• صارفین کی تعداد :
  • 2936
  • 12/18/2013
  • تاريخ :

 حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيد حسن نصراللہ سے بات چيت

 حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے بات چیت

سيد حسن نصر اللہ کا خصوصي انٹرويو (حصہ اول )

سيد حسن نصر اللہ  سے بات چيت (حصہ دوم)

سيد حسن نصر اللہ کا انٹرويو (حصہ سوم)

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے کہا جب مسلح دھشتگرد دمشق ميں حضرت زينب سلام اللہ عليہا کے حرم مقدس کو ويران کرنے کا ارادہ کررہے تھے اور دھشتگردوں کا يہ اقدام علاقے ميں فتنہ و فساد کا موجب بن سکتا تھا ، ہم نے 40 سے ليکر 50 تک افراد حرم مقدس کے دفاع کے لئے روانہ کيئے تھے- سيد حسن نصر اللہ نے تاکيد کي قصير کے باشندوں نے فيصلہ کيا کہ وہ خود اپنا دفاع کريں گے اور انہوں نے ٹرينگ کي درخواست کي اس لئے ان کو ضروري تربيت دي گئي- حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ شام ميں ہماري مداخت منطقي و حقيقي تھي ، اور کسي دوسرے ملک ميں ہماري فورسز نہيں ہيں--- شام ميں دسيوں لبناني کا قتل ہوا ہے ليکن ہم اپنے مقتولين کا اعلان کررہے ہيں ہم اپنے شہداء کے سامنے سرخ رو ہيں ہميں ان پر فخر ہے- سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودي عرب شام ميں جنگ پر اصرار کررہا ہے جبکہ عالمي برادري سياسي راہ کي تلاش ميں ہے شايد بعض ممالک کو سياسي راہ حل کے حوالے سے زيادہ جلدي نہ ہو ليکن دنيا کي توجہ سياسي راہ حل کي جانب ہے اور اکثر يورپي و عرب ممالک شام کے نظام کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے درپے ہيں ليکن سعودي عرب ، خون کے آخري قطرے تک جنگ کو جاري رکھنے پر اصرار کررہا ہے اور کسي بھي سياسي راہ حل کو قبول نہيں کرتا- حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے خبر دار کيا کہ سعودي عرب کے انٹيليجينس ادارے القاعدہ کے اکثر دھڑوں کو فعّال کيئے ہوئے ہيں اور ميں يہ سمجھتا ہوں کہ  بيروت ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے سفارت خانے کے قريب ہونے والے خودکش دھماکوں ميں (عبداللہ عزام) بريگيڈ کا ہاتھ ہے اور يہ گروہ سعودي عرب کا حمايتي يافتہ ہے- سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ عراق ميں رونما ہونے والے اکثر بم دہماکوں ميں سعودي عرب کے خفيہ اداروں کا ہاتھ ہے- حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے لبنان کے شہر طرابلس ميں رونما ہونے والي حاليہ جھڑپوں کے بارے ميں کہا کہ حکومت حتمي طور پر طرابلس کے حوالے سے راہ حل پيدا کرنے کے لئے اپني ذمہ داريوں کو قبول کرے ، کہا جارہا ہے کہ طرابلس کو فوجي علاقہ قرار ديا جانا ايک غلطي ہے اور ميقاتي پر خيانت کرنے کا الزام عائد کيا جارہا ہے ليکن جب بعلبک ميں ايک طويل عرصے تک فوج تعيينات رہي اور اس علاقے کو فوجي علاقہ قرار ديا گيا کسي نے بھي نہيں کہا کہ يہ کام شيعوں کو نشانہ بنانے کے لئے کيا گيا ہے-   

بشکريہ اردو ريڈيو تھران


متعلقہ تحریریں:

مرحوم محمد خياباني کي بہادري

استاد محمد جعفر طبسي ، ابنا نيوز ايجنسي کے ساتھ