي حقيقت اُس کے اور اُس کي مخلوق کے درميان جدائي ہے- اس کي غيريت اُس کے غير کو محدود کرنے والي ہے- جيسا کہ يہ بھي ثابت کرتي ہے کہ اُس کا غير محدود ہے-

جس نے خدا کا وصف بيان کيا، وہ خدا سے جاہل رہااوراُس نے خدا پر تجاوز کيا جس نے خدا کے ساتھ کسي چيز کو شامل کيا-اس نے غلطي کي جس نے اُس کي حقيقت تک پہنچنے کي کوشش کي-جو يہ کہتا ہے کہ خدا کيسا ہے، اُس نے تشبيہ دي اور جو يہ کہتا ہے کہ خدا اس طرح کا ہے، وہ اس کيلئے علت و وجہ ڈھونڈنے کے درپے ہوگيا- جو يہ کہے کہ خدا کس زمانے ميں وجود ميں آيا، اُس نے اُسے زمانے کے ساتھ محدود کرديا- جو يہ کہتا ہے کہ خدا کس ميں ہے، اُس نے اُسے کسي چيز کے اندر فرض کيا- جو يہ کہتا ہے کہ خدا کس وقت تک ہے، اُس نے اُس کيلئے نہايت فرض کي-

جو يہ کہتا ہے کہ وہ کس وقت تک ہے، اُس نے اُسے وقت کے ساتھ محدود کرديا اور اُس کے لئے نہايت فرض کي- وہ اس کيلئے مدت کا قائل ہوا-جو اُس کے لئے مدت کا قائل ہے، اُس نے اُس کا تجزيہ کيا ہے اور جس نے اُس کا تجزيہ کيا ، اُس نے اُس کا وصف بيان کيا - جس نے اُس کي توصيف کرنے کي کوشش کي اور چيزوں کي مانند قرار ديا، جس نے ايسا کيا وہ حق کے راستہ سے منحرف ہوا اور کافر ہوگيا-

مخلوق کي تبديلي کے ساتھ خدا ميں تبديلي نہيں آتي- کسي محدود کي تحديد کے ساتھ خدا محدود نہيں ہوتا- خدا ايک ہے- نہ تو کسي مقام ميں شمار کرنے سے وہ ظاہر ہے اور نہ اُسے آنکھ کے ساتھ ديکھا جا سکتا ہے- اُس کے ساتھ ملاقات کي جاسکتي ہے - خدا تجلي اور ظہور رکھتا ہے- نہ ايسے کہ ديکھا جا سکے ، نہ ايسے کہ ظاہر سے باطن کي طرف منتقل ہو- مخلوق سے جدا اور سباين سے نہ مسافت کے ساتھ- اپني مخلوق کے نزديک ہے، نہ جہت ِ مکان کے لحاظ سے-

وہ لطيف ہے نہ جسمانيت کے ساتھ  وہ موجود ہے نہ اس طرح کہ اُس کا وجود عدم کے بعد ہو- امور کو انجام دينے والا ہے نہ جبر و ظلم کے ساتھ-بغير فکر کے امور کي اندازہ گيري کرتا ہے- بغير کسي حرکت کے امور کي تدبير کرتا ہے- بغير اس کے کہ ذہن ميں لائے، ارادہ کرتا ہے- درک کرنے والا ہے بغير اس کے کہ کوشش کرے ،سننے والا ہے بغير آلہ و اسباب کے، ديکھتا ہے ديکھنے والي چيز کے بغير-

زمانے کے ساتھ مربوط نہيں ہے- مکان اُس کو اپنے اندر نہيں لے سکتے- نيند اور اونگھ اُسے نہيںآ تي- اوصاف اُس کو محدود نہيں کرتا- آلات و اسباب اُسے کوئي نفع نہيں ديتے-

اُس کا وجود زمانے سے پہلے ہے- اُس کا وجود عدم سے سبقت رکھتا ہے- اُس کا ازلي ہونا ہر ابتداء پر مقدم ہے- جب اُس نے آدمي کے شعور کو درک کرنے کي قدرت دي تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے لئے آلاتِ شعور نہيں ہيں کيونکہ اُس نے چيزوں کے جوہر اور ماہيت کو پيدا کيا ہے- معلوم ہوا کہ اُس کيلئے ممکنات کي طرح ماہيت نہيں ہے کيونکہ اُس نے چيزوں کے درميان ضديں پيدا کي ہيں- معلوم ہوا کہ اُس کيلئے کوئي ضد نہيں ہے کيونکہ اُس نے امور کے درميان مقارفت قرار دي ہے- معلوم ہوا کہ اُس کے لئے کوئي قرين اور ساتھي نہيں ہے- اُس نے روشني کو تاريکي کي ضد ،ظاہر کو پوشيدہ کي ضد، خشک کو تر کي ضد اور سردي کو گرمي کي ضد قرار ديا ہے-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

سفر امام رضا (ع)، مدينہ تا مرو