• صارفین کی تعداد :
  • 2537
  • 12/31/2013
  • تاريخ :

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ اوّل )

اس امر کا سبب يہ نہيں تھا کہ ائمہ معصومين عليہم السلام گمنام تھے يا وہ معاشرے ميں خدمت دين کے حوالے سے کام نہيں کررہے تھے يا عوام ـ حتي علماء ـ ان کو توجہ نہيں ديتے تھے- بلکہ سبب وہي تھا جس کي طرف اشارہ ہوا ورنہ لوگ يا تو ان کے دوست اور محب تھے يا پھر ان کے دشمن يا مخالف تھے اور دونوں صورتوں ميں ان کا کسي نہ کسي انداز ميں ائمہ عليہم السلام کے ساتھ واسطہ پڑہي جاتا تھا تا ہم کئي کتابوں ميں ان کے نام ذکر کرنے سے بھي اجتناب کيا گيا ہے- جبکہ ان ہي کتابوں ميں اس دور کي رقاصاۆں اور گلوکاراۆں کے نام يا اس دور کے مشہور ڈاکۆوں کے نام پڑھنے کو ملتے ہيں!

اگر اس مسئلے کا ديني پہلو نظر انداز بھي کيا جائے پھر بھي ادب اور تأليف و تصنيف اور تاريخ نويسي کي دنيا اور اخلاق قلم و کتابت کي روسے يہ ايک پيشہ ورانہ خيانت ہے انھوں نے اپنے دور کے حقائق سے چشم پوشي کرکے آئندہ مسلم نسلوں سے خيانت کي ہے اور اہل قلم ہونے کے ناطي انہيں جو امانت بعد کي نسلوں تک پہنچاني تھي اس ميں وہ خيانت کے مرتکب ہوئے ہيں-

حکومت ان ہي مستوفيوں، منشيوں اور تحصيلداروں کي حمايت کرتي تھي يا يوں کہئے کہ حکومت ان کے ہاتھ ميں تھي چنانچہ تشريح حقائق کے حوالے سے اہل تشيع کے پاس تأليف و تصنيف کے لئے بہت ہي قليل وسائل ميسر تھے اور انہيں ہر وقت حکام اور اہل دربار کے عتاب و تعاقب کا سامنا تھا اور ان کي جان ہر وقت خطرے ميں رہتي تھي-

بہر حال حکام وقت مختلف علماء اور دانشوروں کو دور افتادہ علاقوں سے اپنے پاس بلوايا کرتے تھے اور اس بات سے يہ سوال جنم ليتا ہے کہ ائمۂ طاہرين عليہم السلام علم و دانش کي چوٹي پر تھے تو پھر حکام ان کے ساتھ کيوں عداوت برتتے تھے کيا يہ حکام کے عمل ميں تضاد کي علامت نہيں ہے؟

اس سوال کا جواب يہ ہے کہ: ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

امام رضا عليہ السلام  کي دعائيں نماز اور تعقيباتِ نماز کے متعلق

نمازِ وتر کي قنوت ميں امام رضا عليہ السلام کي دعا