• صارفین کی تعداد :
  • 2949
  • 1/5/2014
  • تاريخ :

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ششم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء ( حصّہ ششم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء (حصّہ اوّل)

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ چہارم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ پنجم )

 

* بعض ديگر نے تسليم کيا ہے کہ امام کو مسموم کيا گيا مگر ان کي رائے يہ ہے کہ يہ جرم عباسيوں نے کيا ہے [جبکہ مامون اس سے بري الذمہ تھا]- سيداميرعلي کي رائے بھي يہي ہے- اور احمد امين المصري نے بھي يہي رائے نقل کي ہے- (5)

اس رائے کي صرف ايک سند ہے جو اربلي نے نقل کي ہے اور وہ ايک مبہم عبارت ہے- انھوں نے لکھا ہے کہ «جب انھوں نے (عباسيوں نے) نے ديکھا کہ خلافت فرزندان علي عليہ السلام کو منتقل ہوگئي ہے تو انھوں نے علي بن موسي (ع) کو زہر ديا اور آپ (ع) ماہ مبارک رمضان کے ايام ميں طوس کے مقام پر دنيا سے رخصت ہوئے»- (6)

* ايک رائے يہ ہے کہ امام عليہ السلام عباسي بادشاہ مأمون بن ہارون کے ہاتھوں مسموم ہوئے ليکن اس نے يہ عمل اپنے وزير فضل بن سہل کي ترغيب اور اس کے کہنے پر انجام ديا-

البتہ ہماري رائے کے مطابق مأمون کو کسي ترغيب يا ہدايت و راہنمائي کي ضرورت نہيں تھي کيونکہ وہ خود امام عليہ السلام کے مقام و منزلت کا بخوبي ادراک کرچکا تھا اور يہ بات بالکل واضح ہے کہ يہ رائے دينے والي مۆرخين نے جب محسوس کيا کہ مأمون کو اس قتل سے کلي طورپر بري الذمہ قرار دينا ممکن نہيں ہے تو انھوں نے لکھا کہ يہ درست ہے کہ مأمون اس قتل کا مرتکب ہوا ہے ليکن يہ کام اس نے اپنے ارادے سے نہيں بلکہ فضل بن سہل کي ترغيب پر انجام ديا تھا گو وہ پھر بھي مأمون کي بے گناہي ثابت کرنے پر بضد ہيں- جبکہ تاريخي حقيقت يہ ہے کہ فضل بن سہل امام کي شہادت سے کافي عرصہ قبل ـ مأمون کے طوس آنے سے پہلے ـ اس کے جلادوں کے ہاتھوں قتل ہوچکا تھا چنانچہ يہ تسليم کرنا ممکن نہيں ہے کہ مأمون نے امام کو اپنے مقتول وزير کي خوشنودي حاصل کرنے کے لئے امام عليہ السلام کو شہيد کرديا تھا ورنہ وہ خود ہرگز اس عمل کا روادار نہ تھا - ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

شہادت امام رضا عليہ السلام کے اہم نکات

امام رضا (عليہ السلام) کي زيارت کي فضيلت